رزق میں برکت کا وظیفہ
تنگیٔ روزی سے نجات اور کشادگیٔ رزق کی مستند دعائیں
احادیثِ مبارکہ اور بزرگانِ دین سے منقول رزق، قرض اور مشکلات سے نجات کے وظائف — مکمل حوالہ جات کے ساتھ
- رزق میں برکت کا وظیفہ
- رزق حلال اور علمِ نافع کے لیے نبوی نسخہ
- لوگوں سے سوال نہ کرنے کی برکت
- رزق میں برکت کے لیے قرآنی سورتیں
- رزق کی تنگی اور غم سے حفاظت
- بہترین رزق کی صبح و شام کی دعا
- رزق میں وسعت اور قرض سے نجات کی دعائیں
- مشکلات اور رنج و غم سے نجات کے وظائف
- درست ذہنی رویہ: وظائف کے ساتھ توکل بھی ضروری ہے
- اکثر پوچھے جانے والے سوالات
- حوالہ
رزق انسانی زندگی کی وہ بنیادی ضرورت ہے جس سے کوئی بھی بے نیاز نہیں۔ اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی امت کو رزق میں برکت، کشادگی اور قرض سے نجات کے لیے کئی مخصوص دعائیں اور اعمال سکھائے، جو صدیوں سے علماء اور بزرگانِ دین کی کتابوں میں محفوظ چلے آ رہے ہیں۔ اس مضمون میں ہم انہی مستند روایات کی روشنی میں رزق کے موضوع کو تفصیل سے بیان کریں گے — ہر دعا کے ساتھ اس کا پس منظر اور حوالہ بھی موجود ہوگا تاکہ قاری اطمینان سے عمل کر سکے۔
رزق حلال اور علمِ نافع کے لیے نبوی نسخہ
سب سے پہلی اور بنیادی دعا وہ ہے جو خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز فجر کے بعد سلام پھیرتے ہی پڑھا کرتے تھے۔ یہ دعا علم، رزق اور اعمال — تینوں میں قبولیت کی طلب پر مشتمل ہے:
اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ عِلْمًا نَافِعًا وَرِزْقًا طَيِّبًا وَعَمَلًا مُتَقَبَّلًا
ترجمہ: اے اللہ! میں تجھ سے نفع بخش علم، پاکیزہ رزق اور قبول ہونے والا عمل مانگتا ہوں۔
حوالہ: صحیح ابنِ ماجہ، صحیح الزوائد، ابوداؤد و ترمذی
اس دعا کی خوبی یہ ہے کہ اسے دن میں صرف ایک بار، نمازِ فجر کے فوراً بعد پڑھنا کافی ہے، اور یہ رزق کے ساتھ ساتھ علم اور عمل کی برکت بھی ساتھ لاتی ہے۔
لوگوں سے سوال نہ کرنے کی برکت
ایک نہایت اہم حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص کو فقر لاحق ہو اور وہ اس کا تذکرہ لوگوں کے سامنے کرنے کی بجائے صرف اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کرے، تو قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے جلد ہی رزق سے نواز دے یا کچھ عرصے کی تاخیر سے، مگر ضرور نوازے گا۔ اس کے برعکس جو شخص لوگوں سے مانگنا شروع کر دے، اس کا فاقہ کبھی ختم نہیں ہوتا۔ یہی وہ اصول ہے جس پر عمل کرتے ہوئے سچے صابر رزق کی کشادگی پاتے ہیں۔
رزق میں برکت کے لیے قرآنی سورتیں

حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ کیا وہ چاہتے ہیں کہ جب وہ سفر کے لیے نکلیں تو اپنے ساتھیوں سے بہتر حالت اور سہولت میں ہوں؟ جب انہوں نے ہاں میں جواب دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں پانچ مخصوص سورتیں (قل یا ایھا الکافرون، اذا جاء نصر اللہ، قل ھو اللہ احد، قل اعوذ برب الفلق، قل اعوذ برب الناس) پڑھنے کی تلقین فرمائی، ساتھ ہی یہ ہدایت دی کہ ہر سورت کو بسم اللہ سے شروع اور بسم اللہ ہی پر ختم کیا جائے۔
