اسماءُ الحسنیٰ

اسماءُ الحسنیٰ: (حصہ دوم)

 اللہ کے 99 ناموں کی فضیلت، معنی اور ذکر کا صحیح طریقہ

حصہ اول [لنک] میں ہم نے اسماءُ الحسنیٰ کا تعارف، قرآن کا حکم، ننانوے ناموں والی حدیث، “احصاء” کے تین درجے، اسمِ اعظم اور ذکر کے آداب پڑھے تھے۔ وہیں الرحمن سے الباعث تک کے نام اور ان کے منقول معمولات بھی آئے تھے۔

اس حصے میں ہم تین سوالوں پر بات کریں گے جو قاری سب سے زیادہ پوچھتا ہے: اسماء کے ساتھ دعا کیسے قبول ہوتی ہے، ان کے ذریعے اللہ کی محبت دل میں کیسے بنتی ہے، اور نفع بخش علم کا ان سے کیا تعلق ہے۔ آخر میں الشہید سے الصبور تک باقی نام اور ان کے منقول معمولات ہیں۔ شروع کرنے سے پہلے ایک بات یاد رکھیں: دعا کے ادب جیسے اخلاص، درود اور عاجزی کے بغیر کوئی نام پڑھنا محض الفاظ دہرانا ہے۔ ان کا تفصیلی بیان ہم “دعا کے آداب” میں کر چکے ہیں۔

جلالی اور جمالی اسماء: اللہ کے ناموں کے دو رنگ

علماء نے اللہ کے ناموں کو سمجھنے کے لیے دو بڑے رنگ بیان کیے ہیں۔

٭جمالی اسماء: جن میں رحمت، محبت اور نرمی جھلکتی ہے، جیسے الرحمن، الرحیم، الودود، الرؤوف، البر، العفو۔

٭جلالی اسماء: جن میں عظمت، قدرت اور غلبہ نمایاں ہے، جیسے القہار، الجبار، المتکبر، المنتقم، القوی۔

یہ تقسیم ہمیں سمجھاتی ہے کہ دونوں اللہ کے کمال ہی کے رنگ ہیں۔ جو شخص اللہ کی رحمت کا ذکر کرے وہ اس کے جلال کو نہ بھولے، اور جلال کا ذکر کرنے والا اس کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔ ایمان کی صحیح کیفیت خوف اور امید کے درمیان ہے۔ اسی لیے جلالی ناموں سے دعا کرتے ہوئے بھی نیت کسی کو نقصان پہنچانے کی نہیں، بلکہ اپنی حفاظت اور اللہ کی عظمت کا اقرار ہونی چاہیے۔

دعاؤں کی قبولیت اور اللہ کے نام

اسماءُ الحسنیٰ
دعاؤں کی قبولیت اوراسماءُ الحسنیٰ

دعا مانگنے والے کے لیے سب سے بڑی تسلی قرآن کی یہ آیت ہے۔

وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ ۖ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ (البقرہ: 186)

ترجمہ: اور جب میرے بندے آپ سے میرے بارے میں پوچھیں تو (کہہ دیں کہ) میں قریب ہوں، پکارنے والے کی پکار کا جواب دیتا ہوں جب وہ مجھے پکارتا ہے۔

یہ آیت بتاتی ہے کہ پکارنے کے لیے کسی واسطے کی ضرورت نہیں۔ اسماء کے ساتھ دعا کا مطلب یہ ہے کہ بندہ اپنی حاجت کے مطابق اللہ کی کوئی صفت چنے، جیسے رزق کی مانگ میں “یا رزّاق” اور مغفرت میں “یا غفّار”۔ یہ طریقہ بھی دعا کے ادب میں آتا ہے کہ پہلے اللہ کی حمد و ثنا، پھر درود، پھر حاجت۔

غم اور پریشانی میں نبی ﷺ کی سکھائی ہوئی دعا

حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ نبی رحمتﷺ نے فرمایا کہ جس کسی کو غم یا پریشانی پہنچے اور وہ یہ دعا کرے تو اللہ اس کا غم دور فرما دیتا ہے اور اس کی جگہ کشادگی عطا فرماتا ہے

