اسماءُ الحسنیٰ: (حصہ دوم)
اللہ کے 99 ناموں کی فضیلت، معنی اور ذکر کا صحیح طریقہ
حصہ اول [لنک] میں ہم نے اسماءُ الحسنیٰ کا تعارف، قرآن کا حکم، ننانوے ناموں والی حدیث، “احصاء” کے تین درجے، اسمِ اعظم اور ذکر کے آداب پڑھے تھے۔ وہیں الرحمن سے الباعث تک کے نام اور ان کے منقول معمولات بھی آئے تھے۔
- اسماءُ الحسنیٰ: (حصہ دوم)
- اللہ کے 99 ناموں کی فضیلت، معنی اور ذکر کا صحیح طریقہ
- جلالی اور جمالی اسماء: اللہ کے ناموں کے دو رنگ
- دعاؤں کی قبولیت اور اللہ کے نام
- "یا ذا الجلال والاکرام" کو لازم پکڑیں
- اگر دعا قبول ہوتی نظر نہ آئے؟
- محبتِ الٰہی: الولی، الودود، الرؤوف، البر
- علمِ نافع: الہادی، النور، الرشید
- روزمرہ زندگی میں اسماء کے تقاضے
- جوڑے والے ناموں کا ادب
- الشہید سے الصبور تک اسماء الحسنیٰ کے فوائد و ثمرات
- عام غلطیاں جن سے بچنا چاہیے
- اکثر پوچھے گئے سوالات(FAQ)
- مزید تفصیل کے لیے
- ننانوے ناموں کی مکمل فہرست (قابلِ توسیع ٹیبل)
اس حصے میں ہم تین سوالوں پر بات کریں گے جو قاری سب سے زیادہ پوچھتا ہے: اسماء کے ساتھ دعا کیسے قبول ہوتی ہے، ان کے ذریعے اللہ کی محبت دل میں کیسے بنتی ہے، اور نفع بخش علم کا ان سے کیا تعلق ہے۔ آخر میں الشہید سے الصبور تک باقی نام اور ان کے منقول معمولات ہیں۔ شروع کرنے سے پہلے ایک بات یاد رکھیں: دعا کے ادب جیسے اخلاص، درود اور عاجزی کے بغیر کوئی نام پڑھنا محض الفاظ دہرانا ہے۔ ان کا تفصیلی بیان ہم “دعا کے آداب” میں کر چکے ہیں۔
جلالی اور جمالی اسماء: اللہ کے ناموں کے دو رنگ
علماء نے اللہ کے ناموں کو سمجھنے کے لیے دو بڑے رنگ بیان کیے ہیں۔
٭جمالی اسماء: جن میں رحمت، محبت اور نرمی جھلکتی ہے، جیسے الرحمن، الرحیم، الودود، الرؤوف، البر، العفو۔
٭جلالی اسماء: جن میں عظمت، قدرت اور غلبہ نمایاں ہے، جیسے القہار، الجبار، المتکبر، المنتقم، القوی۔
یہ تقسیم ہمیں سمجھاتی ہے کہ دونوں اللہ کے کمال ہی کے رنگ ہیں۔ جو شخص اللہ کی رحمت کا ذکر کرے وہ اس کے جلال کو نہ بھولے، اور جلال کا ذکر کرنے والا اس کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔ ایمان کی صحیح کیفیت خوف اور امید کے درمیان ہے۔ اسی لیے جلالی ناموں سے دعا کرتے ہوئے بھی نیت کسی کو نقصان پہنچانے کی نہیں، بلکہ اپنی حفاظت اور اللہ کی عظمت کا اقرار ہونی چاہیے۔
دعاؤں کی قبولیت اور اللہ کے نام

دعا مانگنے والے کے لیے سب سے بڑی تسلی قرآن کی یہ آیت ہے۔
وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ ۖ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ (البقرہ: 186)
ترجمہ: اور جب میرے بندے آپ سے میرے بارے میں پوچھیں تو (کہہ دیں کہ) میں قریب ہوں، پکارنے والے کی پکار کا جواب دیتا ہوں جب وہ مجھے پکارتا ہے۔
