پریشانی سے نجات

ابتدائیہ: پریشانی، بے چینی اور خوف کی اصل وجہ مسائل نہیں بلکہ گناہ اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی ہے، اور ان سے نجات کا راستہ لمبی لمبی عبادتوں میں نہیں بلکہ سچی توبہ، تقویٰ اور گناہوں سے بچنے میں ہے۔ سکونِ قلب اسی وقت نصیب ہوتا ہے جب انسان اپنی آنکھ، زبان، کان اور عمل کو معصیت سے محفوظ رکھتا ہے، حقوق اللہ اور حقوق العباد ادا کرتا ہے، کیونکہ پرہیز کے بغیر کوئی عبادت اثر نہیں کرتی۔ جو بندہ اللہ کے خوف میں زندگی گزارتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی زندگی سے پریشانیاں، خوف، شیطانی وسوسے اور برکت کی کمی دور فرما دیتا ہے، یہی تقویٰ اصل ولایت ہے اور یہی پریشانی سے نجات کا مکمل اور دائمی حل ہے۔

پریشانی سے نجات

ہم اگر اس چیز کو سوچیں کہ بے چینی ، پریشانی ، الجھن ، گھبراہٹ وغیرہ وغیرہ کیوں آتیں ہیں اور کن اسباب کی وجہ سے آتی ہے ، تو سب سے بڑی وجہ اور سبب گناہ کرنا ، مالک کی نافرمانی اور اللہ کو ناراض کرنا ہے۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے:

جو مصیبت نازل ہوتی ہے گناہوں کی وجہ سے نازل ہوتی ہے ، اورمصیبت جو ختم ہوتی ہے وہ تو بہ کی وجہ سے ہوتی ہے۔

یقین کر لیجیے گناہ چھوڑے بغیر کبھی بھی خوش حالی، مسرت ، اطمینان ، سکون والی زندگی نصیب نہیں ہوسکتی ، چاہے انسان کتنے ہی نفلی کام کرلے۔

ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا:

گناہوں کی کمی سے بہتر کوئی پونجی ایسی نہیں ہے جسے لے کر تم اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرو، جسے یہ خوشی ہو کہ عبادت میں محنت سے انہماک رکھنے والے سے بازی لے جائے اسے چاہیے کہ اپنے آپ کو گناہوں سےبچائے۔

اسی طرح مزید فرمایا:

 جب بندہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کے کام کرتا ہے تو اسکو اچھا کہنے والے بھی برا کہنے لگتے ہیں۔

چنانچہ شریعت مطہرہ میں اس بات کو پسند کیا گیا ہے کہ انسان لمبی لمبی عبادتیں کرنے کے

بجائے گناہوں سے بچے، مثلاً ایک آدمی تہجد نہ پڑھے، لمبے لمبے اذکار نہ کرے نفلی روزے نہ

رکھے، چاہے نفل اعمال کچھ بھی نہ کرے، مگر گناہوں سے بچے تو وہ اللہ تعالیٰ کا ولی ہے کیونکہ اس کی زندگی میں معصیت نہیں ہے۔

یاد رکھیں کہ ولایت کے لیے ہوا میں اڑنا شرط نہیں ، پانی پر چلنا شرط نہیں ، کرامت کے واقعات کا پیش آجانا شرط نہیں، بلکہ ولی اس کو کہتے ہیں جو خود کو گناہوں سے بچا لیتا ہے۔ قرآن مجید نے اسی بات کو ان الفاظ میں ذکر کیاہے:

اِنْ اَوْلِیَآؤُهٗ اِلَّا الْمُتَّقُوْن

ترجمہ : اس کے ولی وہ ہوتے ہیں جو متقی ہوتے ہیں۔

یہ بھی یادرکھیں کہ کچھ کرنے کا نام تقویٰ نہیں بلکہ کچھ نہ کرنے کو تقویٰ کہتے ہیں۔ یعنی وہ باتیں جن سے اللہ سبحانہ تعالیٰ کی ناراضگی ان کو نہ کرنا تقویٰ کہلاتا ہے۔ موٹے الفاظ میں سمجھ لیجیے کہ تقویٰ یہ ہے کہ آپ ہر اس کام سے بچیں جس کو کرنے سے کل قیامت کے دن اللہ تعالی کے حضور شرمندہ  ہونا پڑے۔