اللَّهُمَّ إِنِّي عَبْدُكَ، ابْنُ عَبْدِكَ، ابْنُ أَمَتِكَ، نَاصِيَتِي بِيَدِكَ، مَاضٍ فِيَّ حُكْمُكَ، عَدْلٌ فِيَّ قَضَاؤُكَ، أَسْأَلُكَ بِكُلِّ اسْمٍ هُوَ لَكَ سَمَّيْتَ بِهِ نَفْسَكَ، أَوْ عَلَّمْتَهُ أَحَدًا مِنْ خَلْقِكَ، أَوْ أَنْزَلْتَهُ فِي كِتَابِكَ، أَوِ اسْتَأْثَرْتَ بِهِ فِي عِلْمِ الْغَيْبِ عِنْدَكَ، أَنْ تَجْعَلَ الْقُرْآنَ رَبِيعَ قَلْبِي، وَنُورَ صَدْرِي، وَجَلَاءَ حُزْنِي، وَذَهَابَ هَمِّي (مسندِ احمد)

ترجمہ: اے اللہ! میں تیرا بندہ ہوں، تیرے بندے کا بیٹا، تیری بندی کا بیٹا۔ میری پیشانی تیرے ہاتھ میں ہے، مجھ میں تیرا حکم نافذ ہے، میرے بارے میں تیرا فیصلہ عدل ہے۔ میں تجھ سے تیرے ہر اس نام کے واسطے سے سوال کرتا ہوں جو تیرا ہے، جس سے تُو نے اپنے آپ کو موسوم کیا، یا اپنی مخلوق میں سے کسی کو سکھایا، یا اپنی کتاب میں نازل کیا، یا اپنے علمِ غیب میں اپنے پاس رکھا، کہ تُو قرآن کو میرے دل کی بہار، میرے سینے کا نور، میرے غم کا ازالہ اور میری پریشانی کا خاتمہ بنا دے۔

اس دعا میں “بِكُلِّ اسْمٍ” کے الفاظ اس بات کی بھی دلیل ہیں جو ہم حصہ اول میں لکھ چکے ہیں کہ اللہ کے نام ننانوے میں محدود نہیں۔

“یا ذا الجلال والاکرام” کو لازم پکڑیں

نبی ﷺ نے فرمایا۔

اسماءُ الحسنیٰ
اسماءُ الحسنیٰ

یعنی “یا ذا الجلال والاکرام” کو بار بار پکارو۔ اس سے معلوم ہوا کہ ایک نام کے ساتھ ٹھہر کر، بار بار اور دل لگا کر دعا کرنا مسنون طریقہ ہے۔

اگر دعا قبول ہوتی نظر نہ آئے؟

نبی ﷺ کی تعلیم کے مطابق (مسندِ احمد) کوئی مسلمان جب ایسی دعا مانگتا ہے جس میں گناہ یا قطع رحمی نہ ہو تو اللہ اسے تین میں سے ایک چیز ضرور دیتا ہے: وہی چیز جو مانگی تھی، یا اس کی جگہ کوئی برائی ٹال دی جاتی ہے، یا آخرت میں اس کا ذخیرہ کر دیا جاتا ہے۔ اس لیے اسماء کے ورد میں جلد بازی نہ کریں۔

دعا کے بعد اگر کوئی حاجت پوری ہو تو ہم حصہ اول میں بتا چکے ہیں کہ “الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي بِعِزَّتِهِ وَجَلَالِهِ تَتِمُّ الصَّالِحَاتُ” پڑھیں۔ حفاظتی دعاؤں کے سلسلے میں “آیت الکرسی کا راز” بھی پڑھ لیں، جس میں “الحی القیوم” کا ذکر ہے۔

محبتِ الٰہی: الولی، الودود، الرؤوف، البر

اسماءُ الحسنیٰ
محبتِ الٰہی

بینر کا دوسرا موضوع محبتِ الٰہی ہے۔ قرآن میں اللہ کی محبت اور قرب کو بیان کرنے والے کئی نام آئے ہیں

وَهُوَ الْغَفُورُ الْوَدُودُ (البروج: 14)

وَهُوَ الْوَلِيُّ الْحَمِيدُ (الشوریٰ: 28)

إِنَّ اللَّهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوفٌ رَّحِيمٌ (البقرہ: 143)

لولی کا مطلب ہے دوست اور کارساز۔ اللہ فرماتا ہے

اللَّهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا يُخْرِجُهُم مِّنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ (البقرہ: 257)

