اسماءُ الحسنیٰ

اسماءُ الحسنیٰ
اللہ کے 99 ناموں کی فضیلت، معنی اور ذکر کا صحیح طریقہ’حصہ اول’

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اپنی پہچان کا ایک راستہ اپنے ناموں کو بنایا ہے۔ ہم جب کسی مشکل میں “یا رزّاق” کہتے ہیں یا گناہ کے بعد “یا غفّار” پکارتے ہیں، تو دراصل ہم اللہ تعالیٰ کو اسی کے بتائے ہوئے ناموں کے ساتھ پکار رہے ہوتے ہیں۔ یہی اسماءُ الحسنیٰ ہیں۔ ہمارے پچھلے مضمون رزق میں برکت کا وظیفہ میں بھی یہی اصول کارفرما تھا: اللہ کے نام لے کر مانگنا، اور اس پر توکل رکھنا۔ توکل کی حقیقت کیا ہے، یہ ہم پہلے “توکل کیا ہے” میں تفصیل سے بیان کر چکے ہیں۔

اس مضمون میں ہم ترتیب سے دیکھیں گے: اسماءُ الحسنیٰ کیا ہیں، ننانوے ناموں والی حدیث کا اصل مفہوم، اسمِ اعظم کسے کہتے ہیں، دعا و ذکر کے آداب، اور بزرگانِ دین سے منقول چند معمولات — جنہیں حدیث سے ثابت باتوں سے الگ رکھ کر سمجھنا ضروری ہے۔

اسماءُ الحسنیٰ کیا ہیں؟

“”اسماء” اسم کی جمع ہے یعنی نام، اور “الحسنیٰ” کا مطلب ہے بہترین اور خوب ترین۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کے ناموں کو “اسماءُ الحسنیٰ” کہا گیا ہے، یعنی ایسے نام جو حسن و کمال کے آخری درجے پر ہیں۔

امام فخر الدین رازیؒ نے ان ناموں کو “حسنیٰ” کہنے کی تین وجوہات بیان کی ہیں۔
٭ذات کا کمال: اللہ تعالیٰ کی ذاتِ گرامی سب سے بلند اور ہر نقص سے پاک ہے۔ ذات اپنے ناموں ہی سے پہچانی جاتی ہے۔

٭صفات کا اظہار: ان ناموں میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت، جلال و عزت، احسان، رحم و کرم اور اس کے بے مثل ہونے کا بیان ہے۔ ہر نام اس کی گواہی دیتا ہے کہ وہی رحمٰن بھی ہے، رحیم بھی، خالق بھی اور واحد بھی۔

٭شرکت سے پاکی: ان ناموں سے اللہ تعالیٰ نے اپنی حمد کے قابل صفات ظاہر فرمائی ہیں، جن میں کوئی اس کا شریک نہیں۔

قرآن مجید میں اسماءُ الحسنیٰ کا حکم

سب سے صریح حکم سورۃ الاعراف میں ہے۔

اسماءُ الحسنیٰ
اسماءُ الحسنیٰ

(الاعراف: 180)

ترجمہ: اور اللہ ہی کے لیے اچھے نام ہیں، پس انہی سے اسے پکارو، اور ان لوگوں کو چھوڑ دو جو اس کے ناموں میں کج روی کرتے ہیں۔

اس آیت سے تین باتیں سامنے آتی ہیں: اللہ کے نام اچھے ہیں، انہی ناموں سے دعا مانگنے کا حکم ہے، اور ناموں میں کج روی سے منع کیا گیا ہے۔ دعا کے ادب و آداب کا مکمل بیان ہم پہلے “دعا کے آداب”میں کر چکے ہیں، اور جیسا وہاں بتایا گیا، وہی آداب یہاں اسماء کے ساتھ دعا پر بھی لاگو ہوتے ہیں۔