یہ آیت بتاتی ہے کہ پکارنے کے لیے کسی واسطے کی ضرورت نہیں۔ اسماء کے ساتھ دعا کا مطلب یہ ہے کہ بندہ اپنی حاجت کے مطابق اللہ کی کوئی صفت چنے، جیسے رزق کی مانگ میں “یا رزّاق” اور مغفرت میں “یا غفّار”۔ یہ طریقہ بھی دعا کے ادب میں آتا ہے کہ پہلے اللہ کی حمد و ثنا، پھر درود، پھر حاجت۔
غم اور پریشانی میں نبی ﷺ کی سکھائی ہوئی دعا
حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ نبی رحمتﷺ نے فرمایا کہ جس کسی کو غم یا پریشانی پہنچے اور وہ یہ دعا کرے تو اللہ اس کا غم دور فرما دیتا ہے اور اس کی جگہ کشادگی عطا فرماتا ہے
اللَّهُمَّ إِنِّي عَبْدُكَ، ابْنُ عَبْدِكَ، ابْنُ أَمَتِكَ، نَاصِيَتِي بِيَدِكَ، مَاضٍ فِيَّ حُكْمُكَ، عَدْلٌ فِيَّ قَضَاؤُكَ، أَسْأَلُكَ بِكُلِّ اسْمٍ هُوَ لَكَ سَمَّيْتَ بِهِ نَفْسَكَ، أَوْ عَلَّمْتَهُ أَحَدًا مِنْ خَلْقِكَ، أَوْ أَنْزَلْتَهُ فِي كِتَابِكَ، أَوِ اسْتَأْثَرْتَ بِهِ فِي عِلْمِ الْغَيْبِ عِنْدَكَ، أَنْ تَجْعَلَ الْقُرْآنَ رَبِيعَ قَلْبِي، وَنُورَ صَدْرِي، وَجَلَاءَ حُزْنِي، وَذَهَابَ هَمِّي (مسندِ احمد)
ترجمہ: اے اللہ! میں تیرا بندہ ہوں، تیرے بندے کا بیٹا، تیری بندی کا بیٹا۔ میری پیشانی تیرے ہاتھ میں ہے، مجھ میں تیرا حکم نافذ ہے، میرے بارے میں تیرا فیصلہ عدل ہے۔ میں تجھ سے تیرے ہر اس نام کے واسطے سے سوال کرتا ہوں جو تیرا ہے، جس سے تُو نے اپنے آپ کو موسوم کیا، یا اپنی مخلوق میں سے کسی کو سکھایا، یا اپنی کتاب میں نازل کیا، یا اپنے علمِ غیب میں اپنے پاس رکھا، کہ تُو قرآن کو میرے دل کی بہار، میرے سینے کا نور، میرے غم کا ازالہ اور میری پریشانی کا خاتمہ بنا دے۔
اس دعا میں “بِكُلِّ اسْمٍ” کے الفاظ اس بات کی بھی دلیل ہیں جو ہم حصہ اول میں لکھ چکے ہیں کہ اللہ کے نام ننانوے میں محدود نہیں۔
“یا ذا الجلال والاکرام” کو لازم پکڑیں
نبی ﷺ نے فرمایا۔

یعنی “یا ذا الجلال والاکرام” کو بار بار پکارو۔ اس سے معلوم ہوا کہ ایک نام کے ساتھ ٹھہر کر، بار بار اور دل لگا کر دعا کرنا مسنون طریقہ ہے۔
اگر دعا قبول ہوتی نظر نہ آئے؟
نبی ﷺ کی تعلیم کے مطابق (مسندِ احمد) کوئی مسلمان جب ایسی دعا مانگتا ہے جس میں گناہ یا قطع رحمی نہ ہو تو اللہ اسے تین میں سے ایک چیز ضرور دیتا ہے: وہی چیز جو مانگی تھی، یا اس کی جگہ کوئی برائی ٹال دی جاتی ہے، یا آخرت میں اس کا ذخیرہ کر دیا جاتا ہے۔ اس لیے اسماء کے ورد میں جلد بازی نہ کریں۔
دعا کے بعد اگر کوئی حاجت پوری ہو تو ہم حصہ اول میں بتا چکے ہیں کہ “الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي بِعِزَّتِهِ وَجَلَالِهِ تَتِمُّ الصَّالِحَاتُ” پڑھیں۔ حفاظتی دعاؤں کے سلسلے میں “آیت الکرسی کا راز” بھی پڑھ لیں، جس میں “الحی القیوم” کا ذکر ہے۔
