استخارے

استخارہ

کا  مکمل طریقہ مرحلہ وار

زندگی میں کچھ لمحے ایسے آتے ہیں جب انسان دو راستوں کے بیچ کھڑا ہوتا ہے۔ ایک طرف ایک اچھا رشتہ ہے مگر دل پوری طرح مطمئن نہیں۔ دوسری طرف نئی نوکری کی پیشکش ہے مگر خدشات بھی ہیں۔ کہیں کاروبار میں شراکت کا سوال ہے، کہیں سفر یا مکان کا فیصلہ۔ ہم لوگوں سے مشورہ کرتے ہیں، فائدے نقصان کا حساب لگاتے ہیں، پھر بھی دل کے کسی کونے میں ایک بے چینی رہتی ہے: کیا میں درست فیصلہ کر رہا ہوں؟

اسلام نے اس بے چینی کا علاج ایک خوبصورت عبادت کی صورت میں سکھایا ہے جسے استخارہ کہتے ہیں۔ یہ نہ کوئی جادوئی عمل ہے اور نہ مستقبل کی خبر معلوم کرنے کا ذریعہ۔ یہ بندے کا اپنے رب سے یہ کہنا ہے کہ یا اللہ! میں نے اپنی عقل، تجربے اور مشورے کی حد تک کوشش کر لی، اب تو ہی جانتا ہے کہ میرے لیے بہتر کیا ہے۔

اس مضمون میں ہم استخارے کا مسنون طریقہ قدم بہ قدم سمجھیں گے: استخارے سے پہلے کی تیاری، نماز کا طریقہ، دعا کا متن اور ترجمہ، استخارے کے بعد کیا کرنا ہے، اور وہ عام غلط فہمیاں جو لوگوں میں پھیلی ہوئی ہیں۔ اگر کسی فیصلے کی وجہ سے آپ کا ذہن بے   سکون ہے تو ہماری تحریر سکون اور بے سکونی: انسان کی اندرونی دنیا کا سچ بھی آپ کے لیے مفید رہے گی۔

استخارہ کیا ہے؟ لغوی اور اصطلاحی معنی

لفظ استخارہ عربی مادہ (خ، ی، ر) سے نکلا ہے جس کا مطلب ہے خیر اور بھلائی۔ باب استفعال میں آ کر اس کا معنی بنتا ہے: خیر طلب کرنا، یعنی اللہ تعالیٰ سے یہ مانگنا کہ وہ اس معاملے میں وہی راستہ آسان فرمائے جو میرے حق میں بہتر ہے۔

شریعت کی اصطلاح میں استخارہ اس دو رکعت نفل نماز اور مخصوص مسنون دعا کا نام ہے جو کوئی شخص کسی جائز معاملے میں فیصلہ کرتے وقت ادا کرتا ہے، جب اسے سمجھ نہ آ رہی ہو کہ یہ کام کرنے میں بہتری ہے یا نہ کرنے میں۔ علماء نے اس کی حقیقت یوں بیان کی ہے کہ بندہ اپنا اختیار اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دیتا ہے، کیونکہ وہی انجام سے پوری طرح باخبر ہے۔

استخارے کو ایک طرح کا مشورہ بھی کہا گیا ہے، مگر یہ مشورہ مخلوق سے نہیں بلکہ خالق سے ہوتا ہے۔ جو شخص اللہ سے مشورہ مانگتا ہے وہ ایسی ذات سے رہنمائی مانگتا ہے جو غیب کو جانتی ہے، اور یہی اس عبادت کی سب سے بڑی خوبصورتی ہے۔

استخارے کی شرعی حیثیت اور اہمیت

استخارے کی بنیاد صحیح بخاری کی مشہور حدیث پر ہے۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تمام معاملات میں استخارہ اسی اہتمام سے سکھاتے تھے جس اہتمام سے قرآن کی کوئی سورت سکھاتے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی کسی کام کا ارادہ کرے تو فرض کے علاوہ دو رکعت نفل پڑھے، پھر یہ دعا کرے (جو آگے مکمل متن کے ساتھ آ رہی ہے)۔