یعنی اللہ ایمان والوں کا دوست ہے، انہیں اندھیروں سے روشنی کی طرف نکالتا ہے۔ اللہ کی محبت پانا صرف زبان سے نام لینے سے نہیں، اس کے تقاضوں پر چلنے سے ہوتا ہے۔ جو شخص “الرؤوف” پڑھتا ہے، اسے اپنے گھر والوں اور ماتحتوں سے نرمی بھی سیکھنی چاہیے۔

علمِ نافع: الہادی، النور، الرشید

اسماءُ الحسنیٰ
علمِ نافع

تیسرا موضوع علم اور ہدایت ہے۔ قرآن کہتا ہے

وَكَفَىٰ بِرَبِّكَ هَادِيًا وَنَصِيرًا (الفرقان: 31)

اللَّهُ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ (النور: 35)

“الہادی” ہدایت دینے والا ہے، “النور” روشنی اور “الرشید” درست راستہ دکھانے والا۔ اس لیے جب کوئی علم، فہم یا سمجھ مانگے تو ان ناموں کے ساتھ دعا کرنا بہت مناسب ہے۔ لیکن علمِ نافع کا اصل ذریعہ پڑھنا، سمجھنا اور عمل کرنا ہے۔ اسماء کا ورد اس کا متبادل نہیں، مددگار ہے۔ جب کسی اہم فیصلے میں راستہ نہ سوجھے تو سنت یہی ہے کہ استخارہ کیا جائے، جس کا طریقہ ہم “استخارہ کیسے کریں” میں بیان کر چکے ہیں۔

روزمرہ زندگی میں اسماء کے تقاضے

اسم کا ورد اسی وقت پورا فائدہ دیتا ہے جب اس کا رنگ زندگی میں بھی نظر آئے۔ یہ غور و فکر کے چند نکات ہیں (حدیث نہیں، تدبر کی ایک ترتیب ہے)

عملی تقاضاغور و فکر کا نکتہاسمِ مبارک
تنہائی میں بھی گناہ سے بچنا، سچ بولنااللہ ہر حال میں گواہ ہےالشَّهِيدُ
تکلیف میں صبر، جلد بازی سے پرہیزوہ بہت بردبار ہےالصَّبُورُ
غصے میں نرمیوہ بہت شفیق ہےالرَّؤُوفُ
توبہ میں دیر نہ کرنا، دوسروں کو معاف کرناوہ توبہ قبول کرتا اور معاف کرتا ہےالتَّوَّابُ، الْعَفُوُّ
قناعت، مخلوق سے امیدیں کم کرناوہ بے نیاز ہےالْغَنِيُّ
دنیا کے مال پر مغرور نہ ہوناوہی باقی رہنے والا ہےالْبَاقِي، الْوَارِثُ
مشورہ، استخارہ اور علم کی طلبوہی راستہ دکھاتا ہےالْهَادِي، الرَّشِيدُ

رزق کے لیے اسماء کا ذکر ہم پہلے “رزق میں برکت کا وظیفہ” میں اور توکل کی حقیقت “توکل کیا ہے” میں بیان کر چکے ہیں۔ دونوں کو اس تقاضوں والی ترتیب کے ساتھ پڑھیں۔

جوڑے والے ناموں کا ادب

اسماءُ الحسنیٰ میں کچھ نام اپنے مخالف معنی والے نام کے ساتھ جوڑے کی صورت میں آتے ہیں

الْقَابِضُ اور الْبَاسِطُ (روکنے والا اور کشادگی دینے والا)

الْخَافِضُ اور الرَّافِعُ (پست کرنے والا اور بلند کرنے والا)

الْمُعِزُّ اور الْمُذِلُّ (عزت دینے والا اور ذلت دینے والا)

الْمُقَدِّمُ اور الْمُؤَخِّرُ (آگے کرنے والا اور پیچھے کرنے والا)

الضَّارُّ اور النَّافِعُ (نقصان اور نفع پہنچانے والا)

الْمُبْدِئُ اور الْمُعِيدُ (ابتدا کرنے والا اور لوٹانے والا)