سورۃ الاسراء (110) میں فرمایا: “اللہ کہہ کر پکارو یا رحمٰن کہہ کر، جس نام سے بھی پکارو، سب اچھے نام اسی کے ہیں۔” اور سورۃ الحشر (24) میں تین نام ایک ساتھ بیان ہوئے: الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ۔

ننانوے ناموں والی حدیث

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے، نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

إِنَّ لِلَّهِ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ اسْمًا، مِائَةً إِلَّا وَاحِدًا، مَنْ أَحْصَاهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ (بخاری، مسلم)

ترجمہ: بے شک اللہ کے ننانوے نام ہیں، ایک کم سو، جس نے انہیں “محفوظ کر لیا” وہ جنت میں داخل ہوا۔

“احصاء” کا مطلب کیا ہے؟

علمائے کرام نے اسے تین درجوں میں بیان کیا ہے۔

٭الفاظ یاد کرنا: ناموں کو گن کر اور یاد کر کے زبان پر جاری رکھنا۔

٭معنی اور تقاضے سمجھنا: ہر نام کا مفہوم جاننا اور ان صفات پر غور کرنا۔

ان کے مطابق زندگی ڈھالنا اور ان سے دعا کرنا۔

جو شخص “الرَّزَّاق” پڑھتا ہے اور دل میں یقین رکھتا ہے کہ رزق اللہ ہی دیتا ہے، وہ حرام کمائی سے بچے گا۔ جو “الغفّار” پڑھتا ہے وہ توبہ کی طرف بڑھے گا۔ اسم کا ورد اسی وقت پورا فائدہ دیتا ہے جب اس کی صفت کا رنگ زندگی میں بھی نظر آئے۔

کیا اللہ کے نام صرف ننانوے ہیں؟

اسماءُ الحسنیٰ
کیا اللہ کے نام صرف ننانوے ہیں؟

بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ کے نام بس یہی ننانوے ہیں۔ یہ درست نہیں۔ اس حدیث کا مطلب یہ نہیں کہ ناموں کی تعداد ننانوے پر ختم ہے، بلکہ ان ننانوے کو “احصاء” کرنا جنت میں داخلے کا سبب ہے۔ اس کی تائید میں چند باتیں ہیں۔

٭قرآن میں کئی نام ایسے ہیں جو عام مشہور فہرست میں نہیں آتے، مثلاً الرب، المولیٰ، النصیر۔

٭احادیث میں بھی الحنّان، المنّان، الجمیل جیسے نام آتے ہیں۔

٭نبی کریم ﷺ کی مسنون دعا کے الفاظ ہیں: “اے اللہ! میں تجھ سے تیرے ہر اس نام کے واسطے سے سوال کرتا ہوں جس سے تُو نے اپنے آپ کو موسوم کیا، یا اپنی کتاب میں نازل کیا، یا اپنی مخلوق میں سے کسی کو سکھایا، یا اپنے علمِ غیب میں مخصوص رکھا” (مسندِ احمد)۔

عام طور پر ننانوے کی مشہور فہرست جامع ترمذی کی ایک روایت میں آئی ہے۔ محدثین کی ایک بڑی جماعت کے نزدیک یہ تفصیلی فہرست خود نبی ﷺ سے ثابت نہیں، بلکہ راوی کے ذریعے آئی ہے۔ اس لیے کسی ایک فہرست پر اس طرح اصرار نہ کریں کہ باقی ناموں کی نفی ہو جائے، اور ہر نام کو اسی معنی میں استعمال کریں جو شریعت نے بتایا۔.