محبتِ الٰہی: الولی، الودود، الرؤوف، البر

بینر کا دوسرا موضوع محبتِ الٰہی ہے۔ قرآن میں اللہ کی محبت اور قرب کو بیان کرنے والے کئی نام آئے ہیں
وَهُوَ الْغَفُورُ الْوَدُودُ (البروج: 14)
وَهُوَ الْوَلِيُّ الْحَمِيدُ (الشوریٰ: 28)
إِنَّ اللَّهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوفٌ رَّحِيمٌ (البقرہ: 143)
لولی کا مطلب ہے دوست اور کارساز۔ اللہ فرماتا ہے
اللَّهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا يُخْرِجُهُم مِّنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ (البقرہ: 257)
یعنی اللہ ایمان والوں کا دوست ہے، انہیں اندھیروں سے روشنی کی طرف نکالتا ہے۔ اللہ کی محبت پانا صرف زبان سے نام لینے سے نہیں، اس کے تقاضوں پر چلنے سے ہوتا ہے۔ جو شخص “الرؤوف” پڑھتا ہے، اسے اپنے گھر والوں اور ماتحتوں سے نرمی بھی سیکھنی چاہیے۔
علمِ نافع: الہادی، النور، الرشید

تیسرا موضوع علم اور ہدایت ہے۔ قرآن کہتا ہے
وَكَفَىٰ بِرَبِّكَ هَادِيًا وَنَصِيرًا (الفرقان: 31)
اللَّهُ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ (النور: 35)
“الہادی” ہدایت دینے والا ہے، “النور” روشنی اور “الرشید” درست راستہ دکھانے والا۔ اس لیے جب کوئی علم، فہم یا سمجھ مانگے تو ان ناموں کے ساتھ دعا کرنا بہت مناسب ہے۔ لیکن علمِ نافع کا اصل ذریعہ پڑھنا، سمجھنا اور عمل کرنا ہے۔ اسماء کا ورد اس کا متبادل نہیں، مددگار ہے۔ جب کسی اہم فیصلے میں راستہ نہ سوجھے تو سنت یہی ہے کہ استخارہ کیا جائے، جس کا طریقہ ہم “استخارہ کیسے کریں” میں بیان کر چکے ہیں۔
روزمرہ زندگی میں اسماء کے تقاضے
اسم کا ورد اسی وقت پورا فائدہ دیتا ہے جب اس کا رنگ زندگی میں بھی نظر آئے۔ یہ غور و فکر کے چند نکات ہیں (حدیث نہیں، تدبر کی ایک ترتیب ہے)
| عملی تقاضا | غور و فکر کا نکتہ | اسمِ مبارک |
| تنہائی میں بھی گناہ سے بچنا، سچ بولنا | اللہ ہر حال میں گواہ ہے | الشَّهِيدُ |
| تکلیف میں صبر، جلد بازی سے پرہیز | وہ بہت بردبار ہے | الصَّبُورُ |
| غصے میں نرمی | وہ بہت شفیق ہے | الرَّؤُوفُ |
| توبہ میں دیر نہ کرنا، دوسروں کو معاف کرنا | وہ توبہ قبول کرتا اور معاف کرتا ہے | التَّوَّابُ، الْعَفُوُّ |
| قناعت، مخلوق سے امیدیں کم کرنا | وہ بے نیاز ہے | الْغَنِيُّ |
| دنیا کے مال پر مغرور نہ ہونا | وہی باقی رہنے والا ہے | الْبَاقِي، الْوَارِثُ |
| مشورہ، استخارہ اور علم کی طلب | وہی راستہ دکھاتا ہے | الْهَادِي، الرَّشِيدُ |
رزق کے لیے اسماء کا ذکر ہم پہلے “رزق میں برکت کا وظیفہ” میں اور توکل کی حقیقت “توکل کیا ہے” میں بیان کر چکے ہیں۔ دونوں کو اس تقاضوں والی ترتیب کے ساتھ پڑھیں۔