کئی علماء کی رائے ہے کہ ایسے ناموں میں سے ایک نام اکیلا نہیں پڑھنا چاہیے، بلکہ دوسرے کے ساتھ ملا کر پکاریں، کیونکہ کمال دونوں کے مجموعے میں ہے۔ اس لیے “الضار” پڑھنا ہو تو “الضار النافع” کہیں، اور “المذل” کے ساتھ “المعز” ملائیں۔ حصہ اول اور اس حصے کی ٹیبلوں میں جو معمولات منقول ہیں، ان میں اس بات کا خیال رکھیں۔

الشہید سے الصبور تک اسماء الحسنیٰ کے فوائد و ثمرات

اسماءُ الحسنیٰ
الشہید سے الصبور تک اسماءُ الحسنیٰ

آگے کے معمولات کتاب بہارِ سیفیہ (حصہ سوم) میں مذکور ہیں۔ حصہ اول کی طرح یہ بھی بزرگوں کے تجربات ہیں، قرآن یا حدیث کے احکام نہیں، اس لیے انہیں شرعی لازم نہ سمجھیں۔ ہر معمول کے اول و آخر درود شریف پڑھنا بھی ان کے آداب میں ہے، اور کسی لمبے عمل کو کسی اہلِ علم کی رہنمائی میں شروع کرنا بہتر ہے۔

منقول معمولمقصدمعنیاسمِ مبارک
کثرت سے ذکرہر حاجت میں مددکارسازالْوَكِيلُ
کثرت سے ذکرکم ہمتی دور ہو، ہمت پیدا ہوبڑی قوت والاالْقَوِيُّ
کثرت سے؛ مشکل میں شبِ جمعہ ہزار باراللہ کی دوستی اور مشکل کشائیدوست و کارسازالْوَلِيُّ
کثرت سے ذکراچھے اخلاق و اقوالقابلِ تعریفالْحَمِيدُ
کوئی چیز بھول جائے تو بار بار؛ (الْمُبْدِئُ کے ساتھ)بھولی بات یاد آنے کے لیےلوٹانے والاالْمُعِيدُ
کثرت سے ذکرجدائی یا قید کے خوف میںزندگی دینے والاالْمُحْيِي
کثرت سے ذکراسراف اور نفس کی سرکشی کی اصلاحموت دینے والاالْمُمِيتُ
“یا حی یا قیوم” فجر سے طلوع تکعبادت میں مستعدیسب کو قائم رکھنے والاالْقَيُّومُ
لقمے پر پڑھ کر کھاناقلب کی تقویتسب کچھ پانے والاالْوَاجِدُ
ہمیشہ کثرت سےقلب کا نوربزرگی والاالْمَاجِدُ
ہزار بارغیر اللہ سے دل کا تعلق کم ہونے کے لیےیکتاالْوَاحِدُ
آخرِ شب 125 بارصدق و اخلاص کے آثاربے نیازالصَّمَدُ
دو رکعت کے بعد 100 بارقوت اور حوصلہقدرت والاالْقَادِرُ
نیند سے اٹھ کر کثرت سےمراد کی تدبیر میں آسانیکامل اختیار والاالْمُقْتَدِرُ
کثرت سے ذکربرے کاموں سے توبہپیچھے کرنے والاالْمُؤَخِّرُ
مسافر ہر جمعہ ہزار بارگھر والوں سے جلد ملاقاتسب سے پہلےالْأَوَّلُ
روزانہ ہزار باراللہ کے سوا خیالات سے دل کی صفائیسب کے بعدالْآخِرُ
اشراق کے وقت کثرت سےدل میں نورظاہرالظَّاهِرُ
روزانہ تین بار، ایک گھنٹے تکانس کی کیفیتپوشیدہالْبَاطِنُ
کثرت سے ذکررفعت اور درستیبلند و برترالْمُتَعَالِي
سات بار پڑھ کر بچے پر دمبچے کی نیک بختیاحسان کرنے والاالْبَرُّ
بعد نمازِ چاشت 360 بارتوبہ کی توفیقتوبہ قبول کرنے والاالتَّوَّابُ
کثرت سے ذکرگناہوں کی معافی، رضائے الٰہیمعاف کرنے والاالْعَفُوُّ
غصے کے وقت 10 بار اور 10 بار درودغصے میں سکوننہایت شفیقالرَّؤُوفُ
روزانہ 1100 بارتنگ دستی دور ہونے کے لیےبادشاہی کا مالکمَالِكُ الْمُلْكِ
کثرت سے ذکرعزت و بزرگیجلال و اکرام والاذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ
مداومتعبادت میں وسوسے سے حفاظتانصاف کرنے والاالْمُقْسِطُ
مداومتمقاصد پر یکسوئی؛ گم شدہ چیز ملنے کے لیےجمع کرنے والاالْجَامِعُ
ہزار بارتونگریغنی کرنے والاالْمُغْنِي
شبِ جمعہ سو بار (دونوں ملا کر)ضرر سے حفاظت، نفع کی طلبنقصان / نفع پہنچانے والاالضَّارُّ، النَّافِعُ
کثرت سے ذکردل کا نورروشنیالنُّورُ
کثرت سے ذکرصحیح بصیرت و فہمہدایت دینے والاالْهَادِي
ہزار بارحاجت پوری ہونے کے لیےبے مثال پیدا کرنے والاالْبَدِيعُ
ہزار بارغم اور ضرر سے نجاتہمیشہ رہنے والاالْبَاقِي
مغرب و عشاء کے درمیان ہزار بارحیرانی دور ہونے کے لیےسب کا وارثالْوَارِثُ
بعد نمازِ عشاء 100 بارعمل کی قبولیترہنمائی کرنے والاالرَّشِيدُ
طلوعِ آفتاب سے پہلے 100 بارتکلیف سے حفاظتبہت بردبارالصَّبُورُ