اسماءُ الحسنیٰ کے ساتھ دعا اور ذکر کے آداب

بزرگوں نے اسماءُ الحسنیٰ کے ذکر اور دعا میں جو شرائط لکھی ہیں، ان کا خلاصہ یہ ہے۔

٭اخلاص: نیت میں رضائے الٰہی کی طلب ہو، صرف دنیوی مقصد نہ ہو۔

٭معنی کا استحضار: پڑھتے وقت نام کا مطلب دل میں ہو۔

٭باوضو اور قبلہ رخ ہونا۔

٭عاجزی اور نیاز سے دعا کرنا۔

٭محنت اور جائز اسباب اختیار کرنا۔

٭فضل پر توکل رکھنا۔

ہر معمول کے شروع اور آخر میں درود شریف پڑھا جائے، اور کوئی عمل تنہا شروع کرنے کے بجائے مستند رہنمائی میں کیا جائے۔ کسی بھی نئی حاجت کے لیے، جیسے شادی کی مشکل میں، پہلے استخارہ کرنا بھی سنت ہے — اس کا مکمل طریقہ ہم “استخارہ کیسے کریں” میں بیان کر چکے ہیں۔

اسمِ اعظم کیا ہے؟

اسماءُ الحسنیٰ
اسمِ اعظم کیا ہے؟

احادیث میں جن کلمات کو “اسمِ اعظم” فرمایا گیا، ان میں سے چند یہ ہیں۔

٭ایک صحابی کی دعا (ابوداؤد، ترمذی)۔

اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ الْأَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِي لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ

نبی ﷺ نے فرمایا: اس نے اللہ سے اس کے اسمِ اعظم کے ساتھ سوال کیا، جس کے ساتھ مانگا جائے تو وہ عطا فرماتا ہے۔

٭دعائے یونس علیہ السلام (ترمذی، مستدرک حاکم)

لَا إِلَهَ إِلَّا أَنتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنتُ مِنَ الظَّالِمِينَ (الانبیاء: 87)

٭“یَا حَیُّ یَا قَیُّومُ”: سنن اربعہ میں اسمِ اعظم کے طور پر اسی کا ذکر آیا ہے۔ سورۃ البقرہ کی آیت الکرسی  اور سورۂ آلِ عمران کی ابتدائی آیات کو بھی اسمِ اعظم فرمایا گیا۔ آیت الکرسی کے مکمل فضائل اور خواص پر ہم پہلے ایک الگ مضمون “آیت الکرسی کا راز”میں لکھ چکے ہیں، جو اسی حفاظتی سلسلے کی کڑی ہے۔

٭حضرت انسؓ کی روایت (ترمذی): نبی ﷺ کسی پریشانی میں فرماتے: يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ بِرَحْمَتِكَ أَسْتَغِيثُ۔

٭”یا ارحم الراحمین”: مستدرک حاکم کی روایت ہے کہ جو تین بار یہ کلمہ پڑھے، فرشتہ اسے کہتا ہے: “مانگ! بے شک ارحم الراحمین” تیری طرف متوجہ ہوا۔

واضح رہے کہ اکثر روایات ایک ہی حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہیں: دعا کی قبولیت کا اصل راز اللہ کے ناموں کے ساتھ توحید، عاجزی اور خلوص سے مانگنے میں ہے۔

دعا قبول ہو تو کیا پڑھیں؟

مستدرک حاکم کی روایت کے مطابق جب دعا کی قبولیت ظاہر ہو تو یہ کلمات پڑھے جائی۔

الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي بِعِزَّتِهِ وَجَلَالِهِ تَتِمُّ الصَّالِحَاتُ

اسماء الحسنیٰ کے فوائد و ثمرات

اسماءُ الحسنیٰ
اسماء الحسنیٰ کے فوائد

سلسلۂ عالیہ سیفیہ کے حضرت اخوند زادہ سیف الرحمن مبارک پوری و خراسانی اپنی مجالس میں اسماء الحسنیٰ کی شرح بیان فرماتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں’

اسمِ ذات: اللہ

جو شخص روزانہ ایک ہزار مرتبہ اسمِ ذات “اللہ” کا ذکر کرے، اللہ تعالیٰ اسے کمالِ یقین نصیب فرماتے ہیں۔

اور جو شخص جمعہ کے روز نمازِ جمعہ سے قبل پاک و صاف ہو کر تنہائی میں دو سو مرتبہ”اللہ”پڑھے، تو اس کے لیے مشکل سے مشکل کام بھی آسان ہو جاتا ہے۔

