فیتھ ہیلنگ کیا ہے

فیتھ ہیلنگ کیا ہے؟

 دم اور رقیہ

دنیا کی تقریباً ہر تہذیب اور ہر مذہب میں ایسے لمحات آتے ہیں جب انسان جسمانی علاج کے ساتھ ساتھ روحانی سہارا بھی تلاش کرتا ہے۔ اسی روحانی سہارے کو عام زبان میں “فیتھ ہیلنگ” یا ایمان کے ذریعے شفا کہا جاتا ہے۔ اسلام میں یہ تصور کسی مبہم یا اندازوں پر مبنی عمل کی صورت میں موجود نہیں، بلکہ ایک واضح، مکمل اور محفوظ طریقہ کار کی شکل میں موجود ہے جسے “رقیہ” کہا جاتا ہے، اور عام بول چال میں اسے “دم” کے نام سے جانا جاتا ہے۔

یہ مضمون تفصیل سے بتائے گا کہ فیتھ ہیلنگ کا اصل مطلب کیا ہے، اسلام اسے کس طرح رقیہ اور دم کی صورت میں پیش کرتا ہے، اس کی قرآن و سنت سے دلیل کیا ہے، اور سب سے اہم بات — ایک صحیح اور جائز عمل کو توہم پرستی اور دھوکہ دہی سے کیسے الگ پہچانا جائے۔

فیتھ ہیلنگ کا اصل مطلب کیا ہے؟

فیتھ ہیلنگ سے مراد ہے کسی بیماری، پریشانی یا روحانی تکلیف سے نجات حاصل کرنے کے لیے دعا، عبادت یا روحانی وسیلے کا سہارا لینا  —   یہ عمل عام طبی علاج کے ساتھ یا اس کے متبادل کے طور پر کیا جاتا ہے۔ یہ اصطلاح خود بہت وسیع ہے اور مختلف مذاہب اور ثقافتوں میں مختلف انداز میں استعمال ہوتی ہے، اور بالکل اسی وجہ سے مسلمانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اسے اسلامی نقطہ نظر سے سمجھیں، ورنہ غیر ضروری الجھن اور غلط فہمی پیدا ہو سکتی ہے۔

اسلام میں یہ کوئی نئی یا خود ساختہ چیز نہیں۔ اس کا ایک واضح نام ہے، ایک متعین طریقہ ہے، اور اس کی کچھ حدود بھی مقرر ہیں — اور یہی وہ جگہ ہے جہاں “رقیہ” کا تصور سامنے آتا ہے۔

اسلام میں اس کا متبادل: رقیہ اور دم

فیتھ ہیلنگ کیا ہے
دم اور رقیہ کیا ہے

رقیہ (رقية) عربی لفظ ہے جس کا مطلب ہے قرآن کریم کی آیات، اللہ کے اسماء الحسنیٰ اور مستند دعاؤں کی تلاوت کسی ایسے شخص پر کرنا جو حفاظت یا شفا چاہتا ہو۔ برصغیر میں اسی عمل کو عام زبان میں “دم کرنا” کہا جاتا ہے — یعنی تلاوت کے بعد آہستگی سے کسی شخص، پانی یا تیل پر پھونک مارنا۔

یہ کوئی مقامی رسم و رواج نہیں بلکہ براہ راست نبی کریم ﷺ کی سنت سے ثابت شدہ عمل ہے۔ آپ ﷺ نے خود بھی رقیہ کیا اور اپنے صحابہ کرام کو بھی اس کی ترغیب دی  —  چاہے وہ جسمانی بیماری ہو، نظرِ بد کا اثر ہو یا جادو کے اثرات۔

دم اور رقیہ کی دو اقسام: شرعیہ اور شرکیہ

علماء نے رقیہ کو دو واضح اقسام میں تقسیم کیا ہے، اور کسی بھی عمل سے پہلے یہ فرق سمجھنا انتہائی ضروری ہے۔

٭رقیہ شرعیہ (جائز رقیہ): اس میں صرف قرآن کریم کی آیات، اللہ کے مستند اسماء اور سنت سے ثابت دعائیں استعمال کی جاتی ہیں۔ اس عمل میں مدد صرف اور صرف اللہ تعالیٰ سے مانگی جاتی ہے۔