جوڑے والے ناموں کا ادب
اسماءُ الحسنیٰ میں کچھ نام اپنے مخالف معنی والے نام کے ساتھ جوڑے کی صورت میں آتے ہیں
الْقَابِضُ اور الْبَاسِطُ (روکنے والا اور کشادگی دینے والا)
الْخَافِضُ اور الرَّافِعُ (پست کرنے والا اور بلند کرنے والا)
الْمُعِزُّ اور الْمُذِلُّ (عزت دینے والا اور ذلت دینے والا)
الْمُقَدِّمُ اور الْمُؤَخِّرُ (آگے کرنے والا اور پیچھے کرنے والا)
الضَّارُّ اور النَّافِعُ (نقصان اور نفع پہنچانے والا)
الْمُبْدِئُ اور الْمُعِيدُ (ابتدا کرنے والا اور لوٹانے والا)
کئی علماء کی رائے ہے کہ ایسے ناموں میں سے ایک نام اکیلا نہیں پڑھنا چاہیے، بلکہ دوسرے کے ساتھ ملا کر پکاریں، کیونکہ کمال دونوں کے مجموعے میں ہے۔ اس لیے “الضار” پڑھنا ہو تو “الضار النافع” کہیں، اور “المذل” کے ساتھ “المعز” ملائیں۔ حصہ اول اور اس حصے کی ٹیبلوں میں جو معمولات منقول ہیں، ان میں اس بات کا خیال رکھیں۔
الشہید سے الصبور تک اسماء الحسنیٰ کے فوائد و ثمرات

آگے کے معمولات کتاب بہارِ سیفیہ (حصہ سوم) میں مذکور ہیں۔ حصہ اول کی طرح یہ بھی بزرگوں کے تجربات ہیں، قرآن یا حدیث کے احکام نہیں، اس لیے انہیں شرعی لازم نہ سمجھیں۔ ہر معمول کے اول و آخر درود شریف پڑھنا بھی ان کے آداب میں ہے، اور کسی لمبے عمل کو کسی اہلِ علم کی رہنمائی میں شروع کرنا بہتر ہے۔
| منقول معمول | مقصد | معنی | اسمِ مبارک |
| کثرت سے ذکر | ہر حاجت میں مدد | کارساز | الْوَكِيلُ |
| کثرت سے ذکر | کم ہمتی دور ہو، ہمت پیدا ہو | بڑی قوت والا | الْقَوِيُّ |
| کثرت سے؛ مشکل میں شبِ جمعہ ہزار بار | اللہ کی دوستی اور مشکل کشائی | دوست و کارساز | الْوَلِيُّ |
| کثرت سے ذکر | اچھے اخلاق و اقوال | قابلِ تعریف | الْحَمِيدُ |
| کوئی چیز بھول جائے تو بار بار؛ (الْمُبْدِئُ کے ساتھ) | بھولی بات یاد آنے کے لیے | لوٹانے والا | الْمُعِيدُ |
| کثرت سے ذکر | جدائی یا قید کے خوف میں | زندگی دینے والا | الْمُحْيِي |
| کثرت سے ذکر | اسراف اور نفس کی سرکشی کی اصلاح | موت دینے والا | الْمُمِيتُ |
| “یا حی یا قیوم” فجر سے طلوع تک | عبادت میں مستعدی | سب کو قائم رکھنے والا | الْقَيُّومُ |
| لقمے پر پڑھ کر کھانا | قلب کی تقویت | سب کچھ پانے والا | الْوَاجِدُ |
| ہمیشہ کثرت سے | قلب کا نور | بزرگی والا | الْمَاجِدُ |
| ہزار بار | غیر اللہ سے دل کا تعلق کم ہونے کے لیے | یکتا | الْوَاحِدُ |
| آخرِ شب 125 بار | صدق و اخلاص کے آثار | بے نیاز | الصَّمَدُ |
| دو رکعت کے بعد 100 بار | قوت اور حوصلہ | قدرت والا | الْقَادِرُ |
| نیند سے اٹھ کر کثرت سے | مراد کی تدبیر میں آسانی | کامل اختیار والا | الْمُقْتَدِرُ |
| کثرت سے ذکر | برے کاموں سے توبہ | پیچھے کرنے والا | الْمُؤَخِّرُ |