اسی طرح اگر کوئی مریض ایسا ہو کہ اس کے علاج سے اطباء عاجز آ چکے ہوں، تو اس پر “اسمِ ذات”

مقصدمنقول معمولمعنیاسمِ مبارک
قلب کی غفلت و نسیان سے نجات؛ مکروہ امور سے حفاظتہر نماز کے بعد 100 باربہت مہربانالرَّحْمٰن
قلب میں رقت و شفقت؛ ناگوار امور سے حفاظتروزانہ 100 بارنہایت رحم فرمانے والاالرَّحِيم
صفائیِ قلب اور ظاہری یا باطنی غنازوال کے وقت 120 باربادشاہ، مالکالْمَلِك
آفات سے حفاظت اور عبادت کی توفیقجمعہ کے بعد 185 بارپاکیزہ و منزہالْقُدُّوس
شفا کی دعا اور سلامتیمریض کے سرہانے 136 بارسلامتی دینے والاالسَّلَام
امن، قوت اور ایمانخوف کے وقت 36 بارامن دینے والاالْمُؤْمِن
عالی ہمتی اور حوصلہغسل کے بعد دو رکعت نفل، پھر 100 بارنگہبان و محافظالْمُهَيْمِن
ظاہری و باطنی غنا اور عزت روزانہ 41 بار غالب و عزت والاالْعَزِيز
ظالموں کے شر سے حفاظتصبح و شام 216 بارزبردست اقتدار والاالْجَبَّار
بزرگی و برکت؛ اولادِ نرینہ کے لیے منقولکثرت سے ذکر؛ شبِ زفاف سے قبل 10 باربڑائی والاالْمُتَكَبِّر
آفات سے حفاظت٭7 روز، روزانہ 100 بارپیدا کرنے والاالْخَالِق
حمل اور اولاد کے لیے منقول افطار کے بعد 21 بارصورت دینے والااَلْبَارِیْ اَلْمُصَوِّر
تنگی دور ہونے اور رزق کی کشادگی کے لیے منقولجمعہ کے بعد 100 باربہت بخشنے والاالْغَفَّار
دنیا کی محبت کم؛ دشمنوں پر غلبہکثرت سے ذکرسب پر غالبالْقَهَّار
غنا، قبولیت، ہیبت و بزرگیچاشت کے آخری سجدے میں 14 باربہت عطا کرنے والاالْوَهَّاب
رزق میں وسعتفجر سے پہلے گھر کے کونوں میں 10،10 باررزق دینے والاالرَّزَّاق
امور میں آسانی، قلب کی طہارت و نورانیتفجر کے بعد سینے پر ہاتھ رکھ کر 70 بارکشادگی دینے والاالْفَتَّاح
حقائق و معارف کے انکشاف اور حافظے کی قوتکثرت و مداومتسب کچھ جاننے والاالْعَلِيم
بھوک کی تکلیف سے حفاظت٭40 روز روٹی کے لقمے پر لکھ کر کھاناروکنے والاالْقَابِض
رزق میں فراخیچاشت کے بعد 10 بارکشادگی دینے والاالْبَاسِط
حاجت پوری ہونے کے لیے منقول٭500 بارپست کرنے والاالْخَافِض
ظالموں سے امن٭70 باربلند کرنے والاالرَّافِع
دلوں میں ہیبت و عزتدوشنبہ و جمعہ کی رات، مغرب کے بعد 40 بارعزت دینے والاالْمُعِزّ
حاسد کے حسد سے حفاظت؛ حق کی وصولی٭75 بار، پھر دعاذلت دینے والاالْمُذِلّ