اس حدیث سے چند باتیں واضح ہوتی ہیں۔

٭استخارہ ایک سنت اور مستحب عمل ہے، جسے نبی کریم ﷺ نے خود تعلیم فرمایا۔

٭اسے ہر معاملے میں سکھایا گیا، صرف بڑے فیصلوں میں نہیں۔

٭اس کے الفاظ سکھانے کا اہتمام قرآن کی سورت جیسا تھا، یعنی دعا کا متن یاد کرنا اور درست پڑھنا بہتر ہے۔

٭ساتھ ہی یہ بھی معلوم ہوا کہ خود استخارہ کرنے کا طریقہ بتایا گیا ہے، اور یہی اصل سنت ہے۔

قرآنِ مجید میں اس پورے مزاج کی بنیاد یہ آیت ہے: ‘‘وَعَسَىٰ أَن تَكْرَهُوا شَيْئًا وَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ ۖ وَعَسَىٰ أَن تُحِبُّوا شَيْئًا وَهُوَ شَرٌّ لَّكُمْ ۗ وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ’’ (سورۃ البقرہ: 216)۔ یعنی ہو سکتا ہے تم کسی چیز کو ناپسند کرو اور وہ تمہارے لیے بہتر ہو، اور ہو سکتا ہے کسی چیز کو پسند کرو اور وہ تمہارے لیے بری ہو، اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔ استخارہ اسی حقیقت کا عملی اقرار ہے کہ ہمارا علم محدود ہے۔

اسی طرح سورۃ آلِ عمران (آیت 159) میں مشورے کے بعد عزم اور پھر توکل کی ترتیب بیان ہوئی: ‘‘فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ’’، یعنی جب پختہ ارادہ کر لو تو اللہ پر بھروسا کرو۔ استخارہ اسی توکل کی ایک خوبصورت شکل ہے۔

استخارہ کن کاموں میں کیا جاتا ہے؟

استخارہ اس وقت کیا جاتا ہے جب کوئی جائز اور مباح معاملہ درپیش ہو اور اس کے کرنے یا نہ کرنے میں تردد ہو۔ عام طور پر یہ معاملات اس کی مثالیں ہیں۔

٭رشتے اور نکاح کا فیصلہ

٭نوکری، ملازمت کی تبدیلی یا کاروبار کا آغاز

٭کاروباری شراکت یا کسی بڑے لین دین کا فیصلہ

٭مکان خریدنا، کرائے پر لینا یا شہر تبدیل کرنا

٭سفر کا ارادہ

٭تعلیم یا کیریئر کے شعبے کا انتخاب

شادی کے فیصلوں میں تاخیر اور رکاوٹ کے موضوع پر ہماری تفصیلی تحریر وظیفہ برائے شادی بھی پڑھنے کے لائق ہے، کیونکہ رشتہ طے کرنے سے پہلے استخارہ اور وظیفہ دونوں کا اپنا اپنا مقام ہے۔ اسی طرح روزگار اور معاش کی تنگی کے لیے رزق میں برکت کا وظیفہ دیکھ سکتے ہیں۔

استخارہ کن کاموں میں نہیں کیا جاتا؟

علماء نے واضح کیا ہے کہ استخارہ ان معاملات میں نہیں ہوتا جن کا حکم شریعت پہلے ہی بیان کر چکی ہے

٭فرض اور واجب کام: نماز، روزہ، زکوٰۃ، والدین کے حقوق وغیرہ میں استخارے کی ضرورت نہیں، ان پر تو عمل کرنا ہی ہے۔

٭حرام اور ممنوع کام: گناہ سے بچنا ہر حال میں لازم ہے، اس کے لیے استخارہ کرنا بے معنی ہے۔