عام غلطیاں جن سے بچنا چاہیے

اسماءُ الحسنیٰ
عام غلطیاں

حصہ اول کی غلطیوں کے علاوہ دو باتیں اور یاد رکھیں

٭جلالی ناموں کو دوسروں کے خلاف ہتھیار بنانا: القہار، المنتقم یا الجبار کو کسی کو نقصان پہنچانے کی نیت سے پڑھنا اسماء کے مقصد کے خلاف ہے۔ اپنی حفاظت اور اللہ پر بھروسے کی نیت رکھیں۔

٭کسی ایک نام کو “ہر مسئلے کی کنجی” سمجھ لینا: اسماء کا مجموعہ اللہ سے تعلق کا راستہ ہے، کوئی منتر نہیں۔

اکثر پوچھے گئے سوالات(FAQ)

کیا جلالی نام (جیسے القہار، المنتقم) پڑھنا برا ہے؟
نہیں۔ یہ بھی اللہ کے حسین نام ہیں، مگر ان کے ساتھ ادب اور حفاظت کی نیت لازم ہے، اور جوڑے والے ناموں کو ملا کر پڑھنا بہتر ہے۔

کیا بغیر کسی شیخ کی اجازت کے اسماء کا ذکر کر سکتے ہیں؟
اللہ کے ناموں کے ساتھ عام ذکر اور دعا ہر مسلمان کر سکتا ہے۔ البتہ کتابوں میں مذکور طویل اعداد والے عملیات کو ہمارے مشائخ کسی اہلِ علم کی رہنمائی میں شروع کرنے کی تلقین کرتے ہیں۔

کیا اسماء کو لکھ کر پاس رکھا یا پانی پر پڑھ کر پیا جا سکتا ہے؟
یہ علماء کے درمیان اختلافی مسئلہ ہے۔ بعض اللہ کے ناموں اور قرآنی آیات پر مشتمل تعویذ کو چند شرائط کے ساتھ جائز کہتے ہیں اور بعض منع کرتے ہیں۔ بنیادی شرط یہ ہے کہ اثر اللہ کی طرف سے سمجھا جائے، تعویذ یا نام کو خود مؤثر نہ مانا جائے۔

اگر ورد کے باوجود حاجت پوری ہوتی نظر نہ آئے تو؟
دعا کی قبولیت کئی صورتوں میں ہوتی ہے، جیسا اوپر بیان ہوا۔ ورد جاری رکھیں، اسباب بھی اختیار کریں، اور اللہ کے فیصلے پر بھروسا رکھیں۔

بیماری میں اسماء کا ورد کافی ہے؟
نہیں۔ ورد اور دعا کے ساتھ مستند طبی علاج لازم ہے۔

اسماءُ الحسنیٰ کا حصہ اول ہمیں ان کی پہچان اور آداب سکھاتا ہے، اور حصہ دوم ان کے ذریعے دعا، محبتِ الٰہی اور علمِ نافع کی طرف لے جاتا ہے۔ جلالی اور جمالی دونوں رنگوں کو مانیں، جوڑے والے ناموں کا ادب رکھیں، اور ہر ورد کو اپنے عمل میں اتارنے کی کوشش کریں۔