حضرت جبیر رضی اللہ عنہ خود بیان فرماتے ہیں کہ اس عمل کی برکت سے وہ بہت مالدار ہو گئے۔ ایک اور موقع پر انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ان کا ایک ساتھی، جو سفر کے وقت سب سے زیادہ نادار ہوتا تھا، جب اس نے یہ سورتیں سیکھ کر ہمیشہ پڑھنی شروع کیں تو وہ سفر سے واپسی تک اپنے دوستوں سے زیادہ خوشحال اور اچھی حالت میں پہنچنے لگا۔
حوالہ: الدعاء للطبرانی 1/1706
رزق کی تنگی اور غم سے حفاظت
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جسے اللہ نے کوئی نعمت عطا کی ہو، اسے چاہیے کہ کثرت سے “الحمدللہ” پڑھے، اور جسے رنج و غم زیادہ لاحق ہو، وہ کثرت سے “لا حول ولا قوۃ الا باللہ” پڑھے۔
حوالہ: مسند ابویعلی 3/1107
بہترین رزق کی صبح و شام کی دعا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص صبح یہ دعا پڑھے، اسے اس دن بہترین رزق سے نوازا جائے گا اور برائیوں سے محفوظ رکھا جائے گا، اور جو شام کو پڑھے، اسے اس شام بہترین رزق ملے گا اور برائیوں سے محفوظ رکھا جائے گا۔
مَا شَاءَ اللهُ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ أَشْهَدُ أَنَّ اللهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
رزق میں وسعت اور قرض سے نجات کی دعائیں

٭فاقہ و افلاس سے نجات کی دعا
امام مستغفری رحمۃ اللہ علیہ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک بار حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو فاقہ و افلاس کی پریشانی لاحق ہوئی تو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک اونٹ کی درخواست کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم چاہو تو ایک اونٹ کا حکم جاری کر دوں، اور اگر چاہو تو تمہیں ایسے کلمات سکھا دوں جو ایک اونٹ سے بہتر ہوں گے۔ پھر آپ نے یہ دعا پڑھنے کو فرمایا۔
اَللّٰهُمَّ احْفَظْنِي بِالْإِسْلَامِ قَائِمًا وَاحْفَظْنِي بِالْإِسْلَامِ قَاعِدًا وَاحْفَظْنِي بِالْإِسْلَامِ رَاقِدًا وَلَا تُشْمِتْ بِيَّ عَدُوًّا وَلَا حَاسِدًا وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ دَابَّةٍ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهَا وَأَسْأَلُكَ مِنَ الْخَيْرِ الَّذِي هُوَ بِيَدِكَ كُلُّهُ
حوالہ: ابوداؤد و الترمذی
٭رزق میں وسعت کے لیے
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سند کے ساتھ نقل فرمایا کہ جو شخص اس بات پر خوش ہو کہ اس کی عمر بڑھے، اس کے رزق میں وسعت ہو، اور اسے دشمن کے مقابلے میں مدد ملے اور بری موت سے بچایا جائے، تو اسے چاہیے کہ صبح شام تین تین بار یہ پڑھے۔
سُبْحَانَ اللهِ مِلْءَ الْمِيزَانِ، وَمُنْتَهَى الْعِلْمِ، وَمَبْلَغَ الرِّضَا، وَزِنَةَ الْعَرْشِ
٭پانچ عظیم کلمات
یہ کلمات وہ ہیں جو حضرت جبرائیل علیہ السلام نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سکھائے، اور آپ نے سیدہ فاطمہ الزہرا رضی اللہ عنہا کو، جب انہوں نے بکریوں کے بدلے کچھ اور مانگا تھا، عطا فرمائے۔
يَا أَوَّلَ الْأَوَّلِينَ وَيَا آخِرَ الْآخِرِينَ وَيَا ذَا الْقُوَّةِ الْمَتِينِ وَيَا رَاحِمَ الْمَسَاكِينِ وَيَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ
٭مالی وسعت کی دعا
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ وہ ایک بار پریشان حال اور غربت کے آثار لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملے۔ آپ نے وجہ پوچھی تو انہوں نے تنگدستی اور امراض کی شکایت کی۔ آپ نے انہیں یہ دعا سکھائی۔
تَوَكَّلْتُ عَلَى الْحَيِّ الَّذِي لَا يَمُوتُ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي لَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًا وَلَمْ يَكُنْ لَهُ شَرِيكٌ فِي الْمُلْكِ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ وَلِيٌّ مِنَ الذُّلِّ وَكَبِّرْهُ تَكْبِيرًا
چند دنوں بعد جب دوبارہ ملاقات ہوئی تو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حالت بہت بہتر ہو چکی تھی — یہی اس دعا کی برکت کا اثر تھا۔
حوالہ: الدعاء للطبرانی 1/3285
٭افلاس و تنگ دستی سے نجات کے لیے
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ایک روایت میں ایک صحابی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا کہ دنیا نے انہیں اپنی طرف موڑ لیا ہے یعنی وہ بہت زیادہ غریب ہو گئے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تمہیں فرشتوں کا صلوٰۃ اور تسبیح نہیں معلوم، جس کی بدولت انہیں رزق دیا جاتا ہے؟ پھر فرمایا کہ طلوعِ فجر کے وقت دس مرتبہ یہ پڑھا کرو۔
سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللهِ الْعَظِيمِ وَبِحَمْدِهِ أَسْتَغْفِرُ اللهَ
٭غم و فکر اور قرض دور کرنے کی دعائیں
حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا کہ وہ کون سی دعا ہے جو آپ نے حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام کو سکھائی تھی، جس سے اگر کسی پہاڑ جتنا بھی قرض ہو تو اللہ تعالیٰ اسے پورا کر دیتا ہے۔ آپ نے یہ دعا سکھائی۔
اَللّٰهُمَّ فَارِجَ الْهَمِّ كَاشِفَ الْغَمِّ مُجِيبَ دَعْوَةِ الْمُضْطَرِّينَ رَحْمَنَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَرَحِيمَهُمَا أَنْتَ تَرْحَمُنِي فَارْحَمْنِي بِرَحْمَةٍ تُغْنِينِي بِهَا عَنْ رَحْمَةِ مَنْ سِوَاكَ
حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ خود فرماتے ہیں کہ ان کے ذمے کچھ قرض باقی تھا، اور جب انہوں نے یہ دعا مانگنی شروع کی تو اللہ تعالیٰ نے انہیں اتنا مال عطا فرمایا کہ نہ صرف قرض ادا ہوا بلکہ بعد میں وصیت اور میراث میں بھی حصہ بچا۔
حوالہ: مدارج النبوۃ
اسی سلسلے میں حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے مروی دوسری دعا بھی نہایت مؤثر ہے، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں غم اور قرض سے نجات کے لیے صبح و شام پڑھنے کی تلقین فرمائی
اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحُزْنِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْجُبْنِ وَالْبُخْلِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ غَلَبَةِ الدَّيْنِ وَقَهْرِ الرِّجَالِ
حوالہ: مستدرک حاکم، کتاب الدعاء، حدیث نمبر 1950؛ ابوداؤد، کتاب الصلوٰۃ
٭قرضوں سے نجات کے لیے انمول دعائیں
حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں مشہور واقعہ ہے کہ ایک مکاتَب غلام اپنی کتابت (رقم) ادا کرنے سے عاجز ہو کر ان کے پاس مدد کے لیے آیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں ایسے کلمات سکھائے تھے کہ اگر ان پر قرضِ صیر (یمن کے پہاڑ کے برابر) بھی ہو تو اللہ تعالیٰ ادا کروا دیتا ہے۔
اَللّٰهُمَّ اكْفِنِي بِحَلَالِكَ عَنْ حَرَامِكَ وَأَغْنِنِي بِفَضْلِكَ عَمَّنْ سِوَاكَ
اسی طرح حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک یہودی نے ان کا قرض روک لیا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں یہ دعا سکھائی، اور فرمایا کہ اگر ان پر یمن کے پہاڑ جتنا قرض بھی ہو تو اللہ اسے ادا کروا دے گا۔
قُلِ اللَّهُمَّ مَالِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَاءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَاءُ… وَتَرْزُقُ مَنْ تَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ
حوالہ: ترمذی، ترغیب 6/213 [سورۃ آل عمران]
٭وسعتِ رزق اور ادائے قرض کے لیے مخصوص عمل
عشاء کی نماز کے بعد گیارہ بار درود شریف، پھر سو بار “یا وھاب” اور اس کے بعد سو بار درود شریف پڑھ کر یہ دعا مانگنے کا معمول بزرگوں سے منقول ہے۔
يَا وَهَّابُ هَبْ لِي مِنْ نِعْمَةِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ تُعْطِيهِمَا مَنْ تَشَاءُ إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ
٭روزگار، رزق کی کشادگی، اور ملازمت کے لیے
روزگار کے لیے: عشاء کی نماز کے بعد بلاواسطہ (بغیر تحویذ کے) 42 مرتبہ پانچ نمازوں کے بعد “یا باسط” پڑھا جائے۔
رزق کی کشادگی کے لیے: عشاء کی نماز کے بعد 1100 مرتبہ “یا مغنی” پڑھنا رزق کی وسعت کے لیے بہت مفید بتایا گیا ہے۔
ملازمت وغیرہ کے لیے: عشاء کے بعد 1100 مرتبہ “یا لطیف” پڑھ کر گیارہ بار درود شریف پڑھ لیا جائے تو معاملات بہتر ہو جاتے ہیں۔
مشکلات اور رنج و غم سے نجات کے وظائف

٭حل مشکلات کے لیے سجدے میں تلاوت
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سب سے پہلے نازل ہونے والی سورت “علق” میں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا: سجدہ کرو اور قریب ہو جاؤ۔ اسی اصول پر عمل کرتے ہوئے علماء اور بزرگانِ دین نے سخت پریشانی کی حالت میں قرآن مجید کی چودہ آیاتِ سجدہ کو سجدہ کر کے پڑھنے کا معمول بنایا، کیونکہ سجدے کی حالت میں بندہ اپنے رب کے سب سے قریب ہوتا ہے۔
٭اکسیر عمل قرآنی — وہ آیات جن کا آغاز لفظ “اللہ” سے ہوتا ہے
حضرت مولانا محمد طاہر رحمۃ اللہ علیہ نے تحریر فرمایا کہ قرآن کریم کی وہ آیات جو لفظ “اللہ” سے شروع ہوتی ہیں، انہیں ہر مشکل و حاجت کے وقت پڑھنا ایک آزمودہ عمل ہے۔ یہ آیات سورۃ البقرہ، آل عمران، النساء، الانعام، الانفال، یونس، ہود، الرعد، ابراہیم، طٰہٰ، الحج، النور، النمل، العنکبوت، الروم، الشعراء، السجدہ، الزمر، المومن اور اخلاص میں پھیلی ہوئی ہیں، اور مصنف کے بقول اس عمل نے ان کی زندگی کے بڑھاپے تک ان کے بہت سے مسائل حل کیے۔
٭دنیا و آخرت کے کاموں پر کفایت کا نبوی نسخہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سات مرتبہ یہ کلمہ پڑھنے سے اللہ تعالیٰ ہر معاملے میں کفایت فرماتا ہے، چاہے وہ دنیاوی ہو یا اخروی۔