٭رقیہ شرکیہ (ناجائز رقیہ): اس میں نامعلوم الفاظ، غیر واضح علامات، یا جنات و ارواح سے مدد طلب کی جاتی ہے — یہ عمل شرک کے زمرے میں آتا ہے اور ناجائز ہے، چاہے یہ کتنا ہی “روحانی” کیوں نہ نظر آئے۔

یہی فرق دراصل وہ بنیادی کسوٹی ہے جو اصل اسلامی فیتھ ہیلنگ کو توہم پرستی سے الگ کرتی ہے۔ بدقسمتی سے آج کل بہت سے نام نہاد عاملین اسی فرق کو مٹا کر لوگوں کو غلط راستے پر ڈال دیتے ہیں۔

قرآن و سنت سے دلائل

قرآن کریم خود کو شفا کا ذریعہ قرار دیتا ہے۔ سورۃ الاسراء میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ قرآن میں وہ چیز نازل کی گئی ہے جو مومنوں کے لیے شفا اور رحمت ہے۔ سورۃ یونس میں بھی قرآن کو دلوں کی بیماریوں کے لیے شفا کہا گیا ہے۔

نبی کریم ﷺ نے اپنی زندگی میں خود رقیہ کیا، خاص طور پر اپنی آخری بیماری کے دوران، اور آپ نے صحابہ کرام کو درد، خوف، نظرِ بد اور بے چینی کے لیے مخصوص دعائیں بھی سکھائیں۔ یہی وجہ ہے کہ علماء رقیہ کو کوئی اختیاری یا لوک رسم نہیں سمجھتے، بلکہ اسے واضح قرآنی اور نبوی بنیاد پر مبنی عمل تصور کرتے ہیں۔

دم اور رقیہ کیسے کام کرتا ہے؟ روحانی پہلو

اسلامی نقطہ نظر سے رقیہ ایک ساتھ کئی سطحوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔

فیتھ ہیلنگ کیا ہے
دم اور رقیہ کیسے کام کرتا ہے؟

٭روحانی پاکیزگی — قرآنی تلاوت دل کو روحانی آلودگی سے پاک کرنے اور کسی بھی نقصان دہ اثر کو کمزور کرنے میں مدد دیتی ہے۔

٭الٰہی حفاظت — تلاوت اللہ کی رحمت کو دعوت دیتی ہے، جس سے متاثرہ شخص کے گرد ایک روحانی حصار بن جاتا ہے۔

٭جذباتی اور نفسیاتی سکون — قرآن پریشان دل کو سکینت عطا کرتا ہے، یہی وجہ ہے کہ بہت سے لوگ خلوصِ نیت سے تلاوت کے بعد پریشانی اور بے چینی میں کمی محسوس کرتے ہیں۔

یہاں ایک اہم بات ذہن نشین رکھنی چاہیے: رقیہ کوئی خودکار جادوئی عمل نہیں جو نیت سے قطع نظر خود بخود اثر کرے۔ علماء اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اخلاص، درست عقیدہ اور اللہ پر مکمل بھروسہ ہی اس عمل کو مؤثر بناتے ہیں، نہ کہ صرف الفاظ کی ادائیگی۔

رقیہ کے جائز ہونے کی شرائط

ہر وہ عمل جسے “روحانی شفا” کا نام دیا جائے، اسلام میں قابلِ قبول نہیں ہوتا۔ رقیہ کو جائز حدود میں رکھنے کے لیے علماء عموماً درج ذیل شرائط پر متفق ہیں

**٭صرف قرآنی آیات، اللہ کے اسماء، یا مستند دعائیں استعمال کی جائیں — کوئی نامعلوم یا غیر مصدقہ الفاظ شامل نہ ہوں۔

٭یہ عقیدہ مضبوط رہے کہ شفا صرف اور صرف اللہ کی طرف سے ہے، اور تلاوت محض ایک وسیلہ ہے، خود شفا کا ذریعہ نہیں۔