اے اللہ! ہمیں اپنے ناموں کے ذریعے تجھ سے مانگنے، تجھے پہچاننے اور تجھ سے محبت کرنے کی توفیق عطا فرما۔ آمین۔

مزید تفصیل کے لیے

اسماءُ الحسنیٰ
“بہارِ سیفیہ” (حصہ سوم)

اسماء کے مزید خواص، معمولات اور ان کی ترتیب کتاب “بہارِ سیفیہ” (حصہ سوم) میں درج ہے۔ یہ حضرت سیف الرحمن مبارک کے مجرب عملیات و وظائف کا مجموعہ ہے، جسے پیر محمد رمضان رضوی سیفی نے مرتب کیا۔ یہ کتاب ہر دکان پر نہیں ملتی، منتخب مکاتب کے ذریعے مہیا کی جاتی ہے، اور اب اسے آن لائن بھی منگوایا جا سکتا ہے۔

 کتاب آن لائن آرڈر کریں → [لنک]

ننانوے ناموں کی مکمل فہرست (قابلِ توسیع ٹیبل)

یہ مشہور فہرست ہے جو ترمذی کی روایت کی بنیاد پر عام طور پر چھاپی جاتی ہے۔ جیسا حصہ اول میں بتایا گیا، مختلف فہرستوں میں معمولی فرق ہے اور ناموں کی تعداد ننانوے پر ختم نہیں ہوتی