٭مستحب اور عبادات کی اصل: عبادت کرنا یا نہ کرنا استخارے کا موضوع نہیں، البتہ ان کی کسی خاص صورت یا وقت کے انتخاب میں گنجائش ہے۔

یہ بھی یاد رکھیں کہ استخارہ بیماری کی تشخیص، علاج یا ڈاکٹر کے مشورے کا متبادل نہیں۔ صحت کے معاملے میں ماہر معالج سے رجوع کرنا ہی درست طریقہ ہے، استخارہ صرف اس کے ساتھ کسی جائز انتخاب میں دعا کے طور پر ہو سکتا ہے۔

ایک اور بات جو آج کل بہت عام ہو گئی ہے۔بعض لوگ کاروبار میں رکاوٹ، ملازمت نہ ملنے یا زندگی میں مسلسل پریشانیوں کی وجہ معلوم کرنے کے لیے استخارہ کرواتے ہیں کہ کہیں کسی نے جادو، بندش یا نظرِ بد تو نہیں کر دی۔ حالانکہ استخارہ کا بنیادی مقصد کسی معاملے میں اللہ تعالیٰ سے خیر اور رہنمائی طلب کرنا ہے، نہ کہ محض اس کے ذریعے جادو، بندش یا نظرِ بد کی تشخیص کرنا۔ البتہ کسی معاملے میں شرعی رہنمائی اور درست طریقۂ تشخیص کے لیے اہلِ علم سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔

جادو، نظرِ بد اور دیگر اثرات کے بارے میں درست شرعی معلومات حاصل کرنے کے لیے ہماری یہ تحریریں ملاحظہ فرمائیں

استخارے سے پہلے کی تیاری

استخارہ
استخارے سے پہلے کی تیاری

بہت سے لوگ استخارہ کرتے ہیں مگر جواب سمجھ نہیں پاتے، اور اس کی ایک بڑی وجہ تیاری کی کمی ہوتی ہے۔ استخارے سے پہلے ان باتوں کا خیال رکھیں:

٭پہلے اپنی کوشش اور معلومات پوری کریں۔ استخارہ کوشش کا متبادل نہیں بلکہ کوشش کے بعد کا قدم ہے۔ رشتے کا فیصلہ ہو تو لڑکے یا لڑکی کے دین، اخلاق اور گھرانے کے بارے میں تحقیق کریں۔ نوکری کا فیصلہ ہو تو شرائط، تنخواہ اور ماحول کو سمجھیں۔

٭اہلِ علم اور سمجھ دار لوگوں سے مشورہ کریں۔ قرآنِ مجید نے مشورے کی تعلیم دی ہے، اور مشورہ استخارے کی تیاری کا حصہ ہے۔ والدین، تجربہ کار رشتہ داروں اور متعلقہ شعبے کے ماہرین سے رائے لینا دانش مندی ہے۔

٭اپنے دل کو کسی ایک طرف جھکاؤ سے خالی کرنے کی کوشش کریں۔ اگر آپ پہلے ہی ایک فیصلے پر اڑ چکے ہیں اور بس اس پر مہر لگوانا چاہتے ہیں تو استخارے کا اصل مقصد فوت ہو جاتا ہے۔ دل سے یہ کہیں کہ جو میرے لیے بہتر ہو وہی ہو، چاہے وہ میری خواہش کے خلاف کیوں نہ ہو۔

٭نیت اور حلال کا خیال رکھیں۔ جس کام کے لیے استخارہ کر رہے ہیں وہ جائز ہو، اور آپ کا دل اللہ کی رضا کی طرف متوجہ ہو۔ اگر کوئی گناہ یا ناانصافی کا پہلو ہو تو وہ پہلے ہی دور کرنا ضروری ہے۔

٭دعا کا متن اور ترجمہ سمجھ لیں۔ جب آپ کو معلوم ہو کہ آپ اللہ سے کیا مانگ رہے ہیں تو دعا میں دل لگتا ہے۔ اسی لیے ہم نے آگے مکمل ترجمہ بھی دیا ہے۔