٭یہ عمل خود اپنے آپ پر بھی کیا جا سکتا ہے، یا کسی باعلم شخص کی درخواست پر — یہ صرف کسی عالم یا پیر تک محدود نہیں۔

رقیہ کے عام استعمالات

لوگ عموماً درج ذیل مسائل کے لیے رقیہ یا دم کا سہارا لیتے ہیں۔ ہر موضوع پر ہماری بلاگ سیریز میں پہلے سے تفصیلی آرٹیکل موجود ہیں، جن کا حوالہ ساتھ دیا جا رہا ہے

٭نظرِ بد جو صحت، مزاج یا کسی بچے کے رویے پر اثر انداز ہو رہی ہو — اس پر مزید تفصیل ہمارے آرٹیکل “نظر لگ جانے کا علاج” میں موجود ہے۔

٭جادو (سحر) کے مشتبہ اثرات — اصل رقیہ اور جادو کے فرق کو سمجھنے کے لیے ہمارا آرٹیکل “جادُوتونا،سحر اور اُس کا علاج” ضرور ملاحظہ کریں۔

٭مسلسل بے چینی، بلاوجہ اداسی، یا دل کا بوجھل اور بے سکون رہنا — اس کے لیے ہمارا مخصوص آرٹیکل “سکون اور بے سکونی” مزید رہنمائی فراہم کرتا ہے۔

٭روزمرہ حفاظت کے لیے، خصوصاً سورۃ الفلق اور سورۃ الناس کی روزانہ تلاوت — اس موضوع پر ہمارا آرٹیکل “جن وشياطين سے گھروں کی حفا ظت کے ذرائع” الگ سے موجود ہے۔

اگر آپ اس کا مکمل اور قدم بہ قدم طریقہ جاننا چاہتے ہیں، تو ہمارا الگ آرٹیکل “گھر پر رقیہ کرنے کا طریقہ” اس موضوع کو مزید تفصیل سے بیان کرتا ہے۔

دل کے امراض کے لیے ایک مکمل رقیہ

 اس عمل کو شروع کرنے سے پہلے اپنی حیثیت کے مطابق صدقہ دینا مسنون طریقہ ہے، تاکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور آسانی نازل ہو۔ صدقہ دینے کے بعد نیت خالص رکھتے ہوئے یہ عمل شروع کیا جائے۔

فیتھ ہیلنگ کیا ہے
امراض کے لیے  دم اور رقیہ

عملی طریقہ یہ ہے کہ سورۃ الانشقاق (پارہ 30) کی تلاوت کی جائے۔ جب بھی تلاوت کے دوران سجدے والی آیت آئے تو فوراً سجدہ کیا جائے، اور پھر اٹھ کر تلاوت جاری رکھتے ہوئے پوری سورۃ مکمل کی جائے۔ اس طرح سورۃ کو گیارہ مرتبہ پڑھا جائے، اور ہر مرتبہ سجدے والی آیت پر سجدہ کرنا نہ بھولیں۔ جب گیارہ مرتبہ تلاوت مکمل ہو جائے تو ایک مٹکے کے پانی پر گیارہ مرتبہ دم کیا جائے۔ یہ پورا عمل ایک ہی نشست میں مکمل کرنا ضروری ہے۔

اس دم شدہ پانی کو سات دن تک استعمال میں لایا جائے — مریض کو دن بھر جب بھی پانی کی طلب ہو، یہی پانی پلایا جائے۔ اگر سات دن سے پہلے ہی پانی ختم ہو جائے تو آٹھویں دن اسی طریقے سے دوبارہ پانی تیار کر کے سات دن تک پلانا جاری رکھیں۔ یہ مکمل عمل پانچ مرتبہ دہرایا جائے۔ ان شاء اللہ، اس مسلسل عمل اور خلوصِ نیت سے مریض کی طبیعت میں جلد بہتری آئے گی۔ یہاں یہ بات ذہن نشین رہے کہ یہ روحانی عمل دل کے مریض کے لیے ایک تکمیلی سہارا ہے — دل جیسی حساس اور سنجیدہ بیماری میں کسی مستند معالج سے تشخیص اور علاج جاری رکھنا ہر صورت ضروری ہے، اور روحانی عمل کو طبی نگرانی کے متبادل کے طور پر نہ لیا جائے۔