| مسافر ہر جمعہ ہزار بار | گھر والوں سے جلد ملاقات | سب سے پہلے | الْأَوَّلُ |
| روزانہ ہزار بار | اللہ کے سوا خیالات سے دل کی صفائی | سب کے بعد | الْآخِرُ |
| اشراق کے وقت کثرت سے | دل میں نور | ظاہر | الظَّاهِرُ |
| روزانہ تین بار، ایک گھنٹے تک | انس کی کیفیت | پوشیدہ | الْبَاطِنُ |
| کثرت سے ذکر | رفعت اور درستی | بلند و برتر | الْمُتَعَالِي |
| سات بار پڑھ کر بچے پر دم | بچے کی نیک بختی | احسان کرنے والا | الْبَرُّ |
| بعد نمازِ چاشت 360 بار | توبہ کی توفیق | توبہ قبول کرنے والا | التَّوَّابُ |
| کثرت سے ذکر | گناہوں کی معافی، رضائے الٰہی | معاف کرنے والا | الْعَفُوُّ |
| غصے کے وقت 10 بار اور 10 بار درود | غصے میں سکون | نہایت شفیق | الرَّؤُوفُ |
| روزانہ 1100 بار | تنگ دستی دور ہونے کے لیے | بادشاہی کا مالک | مَالِكُ الْمُلْكِ |
| کثرت سے ذکر | عزت و بزرگی | جلال و اکرام والا | ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ |
| مداومت | عبادت میں وسوسے سے حفاظت | انصاف کرنے والا | الْمُقْسِطُ |
| مداومت | مقاصد پر یکسوئی؛ گم شدہ چیز ملنے کے لیے | جمع کرنے والا | الْجَامِعُ |
| ہزار بار | تونگری | غنی کرنے والا | الْمُغْنِي |
| شبِ جمعہ سو بار (دونوں ملا کر) | ضرر سے حفاظت، نفع کی طلب | نقصان / نفع پہنچانے والا | الضَّارُّ، النَّافِعُ |
| کثرت سے ذکر | دل کا نور | روشنی | النُّورُ |
| کثرت سے ذکر | صحیح بصیرت و فہم | ہدایت دینے والا | الْهَادِي |
| ہزار بار | حاجت پوری ہونے کے لیے | بے مثال پیدا کرنے والا | الْبَدِيعُ |
| ہزار بار | غم اور ضرر سے نجات | ہمیشہ رہنے والا | الْبَاقِي |
| مغرب و عشاء کے درمیان ہزار بار | حیرانی دور ہونے کے لیے | سب کا وارث | الْوَارِثُ |
| بعد نمازِ عشاء 100 بار | عمل کی قبولیت | رہنمائی کرنے والا | الرَّشِيدُ |
| طلوعِ آفتاب سے پہلے 100 بار | تکلیف سے حفاظت | بہت بردبار | الصَّبُورُ |
عام غلطیاں جن سے بچنا چاہیے

حصہ اول کی غلطیوں کے علاوہ دو باتیں اور یاد رکھیں
٭جلالی ناموں کو دوسروں کے خلاف ہتھیار بنانا: القہار، المنتقم یا الجبار کو کسی کو نقصان پہنچانے کی نیت سے پڑھنا اسماء کے مقصد کے خلاف ہے۔ اپنی حفاظت اور اللہ پر بھروسے کی نیت رکھیں۔
٭کسی ایک نام کو “ہر مسئلے کی کنجی” سمجھ لینا: اسماء کا مجموعہ اللہ سے تعلق کا راستہ ہے، کوئی منتر نہیں۔
اکثر پوچھے گئے سوالات(FAQ)
کیا جلالی نام (جیسے القہار، المنتقم) پڑھنا برا ہے؟
نہیں۔ یہ بھی اللہ کے حسین نام ہیں، مگر ان کے ساتھ ادب اور حفاظت کی نیت لازم ہے، اور جوڑے والے ناموں کو ملا کر پڑھنا بہتر ہے۔
کیا بغیر کسی شیخ کی اجازت کے اسماء کا ذکر کر سکتے ہیں؟