جن لوگوں کے لیے فیصلہ کرنا ہی ایک مستقل پریشانی بن جائے، یعنی ہر چھوٹے بڑے معاملے میں شدید اضطراب، نیند کی خرابی یا بار بار شک کی کیفیت رہتی ہو، وہ دعا اور استخارے کے ساتھ کسی قابل اعتماد بزرگ یا ماہرِ نفسیات سے بھی بات کریں۔ یہ توکل کے خلاف نہیں بلکہ اسباب اختیار کرنے کا حصہ ہے۔

استخارے کا طریقہ مرحلہ وار

اب ہم اصل موضوع کی طرف آتے ہیں۔ نیچے دیے گئے مراحل صحیح بخاری کی حدیثِ جابرؓ اور فقہائے کرام کی تصریحات کی روشنی میں ترتیب دیے گئے ہیں۔

مرحلہ 1: اپنے معاملے کو واضح کریں

سب سے پہلے یہ طے کریں کہ آپ کس بات کا استخارہ کر رہے ہیں۔ سوال جتنا واضح ہو گا، دل کی کیفیت کو پہچاننا اتنا آسان ہو گا۔ مثال کے طور پر ’’کیا مجھے فلاں کمپنی کی نوکری قبول کر لینی چاہیے؟‘‘ ایک واضح سوال ہے، جبکہ ’’میری زندگی کے سارے مسئلے کیسے حل ہوں؟‘‘ استخارے کا موضوع نہیں بنتا۔ اگر کئی راستے ہوں تو بہتر ہے کہ آپ پہلے اپنی عقل اور مشورے سے ایک راستہ چن لیں اور اسی کا استخارہ کریں، یا ہر راستے کا الگ الگ استخارہ کریں۔

مرحلہ 2: وضو اور نیت

باوضو ہو کر صاف جگہ پر قبلہ رخ کھڑے ہوں۔ دل میں نیت کریں کہ میں اللہ کی رضا کے لیے استخارے کی دو رکعت نفل ادا کر رہا ہوں۔ نیت زبان سے کرنا ضروری نہیں، دل کا ارادہ کافی ہے۔ اگر آپ زبان سے کہنا چاہیں تو یوں کہہ سکتے ہیں: ’’نیت کی میں نے دو رکعت نماز نفل استخارہ کی، واسطے اللہ تعالیٰ کے، منہ میرا کعبہ شریف کی طرف۔‘‘

مرحلہ 3: مناسب وقت کا انتخاب

احادیث میں استخارے کے لیے کوئی خاص وقت مقرر نہیں ہوا، اس لیے اسے دن یا رات کے کسی بھی ایسے وقت میں پڑھا جا سکتا ہے جس میں نفل نماز مکروہ نہ ہو۔ طلوعِ آفتاب، زوال اور غروبِ آفتاب کے اوقات میں نماز نہ پڑھیں، اور فقہِ حنفی کے مطابق فجر کی نماز کے بعد طلوعِ آفتاب تک اور عصر کے بعد غروب تک بھی نفل نماز مکروہ ہے۔ یہ بات بھی اپنی جگہ درست ہے کہ رات کے سکون بھرے وقت، مثلاً عشاء کے بعد یا آخرِ شب میں، دل زیادہ یکسو ہوتا ہے، لیکن اس کے لیے کوئی لازمی شرط نہیں۔ کسی دینی ماخذ میں کوئی ایسا خاص دن، تاریخ یا گھڑی مقرر نہیں جس کے بغیر استخارہ قبول نہ ہو، اس لیے ایسی شرطیں لگانے والی باتوں پر توجہ نہ دیں۔