حَسْبِيَ اللهُ لَا إِلٰهَ إِلَّا هُوَ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ
حوالہ: [سورۃ الطلاق: 3] اور [سورۃ التوبہ: 129]
٭حل مشکلات کا بہترین وظیفہ
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مشکل کے وقت یہ دعا پڑھا کرتے تھے۔
اَللّٰهُمَّ لَا سَهْلَ إِلَّا مَا جَعَلْتَهُ سَهْلًا وَأَنْتَ تَجْعَلُ الْحَزَنَ إِذَا شِئْتَ سَهْلًا
٭مصیبت یا حادثے میں فوری پڑھی جانے والی دعا
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جب کسی مصیبت میں گرفتار ہو جاؤ تو یہ پڑھو، اللہ تعالیٰ ہر بلا دور فرما دے گا۔
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيمِ
٭لا حول ولا قوۃ الا باللہ کے چار عظیم فوائد
یہ کلمہ جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے۔ اس کے پڑھنے سے بندہ صالح اعمال اختیار کرنے اور گناہوں سے بچنے کی توفیق پاتا ہے، جب بندہ یہ کلمہ پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ عرش پر فرشتوں سے فرماتا ہے کہ میرا بندہ سرکشی چھوڑ کر میری طرف رجوع کر گیا، اور یہ کلمہ ہر قسم کی دنیوی و اخروی بیماری کی دوا ہے۔ شبِ معراج میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا گزر حضرت ابراہیم علیہ السلام پر ہوا تو انہوں نے فرمایا کہ اپنی امت کو حکم دیں کہ جنت کے باغ لگانے کے لیے یہی کلمہ پڑھیں۔
حوالہ: مرقاۃ شریف، مشکوٰۃ شریف
٭سختی اور رنج سے نجات کی دعا
حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ حضرت یونس علیہ السلام کی “ذوالنون” والی دعا، جو انہوں نے مچھلی کے پیٹ میں مانگی تھی، کوئی مسلمان جب بھی مانگے، اللہ اس کی دعا قبول فرماتا ہے۔
لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ
٭رنج و غم کو خوشی میں بدلنے والی دعا
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب بھی کوئی بندہ رنج و فکر میں گرفتار ہو کر یہ کلمات پڑھے، تو اللہ تعالیٰ اس کی ضرور فکر دور کرے گا اور رنج کو خوشی سے بدل دے گا۔
اَللّٰهُمَّ إِنِّي عَبْدُكَ وَابْنُ عَبْدِكَ وَابْنُ أَمَتِكَ نَاصِيَتِي بِيَدِكَ مَاضٍ فِيَّ حُكْمُكَ عَدْلٌ فِيَّ قَضَاؤُكَ أَسْأَلُكَ بِكُلِّ اسْمٍ هُوَ لَكَ سَمَّيْتَ بِهِ نَفْسَكَ أَنْ تَجْعَلَ الْقُرْآنَ رَبِيعَ قَلْبِي وَنُورَ صَدْرِي وَجَلَاءَ حُزْنِي وَذَهَابَ هَمِّي
٭ہر پریشانی سے نجات کے لیے دعا
معروف بزرگوں سے منقول ہے کہ جو شخص تین مرتبہ یہ دعا پڑھے، اللہ تعالیٰ اسے کسی بھی قسم کی پریشانی سے نجات دے دیتا ہے۔
يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ بِرَحْمَتِكَ أَسْتَغِيثُ
٭بےبسی اور پریشانی کے وقت کی دعا
یہ وہی دعا ہے جو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کے ظلم سے نجات پا کر، بے وسیلہ ہونے کے باوجود، مدین پہنچ کر مانگی تھی، اور اسی دعا کی برکت سے حضرت شعیب علیہ السلام سے ان کی ملاقات ہوئی جس سے ان کی زندگی خوشگوار موڑ پر آ گئی۔
رَبِّ إِنِّي لِمَا أَنْزَلْتَ إِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِيرٌ
حوالہ: [سورۃ القصص: 24]
٭سخت مصیبت میں پڑھنے کی دعا
حضرت ابومسلمہ عبیداللہ بیان فرماتے ہیں کہ ایک شخص سخت مصیبت میں گرفتار ہو کر رات کو یہ دعا مانگتا اور مقصد کا تصور کرتا رہا، اللہ تعالیٰ نے اس کی تمام حاجات پوری فرما دیں
يَا سَامِعَ كُلِّ صَوْتٍ وَيَا بَارِئَ النُّفُوسِ بَعْدَ الْمَوْتِ وَيَا مَنْ لَا تُغَشِّيهِ الظُّلُمَاتُ وَيَا مَنْ لَا يَشْغَلُهُ شَيْءٌ عَنْ شَيْءٍ
حوالہ: الفرج بعد الشدۃ
درست ذہنی رویہ: وظائف کے ساتھ توکل بھی ضروری ہے

یہ سمجھنا ضروری ہے کہ وظائف اور دعائیں محض الفاظ کی تکرار نہیں بلکہ دل کے یقین اور اللہ پر توکل کے ساتھ پڑھی جانی چاہئیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت یہی بتاتی ہے کہ عبادت، صبر اور دعا ساتھ ساتھ چلیں، تبھی رزق اور مشکلات دونوں میں حقیقی برکت محسوس ہوتی ہے۔ اسی موضوع پر ہماری سائٹ پر ایک تفصیلی مضمون توکل کیا ہے کے عنوان سے موجود ہے، جسے پڑھ کر آپ رزق کی فکر کو درست اسلامی نقطہ نظر سے سمجھ سکتے ہیں۔
یاد رکھیں: ان دعاؤں کا مقصد صرف مانگنا نہیں بلکہ اپنے دل کو اللہ کی رضا پر راضی رکھنا بھی ہے۔ رزق میں کمی یا زیادتی، دونوں اللہ کی حکمت کا حصہ ہیں۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
سوال: رزق میں کشادگی کے لیے سب سے آسان اور مؤثر عمل کون سا ہے؟
روزانہ فجر کے بعد “اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ عِلْمًا نَافِعًا وَرِزْقًا طَيِّبًا وَعَمَلًا مُتَقَبَّلًا” پڑھنا سب سے آسان اور مسنون عمل ہے، جسے روزانہ کی عادت بنایا جا سکتا ہے۔
سوال: قرض کی ادائیگی کے لیے سب سے مجرب دعا کون سی ہے؟
“اَللّٰهُمَّ اكْفِنِي بِحَلَالِكَ عَنْ حَرَامِكَ” اور “قُلِ اللَّهُمَّ مَالِكَ الْمُلْكِ” — یہ دونوں دعائیں قرض کی ادائیگی کے لیے خاص طور پر مجرب بتائی گئی ہیں۔
سوال: مشکلات اور پریشانی کے وقت کیا پڑھنا چاہیے؟
“لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيمِ” اور “يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ بِرَحْمَتِكَ أَسْتَغِيثُ” — یہ دونوں کلمات ہر قسم کی پریشانی میں سکون اور مدد کا ذریعہ ہیں۔
سوال: کیا صرف دعا پڑھنے سے رزق میں اضافہ ہو جاتا ہے؟
دعا ایک ذریعہ ہے، نتیجہ اللہ کی مشیت پر منحصر ہے۔ اسی لیے وظیفے کے ساتھ حلال اسبابِ رزق اختیار کرنا، صبر رکھنا اور توکل کرنا بھی ضروری ہے۔
حوالہ
یہ معلوماتی و روحانی مضمون حضرت سرکار پیر ابونعمان رضوی سیفی صاحب دامت برکاتہم العالیہ کی معروف تصنیف “بھَارِسَیْفِیَّۃ” جلد سوم سے ماخوذ ہے۔

اگر یہ مضمون آپ کے لیے مفید ثابت ہوا ہو تو اپنی قیمتی رائے کا اظہار ضرور کریں اور اسے اپنے دوستوں اور عزیز و اقارب کے ساتھ شیئر کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس سے فائدہ حاصل کر سکیں۔
کتاب حاصل کرنے کے لیے
اگر آپ “بھَارِسَیْفِیَّۃ” خریدنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے نمبر یا لنک کے ذریعے رابطہ کر سکتے ہیں۔
00923077869280 رابطہ:
متعلقہ مضامین
توکل کیا ہے — مشکلات میں اللہ پر بھروسہ
ہماری مشکلات اور اُن کا صحیح حل
نمازوں کے بعد پڑھنے والی دعائیں