اللہ کے ناموں کے ساتھ عام ذکر اور دعا ہر مسلمان کر سکتا ہے۔ البتہ کتابوں میں مذکور طویل اعداد والے عملیات کو ہمارے مشائخ کسی اہلِ علم کی رہنمائی میں شروع کرنے کی تلقین کرتے ہیں۔
کیا اسماء کو لکھ کر پاس رکھا یا پانی پر پڑھ کر پیا جا سکتا ہے؟
یہ علماء کے درمیان اختلافی مسئلہ ہے۔ بعض اللہ کے ناموں اور قرآنی آیات پر مشتمل تعویذ کو چند شرائط کے ساتھ جائز کہتے ہیں اور بعض منع کرتے ہیں۔ بنیادی شرط یہ ہے کہ اثر اللہ کی طرف سے سمجھا جائے، تعویذ یا نام کو خود مؤثر نہ مانا جائے۔
اگر ورد کے باوجود حاجت پوری ہوتی نظر نہ آئے تو؟
دعا کی قبولیت کئی صورتوں میں ہوتی ہے، جیسا اوپر بیان ہوا۔ ورد جاری رکھیں، اسباب بھی اختیار کریں، اور اللہ کے فیصلے پر بھروسا رکھیں۔
بیماری میں اسماء کا ورد کافی ہے؟
نہیں۔ ورد اور دعا کے ساتھ مستند طبی علاج لازم ہے۔
اسماءُ الحسنیٰ کا حصہ اول ہمیں ان کی پہچان اور آداب سکھاتا ہے، اور حصہ دوم ان کے ذریعے دعا، محبتِ الٰہی اور علمِ نافع کی طرف لے جاتا ہے۔ جلالی اور جمالی دونوں رنگوں کو مانیں، جوڑے والے ناموں کا ادب رکھیں، اور ہر ورد کو اپنے عمل میں اتارنے کی کوشش کریں۔
اے اللہ! ہمیں اپنے ناموں کے ذریعے تجھ سے مانگنے، تجھے پہچاننے اور تجھ سے محبت کرنے کی توفیق عطا فرما۔ آمین۔
مزید تفصیل کے لیے

اسماء کے مزید خواص، معمولات اور ان کی ترتیب کتاب “بہارِ سیفیہ” (حصہ سوم) میں درج ہے۔ یہ حضرت سیف الرحمن مبارک کے مجرب عملیات و وظائف کا مجموعہ ہے، جسے پیر محمد رمضان رضوی سیفی نے مرتب کیا۔ یہ کتاب ہر دکان پر نہیں ملتی، منتخب مکاتب کے ذریعے مہیا کی جاتی ہے، اور اب اسے آن لائن بھی منگوایا جا سکتا ہے۔
کتاب آن لائن آرڈر کریں → [لنک]
ننانوے ناموں کی مکمل فہرست (قابلِ توسیع ٹیبل)
یہ مشہور فہرست ہے جو ترمذی کی روایت کی بنیاد پر عام طور پر چھاپی جاتی ہے۔ جیسا حصہ اول میں بتایا گیا، مختلف فہرستوں میں معمولی فرق ہے اور ناموں کی تعداد ننانوے پر ختم نہیں ہوتی
| # | عربی | تلفظ | اردو معنی | |
| 1 | الرَّحْمَنُ | ar-Rahman | بہت مہربان | |
| 2 | الرَّحِيمُ | ar-Rahim | نہایت رحم کرنے والا | |
| 3 | الْمَلِكُ | al-Malik | بادشاہ | |
| 4 | الْقُدُّوسُ | al-Quddus | نہایت پاک | |
| 5 | السَّلَامُ | as-Salam | سلامتی دینے والا | |
| 6 | الْمُؤْمِنُ | al-Mu’min | امن دینے والا | |
| 7 | الْمُهَيْمِنُ | al-Muhaymin | نگہبان | |
| 8 | الْعَزِيزُ | al-Aziz | غالب | |
| 9 | الْجَبَّارُ | al-Jabbar | زبردست | |
| 10 | الْمُتَكَبِّرُ | al-Mutakabbir | بڑائی والا | |
| 11 | الْخَالِقُ | al-Khaliq | پیدا کرنے والا | |
| 12 | الْبَارِئُ | al-Bari’ | وجود بخشنے والا | |