استخارہ
استخارے کا طریقہ مرحلہ وار

مرحلہ 4: دو رکعت نفل ادا کریں

عام نفل نماز کی طرح دو رکعتیں پڑھیں۔ فقہائے کرام نے ذکر کیا ہے کہ پہلی رکعت میں سورۃ الفاتحہ کے بعد سورۃ الکافرون اور دوسری رکعت میں سورۃ الاخلاص پڑھنا بہتر ہے۔ یہ مستحب ہے، لازم نہیں۔ اگر آپ کو یہ سورتیں یاد نہ ہوں یا آپ کوئی اور سورت پڑھنا چاہیں تو نماز ادا ہو جائے گی۔ اصل بات خشوع، اطمینان اور اللہ کی طرف دل کا متوجہ ہونا ہے۔ فرض نماز کے ساتھ استخارے کی نیت کافی نہیں ہوتی جب تک آپ نے اسی نماز میں استخارے کی نیت نہ کی ہو، اس لیے بہتر یہ ہے کہ الگ سے دو رکعت پڑھیں۔

استخارہ
استخارے کا طریقہ مرحلہ وار

مرحلہ 5: سلام کے بعد دعائے استخارہ پڑھیں

نماز مکمل کر کے سلام پھیرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا اور نبی کریم ﷺ پر درود شریف پڑھیں، پھر یہ مسنون دعا پڑھیں۔

اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ، وَأَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ، وَأَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ الْعَظِيمِ، فَإِنَّكَ تَقْدِرُ وَلَا أَقْدِرُ، وَتَعْلَمُ وَلَا أَعْلَمُ، وَأَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ۔ اَللّٰهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هٰذَا الْأَمْرَ خَيْرٌ لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي، أَوْ قَالَ: عَاجِلِ أَمْرِي وَآجِلِهِ، فَاقْدُرْهُ لِي وَيَسِّرْهُ لِي ثُمَّ بَارِكْ لِي فِيهِ۔ وَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هٰذَا الْأَمْرَ شَرٌّ لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي، أَوْ قَالَ: فِي عَاجِلِ أَمْرِي وَآجِلِهِ، فَاصْرِفْهُ عَنِّي وَاصْرِفْنِي عَنْهُ، وَاقْدُرْ لِيَ الْخَيْرَ حَيْثُ كَانَ ثُمَّ أَرْضِنِي بِهِ۔

اردو ترجمہ: اے اللہ! میں تیرے علم کے واسطے سے تجھ سے خیر مانگتا ہوں، تیری قدرت کے واسطے سے طاقت مانگتا ہوں اور تیرے عظیم فضل کا سوال کرتا ہوں۔ بے شک تو قدرت رکھتا ہے اور میں قدرت نہیں رکھتا، تو جانتا ہے اور میں نہیں جانتا، اور تو غیبوں کو خوب جاننے والا ہے۔ اے اللہ! اگر تیرے علم میں یہ کام میرے دین، میری معاش اور میرے انجامِ کار کے اعتبار سے بہتر ہے، تو اسے میرے مقدر میں کر دے، اسے میرے لیے آسان فرما دے، پھر اس میں مجھے برکت عطا فرما۔ اور اگر تیرے علم میں یہ کام میرے دین، میری معاش اور میرے انجامِ کار کے اعتبار سے برا ہے، تو اسے مجھ سے پھیر دے اور مجھے اس سے پھیر دے، اور جہاں کہیں بھی خیر ہو وہ میرے لیے مقرر فرما دے، پھر مجھے اس پر راضی بھی کر دے۔

دعا کے آخری جملے پر ذرا ٹھہر کر غور کریں: ’’پھر مجھے اس پر راضی کر دے۔‘‘ یہ استخارے کی روح ہے۔ ہم صرف فیصلہ نہیں مانگتے، اللہ سے یہ بھی مانگتے ہیں کہ فیصلہ جو بھی ہو، دل اس پر مطمئن ہو جائے۔ دعا کی طرح اللہ کے ناموں کے ساتھ تعلق مضبوط کرنے کے لیے ہماری تحریر اسماءُ الحسنیٰ: اللہ کے 99 ناموں کی فضیلت (حصہ اول) بھی مفید ہے۔