 دم اور رقیہ کے دوران عمومی غلطیاں اور احتیاطیں

بہت سے لوگ نیک نیتی کے باوجود رقیہ کرتے وقت کچھ عام غلطیاں کر بیٹھتے ہیں، جن سے بچنا ضروری ہے

٭جلد بازی میں تلاوت کرنا —  بغیر معنی اور تلفظ کی درستگی کا خیال رکھے، جس سے اثر کم ہو جاتا ہے۔

٭فوری اور ڈرامائی نتیجے کی توقع رکھنا — جبکہ حقیقی شفا اکثر آہستہ آہستہ اور اندرونی طور پر ظاہر ہوتی ہے۔

٭طبی علاج کو مکمل طور پر چھوڑ دینا — جبکہ رقیہ طبی علاج کا متبادل نہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ چلنے والا روحانی سہارا ہے۔

٭کسی ایسے “عامل” یا نام نہاد روحانی معالج کے پاس جانا جو نامعلوم زبان میں کچھ پڑھے یا رقم کے بدلے “فوری حل” کا وعدہ کرے —  یہ اکثر دھوکہ دہی کی علامت ہوتی ہے۔

کیا رقیہ خود بھی کیا جا سکتا ہے؟

جی ہاں، خود پر رقیہ کرنا نہ صرف جائز بلکہ سنت سے ثابت اور مستحب عمل ہے، بشرطیکہ صرف مستند آیات اور دعائیں استعمال کی جائیں اور نیت خالصتاً اللہ پر بھروسہ کرنے کی ہو۔ اس کے لیے کسی خاص عالم، پیر یا عامل کے پاس جانا لازمی نہیں۔ عام طریقہ یہ ہے کہ سورۃ الفاتحہ، آیت الکرسی، سورۃ الاخلاص، الفلق اور الناس کی تلاوت کر کے اپنے ہاتھوں پر پھونکا جائے اور پھر جسم پر ہاتھ پھیرا جائے، یا پانی پر دم کر کے اسے پیا جائے۔

اگر کسی وجہ سے خود پر اثر محسوس نہ ہو یا معاملہ زیادہ پیچیدہ لگے، تو کسی ایسے قابلِ اعتماد اور علم رکھنے والے شخص سے رجوع کیا جا سکتا ہے جو رقیہ شرعیہ کی حدود کا پابند ہو۔ ہمارا الگ مضمون “عملیات اور جادو کے فرق کو کیسے پہچانیں” اس حوالے سے مزید رہنمائی فراہم کرتا ہے تاکہ آپ کسی دھوکے کا شکار نہ ہوں۔

عام غلط فہمیاں

اس موضوع کے بارے میں کچھ غلط فہمیاں بار بار سامنے آتی ہیں، جن کی وضاحت ضروری ہے۔

فیتھ ہیلنگ کیا ہے

٭کوئی بھی روحانی معالج درست رقیہ کر سکتا ہے۔ حقیقت میں کسی شخص کے دعوے یا لقب سے زیادہ اہم اس کا اخلاص اور طریقہ کار کی درستگی ہے۔

٭رقیہ سے ہمیشہ فوری اور نمایاں ردعمل ظاہر ہوتا ہے۔ حقیقی شفا اکثر بتدریج اور اندرونی طور پر محسوس ہوتی ہے، ڈرامائی انداز میں نہیں۔

٭فیتھ ہیلنگ طبی علاج کا متبادل ہے۔ علماء واضح طور پر کہتے ہیں کہ رقیہ طبی علاج کا نعم البدل نہیں بلکہ اس کے ساتھ چلنے والا ایک روحانی وسیلہ ہے، اور ضرورت پڑنے پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا لازمی ہے۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

٭کیا فیتھ ہیلنگ اور رقیہ ایک ہی چیز ہیں؟

بالکل نہیں۔ فیتھ ہیلنگ ایک عمومی اصطلاح ہے جو مختلف مذاہب میں مختلف انداز میں استعمال ہوتی ہے، جبکہ رقیہ اس کا مخصوص اسلامی، قرآن پر مبنی طریقہ ہے جس کی واضح حدود اور شرائط ہیں جو اسے توہم پرستی سے الگ رکھتی ہیں۔