| 13 | الْمُصَوِّرُ | al-Musawwir | صورت بنانے والا | |
| 14 | الْغَفَّارُ | al-Ghaffar | بہت بخشنے والا | |
| 15 | الْقَهَّارُ | al-Qahhar | سب پر غالب | |
| 16 | الْوَهَّابُ | al-Wahhab | بہت عطا کرنے والا | |
| 17 | الرَّزَّاقُ | ar-Razzaq | روزی دینے والا | |
| 18 | الْفَتَّاحُ | al-Fattah | کھولنے والا | |
| 19 | الْعَلِيمُ | al-Alim | سب کچھ جاننے والا | |
| 20 | الْقَابِضُ | al-Qabid | روکنے والا | |
| 21 | الْبَاسِطُ | al-Basit | کشادگی دینے والا | |
| 22 | الْخَافِضُ | al-Khafid | پست کرنے والا | |
| 23 | الرَّافِعُ | ar-Rafi’ | بلند کرنے والا | |
| 24 | الْمُعِزُّ | al-Mu’izz | عزت دینے والا | |
| 25 | الْمُذِلُّ | al-Mudhill | ذلت دینے والا | |
| 26 | السَّمِيعُ | as-Sami’ | سب کچھ سننے والا | |
| 27 | الْبَصِيرُ | al-Basir | سب کچھ دیکھنے والا | |
| 28 | الْحَكَمُ | al-Hakam | فیصلہ کرنے والا | |
| 29 | الْعَدْلُ | al-Adl | عدل کرنے والا | |
| 30 | اللَّطِيفُ | al-Latif | نہایت مہربان و باریک بین | |
| 31 | الْخَبِيرُ | al-Khabir | باخبر | |
| 32 | الْحَلِيمُ | al-Halim | بردبار | |
| 33 | الْعَظِيمُ | al-Azim | عظمت والا | |
| 34 | الْغَفُورُ | al-Ghafur | بہت بخشنے والا | |
| 35 | الشَّكُورُ | ash-Shakur | قدردان | |
| 36 | الْعَلِيُّ | al-Ali | بلند و برتر | |
| 37 | الْكَبِيرُ | al-Kabir | بہت بڑا | |
| 38 | الْحَفِيظُ | al-Hafiz | حفاظت کرنے والا | |
| 39 | الْمُقِيتُ | al-Muqit | روزی اور قوت دینے والا | |
| 40 | الْحَسِيبُ | al-Hasib | حساب لینے والا | |
| 41 | الْجَلِيلُ | al-Jalil | بزرگی و جلال والا | |
| 42 | الْكَرِيمُ | al-Karim | بہت کرم والا | |
| 43 | الرَّقِيبُ | ar-Raqib | نگہبان | |
| 44 | الْمُجِيبُ | al-Mujib | دعا قبول کرنے والا | |
| 45 | الْوَاسِعُ | al-Wasi’ | وسعت والا | |
| 46 | الْحَكِيمُ | al-Hakim | حکمت والا | |
| 47 | الْوَدُودُ | al-Wadud | محبت فرمانے والا | |
| 48 | الْمَجِيدُ | al-Majid | بزرگی والا | |
| 49 | الْبَاعِثُ | al-Ba’ith | اٹھانے والا | |
| 50 | الشَّهِيدُ | ash-Shahid | ہر چیز پر گواہ | |
| 51 | الْحَقُّ | al-Haqq | سچا اور برحق | |
| 52 | الْوَكِيلُ | al-Wakil | کارساز | |
| 53 | الْقَوِيُّ | al-Qawiyy | بڑی قوت والا | |
| 54 | الْمَتِينُ | al-Matin | نہایت مضبوط | |
| 55 | الْوَلِيُّ | al-Waliyy | دوست و مددگار | |
| 56 | الْحَمِيدُ | al-Hamid | قابلِ تعریف | |
| 57 | الْمُحْصِي | al-Muhsi | ہر چیز کا شمار کرنے والا | |
| 58 | الْمُبْدِئُ | al-Mubdi’ | ابتدا کرنے والا | |