مرحلہ 6: ’’هٰذَا الْأَمْرَ‘‘ کی جگہ اپنی حاجت کا نام لیں

دعا میں جہاں ’’هٰذَا الْأَمْرَ‘‘ آتا ہے، وہاں اپنے معاملے کا نام لیں، مثلاً ’’اگر یہ نوکری میرے لیے بہتر ہے‘‘ یا ’’اگر یہ رشتہ میرے لیے بہتر ہے‘‘۔ بعض علماء کے نزدیک دل میں اس معاملے کا دھیان رکھ لینا بھی کافی ہے، لیکن زبان سے نام لینا حدیث کے ظاہر کے زیادہ موافق ہے۔ اگر آپ کو عربی دعا یاد نہیں تو پہلے اسے یاد کرنے کی کوشش کریں، اور جب تک یاد نہ ہو تب تک کتاب سے دیکھ کر پڑھ لیں یا اردو ترجمے کے ساتھ دعا کر لیں۔

مرحلہ 7: دعا کے بعد دل کو مطمئن چھوڑ دیں

دعا کے بعد اللہ کا شکر ادا کریں، درود شریف پڑھیں اور اپنے معاملے کو اللہ کے سپرد کر کے عام معمول کی طرف لوٹ جائیں۔ خواب کا انتظار کرتے ہوئے رات نہ جاگیں اور نہ ہی بار بار دل کو کریدیں۔ آگے ہم دیکھتے ہیں کہ نتیجہ کیسے پہچانا جائے۔

استخارے کے بعد کیا کریں؟ نتیجہ کیسے سمجھیں؟

استخارہ
استخارے کے بعد کیا کریں

یہ وہ مقام ہے جہاں سب سے زیادہ غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں، اس لیے ذرا تفصیل سے سمجھ لیں۔

٭خواب آنا ضروری نہیں۔ حدیثِ جابرؓ میں خواب، رنگ یا کسی اشارے کا ذکر نہیں۔ علمائے کرام کی عام رائے یہ ہے کہ استخارے کے بعد اصل چیز دل کا رجحان اور اطمینان ہے۔ جس طرف دل مائل ہو، اور شرعی اعتبار سے وہ جائز ہو، اسی طرف قدم بڑھا دیں۔ اگر خواب آ جائے تو وہ اللہ کی عطا ہے، مگر اسے لازمی نتیجہ سمجھنا درست نہیں۔

٭انشراحِ صدر کو پہچانیں۔ اگر دعا کے بعد کسی کام کی طرف دل میں سکون، آسانی اور شرح صدر محسوس ہو تو یہ اچھی علامت سمجھی جاتی ہے۔ اگر اس کے برعکس بے چینی اور کھنچاؤ رہے تو احتیاط کریں۔ البتہ یہ ’’علامت‘‘ ہے، قطعی ثبوت نہیں، اس لیے عقل اور مشورے کو ساتھ رکھیں۔

 ٭اگر کوئی واضح رجحان پیدا نہ ہو تو؟ کتبِ فقہ میں آیا ہے کہ استخارہ سات مرتبہ تک دہرایا جا سکتا ہے، اور یہ بات حضرت انسؓ سے منسوب ایک روایت میں آئی ہے جس کی سند پر محدثین نے کلام کیا ہے، اس لیے اسے فضائل و آداب کے درجے میں رکھیں، شرط نہ سمجھیں۔ اگر کئی دن گزر جائیں اور کوئی رجحان واضح نہ ہو تو یہ بھی ممکن ہے کہ دونوں راستے آپ کے لیے جائز اور مناسب ہوں۔ ایسی صورت میں مشورے اور اپنی بہترین عقلی رائے کے مطابق فیصلہ کر لیں اور اللہ پر بھروسہ رکھیں۔