٭کیا میں بغیر کسی عالم کے خود دم کر سکتا ہوں؟

جی ہاں۔ خود پر رقیہ کرنا سنت سے ثابت اور مستحب ہے، بشرطیکہ صرف مستند آیات اور دعائیں استعمال کی جائیں اور نیت خالص ہو۔

٭کیا پانی یا تیل پر دم کرنا جائز ہے؟

جی ہاں، یہ ایک معروف اور مستند عمل ہے۔ تلاوت کے بعد پانی یا تیل پر پھونکا جاتا ہے، جسے بعد میں پیا یا جسم پر لگایا جاتا ہے، اور اس کی تائید صحابہ کرام اور تابعین کے آثار سے بھی ملتی ہے۔

٭اگر رقیہ کا کوئی فوری اثر محسوس نہ ہو تو کیا کرنا چاہیے؟

گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ اخلاص کے ساتھ تلاوت جاری رکھیں، صبر کریں، اور ساتھ ہی اگر جسمانی یا ذہنی تکلیف شدید ہو تو کسی مستند ڈاکٹر سے بھی رجوع کریں — یہ دونوں چیزیں ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ ایک دوسرے کی معاون ہیں۔

ایمان کی حفاظت کا اصل اصول ہے  راہِ حق کی پہچان

فیتھ ہیلنگ کیا ہے
 دم اور رقیہ

جب فیتھ ہیلنگ کو صحیح اسلامی تناظر میں رکھا جائے تو یہ نہ کوئی پراسرار چیز رہ جاتی ہے اور نہ ہی غیر یقینی — یہ دراصل رقیہ ہے: قرآن پر مبنی، سنت سے ثابت شدہ ایک عمل جو خلوصِ نیت اور اللہ پر مکمل بھروسے کے ذریعے شفا طلب کرتا ہے۔ رقیہ شرعیہ اور شرکیہ کے فرق کو سمجھنا مسلمانوں کو دھوکے، استحصال اور الجھن سے محفوظ رکھتا ہے، اور اس خوبصورت اور گہری جڑوں والی روایت کو اسی حالت میں برقرار رکھتا ہے جیسا کہ اسے ہونا چاہیے — سکون، حفاظت اور اللہ سے قربت کا ذریعہ۔

نوٹ: یہ مضمون معلوماتی اور روحانی رہنمائی کے مقصد سے لکھا گیا ہے  جو کےحضرت سرکار پیر ابونعمان رضوی سیفی صاحب دامت برکاتہم العالیہ کی معروف تصنیف (آئینہ فتوحات اور بھار سیفیہ)  سے ماخوذ ہے۔

 ا ور یہ کسی مستند طبی مشورے کا متبادل نہیں۔ اگر کسی کو شدید جسمانی یا ذہنی مسئلہ درپیش ہو تو روحانی عمل کے ساتھ ساتھ کسی مستند ڈاکٹر سے بھی ضرور رجوع کریں۔

 کتاب حاصل کرنے کے لیے

اگر آپ “آئینہ فتوحات اور بھار سیفیہ  ” خریدنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے نمبر یا لنک کے ذریعے رابطہ کر سکتے ہیں

 روحانی مسائل کے حل کے لیے

اگر آپ جادو، جنات، نظرِ بد، بندش یا دیگر روحانی مسائل سے پریشان ہیں اور مختلف جگہوں پر جا کر مایوس ہو چکے ہیں، تو خانقاہ اولیاء رضویہ سیفیہ میں گزشتہ دو دہائیوں سے اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے شرعی و روحانی اصولوں کے مطابق رہنمائی اور علاج کا سلسلہ جاری ہے۔ مزید معلومات اور مشاورت کے لیے ہم سے رابطہ فرمائیں۔

:   00923077869280  رابطہ

 لنک:  آئینہ فتوحات 

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

رمضان مبارک

رمضان کی برکتیں آپ کے دل کو نور سے بھر دیں اور آپ کی دعائیں قبول ہوں۔ رمضان مبارک!

Scroll to Top