دعا کی قبولیت کے لیے منقولجمعرات، چاشت کے بعد 500 بارسب کچھ سننے والاالسَّمِيع
بصیرت اور نیک اعمال کی توفیقجمعہ کے بعد 100 بارسب کچھ دیکھنے والاالْبَصِير
قلب کو محلِ اسرار بنانے کے لیے منقولنصف شب، باوضو، حضورِ قلب سےفیصلہ کرنے والاالْحَكَم
دلوں میں اثر و قبولیت کے لیے منقولشبِ جمعہ روٹی کے ٹکڑوں پر لکھ کر کھاناعدل کرنے والاالْعَدْل
رزق میں وسعت اور کاموں میں آسانی٭133 بارنہایت مہربان و لطیفاللَّطِيف
مخفی امور کے علم اور مشکل سے نجات کے لیے منقول٭7 دن کثرت سےباخبرالْخَبِير
سرداری میں استحکام؛ پیشے اور سامان میں برکت کے لیے منقولکثرت سے ذکربردبارالْحَلِيم
عزت اور شفا کے لیے منقولکثرت سے ذکرعظمت والاالْعَظِيم
بخار دور ہونے کے لیے منقولبخار والے کے لیے 3 بار لکھ کر باندھنابہت بخشنے والاالْغَفُور
تنگی، تھکن اور ضعف میں نفع کے لیے منقوللکھ کر بدن پر پھیرناقدردان،الشَّكُور
بچے کی نشوونما، سفر اور حاجت کے لیے منقوللکھ کر بچے کو باندھنا؛ مسافر پاس رکھےبلند و برترالْعَلِيّ
علم و معرفت میں کشادگی؛ زوجین میں الفت کے لیے منقولکثرت سے ذکربہت بڑاالْكَبِير
خوف اور آفات سے حفاظتذکر یا لکھ کر پاس رکھناحفاظت کرنے والاالْحَفِيظ
قوت و غذائیت اور سفر کی وحشت سے حفاظت کے لیے منقولمسافر پانی پر 7 بار پڑھ کر پئےقوت دینے والاالْمُقِيت
حساب یا معاملے کے خوف میں اطمینان7 دن، طلوعِ آفتاب سے پہلے اور مغرب کے بعد 20 بارحساب لینے والا،الْحَسِيب
قدر و منزلت میں اضافہذکر یا مشک و زعفران سے لکھ کر پاس رکھنابزرگ و جلیلالْجَلِيل
لوگوں کے دلوں میں اکرام و عزتسوتے وقت کثرت سےبہت کرم والاالْكَرِيم
مال و عیال کی حفاظت؛ گمشدہ چیز کے لیے منقولکثرت سے ذکر؛ حاجت یا خوف میں 7 بارنگہبانالرَّقِيب
قبولیتِ دعا کے لیے منقولدعا کے ساتھ ذکردعا قبول کرنے والاالْمُجِيب
ظاہری و باطنی غنا، فراخ حوصلگی و بردباریکثرت سے ذکروسعت والاالْوَاسِع
مصائب سے نجات اور علم و حکمت میں کشادگیکثرت سے ذکرحکمت والاالْحَكِيم
زوجین میں الفت کے لیے منقولکھانے پر 1000 بار پڑھنامحبت فرمانے والاالْوَدُود
بیماری سے شفا کے لیے منقولایامِ بیض کے روزوں کے ساتھ کثرت سےبزرگ و صاحبِ مجدالْمَجِيد
قلب کو علم و حکمت سے منور کرنے کے لیے منقولسوتے وقت سینے پر ہاتھ رکھ کر 100 باراٹھانے والاالْبَاعِث