٭فیصلے کے بعد بھروسہ کریں۔ جب آپ نے محنت، مشورہ اور استخارہ تینوں کر لیے تو آگے قدم بڑھائیں اور ’’فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ‘‘ پر عمل کریں۔ اگر بعد میں کوئی رکاوٹ آ جائے تو گھبرانے کی بجائے یہ سمجھیں کہ ہو سکتا ہے اللہ نے اپنی حکمت سے آپ کو اس سے پھیر دیا ہو۔ دعا کے الفاظ ہی یہ ہیں: ’’فَاصْرِفْهُ عَنِّي وَاصْرِفْنِي عَنْهُ‘‘۔ دل میں تنگی اور مایوسی کا غلبہ ہو تو اجتماعی توبہ اور ذکر و استغفار بھی دل کو سہارا دیتے ہیں۔

استخارے کے بارے میں عام غلط فہمیاں

استخارہ
استخارے کے بارے میں عام غلط فہمیاں

غلط فہمی 1: استخارے میں خواب میں سفید یا سبز رنگ دیکھنا اچھا اور سیاہ دیکھنا برا ہے۔ اس کی کوئی مستند دلیل نہیں۔ رنگوں سے نتیجہ نکالنا اور خوابوں کی من گھڑت تعبیریں پھیلانا درست نہیں۔

غلط فہمی 2: استخارہ صرف اسی کا ہوتا ہے جس کو علم ہو۔ نہیں، ہر مسلمان استخارہ کر سکتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے عام صحابہ کو سکھایا تھا۔

غلط فہمی 3: استخارہ بندش یا جادو معلوم کرنے کے لیے ہوتا ہے۔ استخارے کا موضوع کسی جائز کام کے کرنے یا نہ کرنے میں خیر طلب کرنا ہے۔اگر کوئی شخص واقعی روحانی تکلیف محسوس کرتا ہو تو شرعی رقیہ اور دعا کا راستہ ہے، اس کے لیے فیتھ ہیلنگ کیا ہے؟ (دم اور رقیہ) پڑھ لیں۔

غلط فہمی 4: آن لائن یا فون پر کسی اور سے استخارہ کروانا کافی ہے۔ حدیث میں استخارہ اس شخص کے لیے بیان ہوا ہے جسے معاملہ درپیش ہے، اور اکثر علماء کی رائے میں بہتر یہی ہے کہ آدمی اپنا استخارہ خود کرے۔ کسی نیک آدمی سے دعا کی درخواست کرنے میں حرج نہیں، لیکن اسے اپنے استخارے کا متبادل نہ بنائیں۔

غلط فہمی 5: استخارہ ایک بار بس ہے اور اس کے بعد مشورے کی ضرورت نہیں۔ درست طریقہ مشورہ، استخارہ اور عزم تینوں کا مجموعہ ہے۔

غلط فہمی 6: اگر استخارے کے بعد بھی کام مشکل ہو گیا تو استخارہ ناکام ہو گیا۔ ایسا نہیں۔ کبھی خیر مشکل راستے سے بھی گزرتی ہے۔ وہی سورۃ البقرہ کی آیت جو ہم نے شروع میں پڑھی تھی یہاں دوبارہ یاد کر لیں۔

استخارے سے متعلق اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQ)

سوال 1: کیا استخارے کے لیے نماز ضروری ہے یا صرف دعا کافی ہے؟

سنت طریقہ یہی ہے کہ پہلے دو رکعت نفل پڑھی جائیں اور پھر دعا کی جائے۔ اگر کوئی شرعی عذر ہو، مثلاً عورت کو ایامِ مخصوصہ ہوں، تو علماء فرماتے ہیں کہ نماز کے بغیر صرف دعائے استخارہ پڑھ لی جائے۔

سوال 2: استخارہ کتنی بار کرنا چاہیے؟

حدیثِ جابرؓ میں تعداد مذکور نہیں۔ ایک بار پڑھ لینا بھی ادا ہو جاتا ہے، اور اگر دل میں رجحان واضح نہ ہو تو دہرایا جا سکتا ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی یاد رکھیں کہ بار بار استخارہ دہرانے کی بجائے مشورے اور تحقیق پر بھی توجہ دیں۔