| 59 | الْمُعِيدُ | al-Mu’id | دوبارہ لوٹانے والا | |
| 60 | الْمُحْيِي | al-Muhyi | زندگی دینے والا | |
| 61 | الْمُمِيتُ | al-Mumit | موت دینے والا | |
| 62 | الْحَيُّ | al-Hayy | ہمیشہ زندہ | |
| 63 | الْقَيُّومُ | al-Qayyum | سب کو قائم رکھنے والا | |
| 64 | الْوَاجِدُ | al-Wajid | سب کچھ پانے والا | |
| 65 | الْمَاجِدُ | al-Majid | بزرگی والا | |
| 66 | الْوَاحِدُ | al-Wahid | یکتا | |
| 67 | الْأَحَدُ | al-Ahad | ایک | |
| 68 | الصَّمَدُ | as-Samad | بے نیاز | |
| 69 | الْقَادِرُ | al-Qadir | قدرت والا | |
| 70 | الْمُقْتَدِرُ | al-Muqtadir | کامل اختیار والا | |
| 71 | الْمُقَدِّمُ | al-Muqaddim | آگے کرنے والا | |
| 72 | الْمُؤَخِّرُ | al-Mu’akhkhir | پیچھے کرنے والا | |
| 73 | الْأَوَّلُ | al-Awwal | سب سے پہلے | |
| 74 | الْآخِرُ | al-Akhir | سب کے بعد | |
| 75 | الظَّاهِرُ | az-Zahir | ظاہر | |
| 76 | الْبَاطِنُ | al-Batin | پوشیدہ | |
| 77 | الْوَالِي | al-Wali | سب کا مالک و منتظم | |
| 78 | الْمُتَعَالِي | al-Muta’ali | بہت بلند | |
| 79 | الْبَرُّ | al-Barr | احسان کرنے والا | |
| 80 | التَّوَّابُ | at-Tawwab | توبہ قبول کرنے والا | |
| 81 | الْمُنْتَقِمُ | al-Muntaqim | بدلہ لینے والا | |
| 82 | الْعَفُوُّ | al-‘Afuww | معاف کرنے والا | |
| 83 | الرَّؤُوفُ | ar-Ra’uf | نہایت شفیق | |
| 84 | مَالِكُ الْمُلْكِ | Malik-ul-Mulk | بادشاہی کا مالک | |
| 85 | ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ | Dhul-Jalali wal-Ikram | جلال اور اکرام والا | |
| 86 | الْمُقْسِطُ | al-Muqsit | انصاف کرنے والا | |
| 87 | الْجَامِعُ | al-Jami’ | جمع کرنے والا | |
| 88 | الْغَنِيُّ | al-Ghani | بے نیاز | |
| 89 | الْمُغْنِي | al-Mughni | غنی کرنے والا | |
| 90 | الْمَانِعُ | al-Mani’ | روکنے والا | |
| 91 | الضَّارُّ | ad-Darr | نقصان پہنچانے والا | |
| 92 | النَّافِعُ | an-Nafi’ | نفع پہنچانے والا | |
| 93 | النُّورُ | an-Nur | روشنی | |
| 94 | الْهَادِي | al-Hadi | ہدایت دینے والا | |
| 95 | الْبَدِيعُ | al-Badi’ | بے مثال پیدا کرنے والا | |
| 96 | الْبَاقِي | al-Baqi | ہمیشہ باقی رہنے والا | |
| 97 | الْوَارِثُ | al-Warith | سب کا وارث | |
| 98 | الرَّشِيدُ | ar-Rashid | رہنمائی کرنے والا | |
| 99 | الصَّبُورُ | as-Sabur | بہت بردبار | |
مآخذ و مراجع: قرآن مجید (البقرہ 143، 186، 257؛ البروج 14؛ الشوریٰ 28؛ الفرقان 31؛ النور 35)؛ مسندِ احمد (دعائے ابنِ مسعودؓ، دعا کی تین صورتیں)؛ جامع ترمذی (ألظّوا بیا ذا الجلال والاکرام، اسماء کی فہرست)؛ بہارِ سیفیہ (حصہ سوم)۔