ایک سادہ اور متوازن روزانہ معمول

٭درود شریف سے شروع کریں۔

٭اسمِ ذات “اللہ” کا ذکر کریں۔

٭اپنی ضرورت کے مطابق ایک نام چنیں: رزق کے لیے “یا رزّاق”، توبہ کے لیے “یا غفّار”، پریشانی کے لیے “یا حیّ یا قیّوم”۔

٭اس کے معنی پر غور کریں۔

٭آخر میں درود شریف پڑھ کر اپنی حاجت عاجزی سے مانگ لیں۔

نظر بد یا کسی خوف کی صورت میں، اسماء کے ساتھ ساتھ معوذتین کا اہتمام بھی کریں — اس کی تفصیل ہم “نظر بد کی نشانیاں“میں دے چکے ہیں۔ اور جو حفاظتی معمول رات کے وقت لازم ہے، وہ “سورۂ مزمل کا راز“ میں بیان شدہ رات کے قیام سے جڑا ہے۔

عام غلطیاں جن سے بچنا چاہیے

اسماءُ الحسنیٰ
عام غلطیاں جن سے بچنا چاہیے

٭صرف دنیوی مقصد کے لیے اسماء کا ورد، اصل مقصد اللہ کی معرفت اور رضا ہے۔

٭یہ سمجھنا کہ عدد میں کمی سے اثر ختم ہو جائے گا۔

٭نام کو خود مؤثر سمجھنا، اثر اللہ کے حکم سے ہے۔

٭اپنی طرف سے نام گھڑنا۔

٭بغیر رہنمائی طویل عملیات شروع کرنا۔

٭بیماری میں صرف وظیفے پر انحصار، علاج ترک نہ کریں۔

اکثر پوچھے گئے سوالاتFAQ

٭کیا اللہ کے نام صرف ننانوے ہیں؟

نہیں۔ حدیث میں ننانوے ناموں کو شمار کرنے کی فضیلت بتائی گئی ہے، ناموں کو محدود نہیں کیا گیا۔

٭ہر نام کا وظیفہ کیا حدیث سے ثابت ہے؟

نہیں۔ اسماء سے دعا کرنا قرآن و حدیث سے ثابت ہے، جبکہ ہر نام کی مخصوص تعداد زیادہ تر بزرگوں کے تجربات میں سے ہے۔

٭کیا بغیر وضو اسماء پڑھ سکتے ہیں؟

ذکر بغیر وضو بھی ہو سکتا ہے، مگر باوضو اور قبلہ رخ ہونا بہتر ہے۔

٭بیماری، قرض یا رزق کے لیے کون سا نام پڑھیں؟

ہر مقصد کے لیے بزرگوں سے منقول اسماء موجود ہیں (رزق کے لیے رزّاق، وہّاب، فتّاح)، مگر اصل چیز اخلاص اور جائز اسباب ہیں۔

اسماءُ الحسنیٰ صرف یاد کرنے کی چیز نہیں، ایک تعلق کا نام ہیں۔ قرآن نے ان کے ساتھ پکارنے کا حکم دیا، حدیث نے ان کے “احصاء” پر جنت کی بشارت دی، اور بزرگوں نے ان کے ذکر کو تزکیہ اور قربِ الٰہی کا ذریعہ بنایا۔

اے اللہ! ہمیں اپنے اسمائے حسنیٰ کو یاد کرنے، انہیں سمجھنے اور ان کے تقاضوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرما۔ آمین۔

مزید تفصیل کے لیے

اسماءُ الحسنیٰ
بہارِ سیفیہ کتاب

اس مضمون میں ہم نے اسماءُ الحسنیٰ کی فضیلت، اسمِ اعظم اور چند منتخب معمولات بیان کیے ہیں۔ اسماء کے مزید خواص، معمولات اور ان کی تفصیلی ترتیب کتاب “بہارِ سیفیہ” (حصہ سوم) میں درج ہے۔ یہ کتاب حضرت سیف الرحمن مبارک کے مجرب عملیات و وظائف کا مجموعہ ہے، جسے پیر محمد رمضان رضوی سیفی نے مرتب کیا۔

یہ کتاب صرف مَرکزِ اسلام کے ذریعے دستیاب ہے، اور اب اسے آن لائن بھی حاصل کیا جا سکتا ہے۔

 کتاب آن لائن آرڈر کریں → [لنک]

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

رمضان مبارک

رمضان کی برکتیں آپ کے دل کو نور سے بھر دیں اور آپ کی دعائیں قبول ہوں۔ رمضان مبارک!

Scroll to Top