سوال 3: اگر کئی رشتے ہوں تو استخارہ کیسے کریں؟

دارالافتاء مصر کے ایک فتوے میں یہ رہنمائی ملتی ہے کہ جو رشتہ آپ کی رائے کے مطابق بہتر ہو اس کا انتخاب کر کے استخارہ کریں، اور اگر ترجیح نہ دے سکیں تو ہر ایک کے لیے الگ استخارہ کر لیں۔ اس کے ساتھ والدین اور بزرگوں کے مشورے کو بھی شامل رکھیں۔

سوال 4: دعا عربی میں یاد نہ ہو تو کیا کریں؟

پہلے اسے یاد کرنے کی کوشش کریں کیونکہ مسنون الفاظ یہی ہیں۔ جب تک یاد نہ ہو تب تک دیکھ کر پڑھ لیں، یا اردو ترجمے کے ساتھ دعا کر لیں۔ اللہ نیت اور دل کے خلوص کو دیکھتا ہے۔

سوال 5: کیا استخارہ پہلے سے ذہن میں موجود فیصلے کی تصدیق کے لیے ہوتا ہے؟

نہیں۔ استخارہ اس لیے ہے کہ ہم اپنی خواہش کو اللہ کے فیصلے کے تابع کر دیں۔ جھکاؤ ہو بھی تو دعا میں کھلے دل سے کہیں کہ جو بہتر ہو وہی ہو۔

سوال 6: کیا کاروبار یا نوکری میں رکاوٹ کی وجہ معلوم کرنے کے لیے استخارہ ہو سکتا ہے؟

استخارہ ’’کرنے یا نہ کرنے‘‘ کے لیے ہے۔ رکاوٹ کی وجہ تلاش کرنے کا ذریعہ نہیں۔ ایسی صورت میں اسباب پر غور کریں، ماہرین سے رجوع کریں اور رزق کی برکت کی مسنون دعاؤں کی طرف توجہ دیں، جن کے لیے رزق میں برکت کا وظیفہ دیکھ سکتے ہیں۔

فیصلہ ہمارا، اور مشورہ اللہ سے۔

استخارہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ ایک مسلمان نہ تو بغیر سوچے فیصلہ کرتا ہے اور نہ ہی فیصلے کا سارا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھاتا ہے۔ وہ اپنی کوشش کرتا ہے، اہلِ علم اور تجربہ کار لوگوں سے مشورہ لیتا ہے، پھر دو رکعت نماز اور دعا کے ذریعے اپنا معاملہ اس رب کے حوالے کر دیتا ہے جو انجام سے خوب واقف ہے۔ نتیجے کی فکر میں گھلنے کی بجائے سکون اور بھروسے کے ساتھ آگے بڑھنا ہی استخارے کا حاصل ہے۔

اگر آپ کسی ذاتی معاملے میں رہنمائی چاہتے ہیں، یا استخارے کا طریقہ سمجھنے میں دشواری ہو تو آپ مرکزِ اسلام سے رابطہ کر سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہر معاملے میں بہتر فیصلے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

مزید پڑھیں

سکون اور بے سکونی: انسان کی اندرونی دنیا کا سچ

وظیفہ برائے شادی

رزق میں برکت کا وظیفہ

عملیات اور جادو میں فرق کیا ہے؟

نظر بد کی نشانیاں

اسماءُ الحسنیٰ (حصہ اول)

حوالہ جات

صحیح بخاری، کتاب التہجد، حدیثِ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما (استخارے کی نماز اور دعا)

القرآن الکریم: سورۃ البقرہ، آیت 216؛ سورۃ آلِ عمران، آیت 159

ردّ المحتار (شامی)، کتاب الصلاۃ، باب ’’رکعتی الاستخارۃ‘‘

دارالافتاء مصر: نماز استخارہ کا طریقہ اور اس کے نتائج

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top