#عربیتلفظاردو معنی
1الرَّحْمَنُar-Rahmanبہت مہربان
2الرَّحِيمُar-Rahimنہایت رحم کرنے والا
3الْمَلِكُal-Malikبادشاہ
4الْقُدُّوسُal-Quddusنہایت پاک
5السَّلَامُas-Salamسلامتی دینے والا
6الْمُؤْمِنُal-Mu’minامن دینے والا
7الْمُهَيْمِنُal-Muhayminنگہبان
8الْعَزِيزُal-Azizغالب
9الْجَبَّارُal-Jabbarزبردست
10الْمُتَكَبِّرُal-Mutakabbirبڑائی والا
11الْخَالِقُal-Khaliqپیدا کرنے والا
12الْبَارِئُal-Bari’وجود بخشنے والا
13الْمُصَوِّرُal-Musawwirصورت بنانے والا
14الْغَفَّارُal-Ghaffarبہت بخشنے والا
15الْقَهَّارُal-Qahharسب پر غالب
16الْوَهَّابُal-Wahhabبہت عطا کرنے والا
17الرَّزَّاقُar-Razzaqروزی دینے والا
18الْفَتَّاحُal-Fattahکھولنے والا
19الْعَلِيمُal-Alimسب کچھ جاننے والا
20الْقَابِضُal-Qabidروکنے والا
21الْبَاسِطُal-Basitکشادگی دینے والا
22الْخَافِضُal-Khafidپست کرنے والا
23الرَّافِعُar-Rafi’بلند کرنے والا
24الْمُعِزُّal-Mu’izzعزت دینے والا
25الْمُذِلُّal-Mudhillذلت دینے والا
26السَّمِيعُas-Sami’سب کچھ سننے والا
27الْبَصِيرُal-Basirسب کچھ دیکھنے والا
28الْحَكَمُal-Hakamفیصلہ کرنے والا
29الْعَدْلُal-Adlعدل کرنے والا
30اللَّطِيفُal-Latifنہایت مہربان و باریک بین
31الْخَبِيرُal-Khabirباخبر
32الْحَلِيمُal-Halimبردبار
33الْعَظِيمُal-Azimعظمت والا
34الْغَفُورُal-Ghafurبہت بخشنے والا
35الشَّكُورُash-Shakurقدردان
36الْعَلِيُّal-Aliبلند و برتر
37الْكَبِيرُal-Kabirبہت بڑا
38الْحَفِيظُal-Hafizحفاظت کرنے والا
39الْمُقِيتُal-Muqitروزی اور قوت دینے والا
40الْحَسِيبُal-Hasibحساب لینے والا
41الْجَلِيلُal-Jalilبزرگی و جلال والا
42الْكَرِيمُal-Karimبہت کرم والا
43الرَّقِيبُar-Raqibنگہبان
44الْمُجِيبُal-Mujibدعا قبول کرنے والا
45الْوَاسِعُal-Wasi’وسعت والا
46الْحَكِيمُal-Hakimحکمت والا
47الْوَدُودُal-Wadudمحبت فرمانے والا
48الْمَجِيدُal-Majidبزرگی والا
49الْبَاعِثُal-Ba’ithاٹھانے والا
50الشَّهِيدُash-Shahidہر چیز پر گواہ
51الْحَقُّal-Haqqسچا اور برحق
52الْوَكِيلُal-Wakilکارساز
53الْقَوِيُّal-Qawiyyبڑی قوت والا
54الْمَتِينُal-Matinنہایت مضبوط
55الْوَلِيُّal-Waliyyدوست و مددگار
56الْحَمِيدُal-Hamidقابلِ تعریف
57الْمُحْصِيal-Muhsiہر چیز کا شمار کرنے والا
58الْمُبْدِئُal-Mubdi’ابتدا کرنے والا
59الْمُعِيدُal-Mu’idدوبارہ لوٹانے والا
60الْمُحْيِيal-Muhyiزندگی دینے والا
61الْمُمِيتُal-Mumitموت دینے والا
62الْحَيُّal-Hayyہمیشہ زندہ
63الْقَيُّومُal-Qayyumسب کو قائم رکھنے والا
64الْوَاجِدُal-Wajidسب کچھ پانے والا
65الْمَاجِدُal-Majidبزرگی والا
66الْوَاحِدُal-Wahidیکتا
67الْأَحَدُal-Ahadایک
68الصَّمَدُas-Samadبے نیاز
69الْقَادِرُal-Qadirقدرت والا
70الْمُقْتَدِرُal-Muqtadirکامل اختیار والا
71الْمُقَدِّمُal-Muqaddimآگے کرنے والا
72الْمُؤَخِّرُal-Mu’akhkhirپیچھے کرنے والا
73الْأَوَّلُal-Awwalسب سے پہلے
74الْآخِرُal-Akhirسب کے بعد
75الظَّاهِرُaz-Zahirظاہر
76الْبَاطِنُal-Batinپوشیدہ
77الْوَالِيal-Waliسب کا مالک و منتظم
78الْمُتَعَالِيal-Muta’aliبہت بلند
79الْبَرُّal-Barrاحسان کرنے والا
80التَّوَّابُat-Tawwabتوبہ قبول کرنے والا
81الْمُنْتَقِمُal-Muntaqimبدلہ لینے والا
82الْعَفُوُّal-‘Afuwwمعاف کرنے والا
83الرَّؤُوفُar-Ra’ufنہایت شفیق
84مَالِكُ الْمُلْكِMalik-ul-Mulkبادشاہی کا مالک
85ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِDhul-Jalali wal-Ikramجلال اور اکرام والا
86الْمُقْسِطُal-Muqsitانصاف کرنے والا
87الْجَامِعُal-Jami’جمع کرنے والا
88الْغَنِيُّal-Ghaniبے نیاز
89الْمُغْنِيal-Mughniغنی کرنے والا
90الْمَانِعُal-Mani’روکنے والا
91الضَّارُّad-Darrنقصان پہنچانے والا
92النَّافِعُan-Nafi’نفع پہنچانے والا
93النُّورُan-Nurروشنی
94الْهَادِيal-Hadiہدایت دینے والا
95الْبَدِيعُal-Badi’بے مثال پیدا کرنے والا
96الْبَاقِيal-Baqiہمیشہ باقی رہنے والا
97الْوَارِثُal-Warithسب کا وارث
98الرَّشِيدُar-Rashidرہنمائی کرنے والا
99الصَّبُورُas-Saburبہت بردبار

مآخذ و مراجع: قرآن مجید (البقرہ 143، 186، 257؛ البروج 14؛ الشوریٰ 28؛ الفرقان 31؛ النور 35)؛ مسندِ احمد (دعائے ابنِ مسعودؓ، دعا کی تین صورتیں)؛ جامع ترمذی (ألظّوا بیا ذا الجلال والاکرام، اسماء کی فہرست)؛ بہارِ سیفیہ (حصہ سوم)۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top