لہٰذا اپنے آپ کو گنا ہوں سے بچانا لمبی لمبی نفلی عبادتیں کرنے سے زیادہ اہم ہے، اب ایک آدمی لمبی لمبی عبادتیں کرتا ہے، مگر ساتھ ساتھ غیبت بھی کرتا ہے لوگوں کے دل بھی دکھاتا ہے تو وہ بے چارہ تو فقیر ہے، کل قیامت کے دن جب وہ پیش ہوگا تو یہ حق والے اس کی ساری عبادتیں لے کر چلے جائیں گے، بلکہ ان کے گناہ الٹا اس کے سر پر رکھ دیئے جائیں گے۔

جیسا کہ حکماء کا قول ہے : کہ پر ہیز علاج سے بہتر ہے۔“

ایک آدمی کونزلہ زکام ہو وہ دوائی بھی کھائے اور ساتھ ساتھ آئس کریم بھی کھائے تو اس کی بیماری ٹھیک نہیں ہوگی ، ڈاکٹر کہیں گے پہلے پر ہیز کرو تب دوائی فائدہ دے گی ۔ اسی لیے مشائخ کہتے ہیں:

گناہوں سے پہلے بچو تب ذکر واذکار کا فائدہ ہوگا ۔

الہذا ہم اپنے آپ کو گناہوں سے بچائیں اور اللہ رب العزت کی نافرمانی نہ کریں ، حقوق اللہ میں کوتاہی نہ کریں اور نہ حقوق العباد میں بلکہ ہماری کوشش یہ ہو کہ ہم کسی کا حق نہ دبائیں ، جس کا جو حق ہم پر ہو اس کو جلد از جلد ادا کرنے کی کوشش کریں، اگر ہمارے اوپر کسی کا کوئی حق باقی رہ گیا ہو اور صاحب حق کو اس کا علم نہ ہو تو بھی ہم اس حق کو ادا کرنے کی حتی الوسع پوری کوشش کریں۔

بھائی بہنوں کا اگر میراث میں معمولی حصہ بھی باقی ہو تو اس کو بھی ہم پورا پورا جس کے حصہ میں جتنا آتا ہو ادا کر دیں۔ انشاء اللہ تعالیٰ اس طرح پریشانیاں دور ہوں گی ، نہ ہی کوئی جن تنگ کرے گا، نہ ہی کوئی جادو نقصان پہنچا سکے گا۔

انسان شیطان کے دھوکوں میں آکر گناہوں میں پھنس جاتا ہے اور نفس ان گناہوں کے لیے اپنے پاس سے دلائل ، حیلے ،بہانے ڈھونڈ لیتا ہے کہ بھابھی سے پردہ مشکل ہے۔ فجر کی نماز کے لیے آنکھ نہیں کھلتی۔ سود کا کاروبار چھوڑ نا مشکل ہے وغیرہ وغیرہ۔

ہم اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے گناہوں کو چھوڑنے کا پختہ ارادہ کر لیں انشاء اللہ تعالیٰ ہم اس کا بہترین بدلہ دنیا و آخرت میں پائیں گے۔

اس بات پر ہماری ہر وقت نظر رہے کہ ہم کسی بھی صغیرہ و کبیرہ گناہ کا ارتکاب نہ کریں ، ہم صبح اٹھیں تو دل میں یہ نیت ہو کہ میں نے آج کوئی گناہ نہیں کرنا ، پھر صبح سے شام تک اس کوشش میں لگے رہیں گے کہ:

۔1-آنکھ سے کوئی گناہ نہ ہو۔

۔2-زبان سے کوئی گناہ نہ ہو۔

۔3-ہاتھ پاؤں سے کوئی گناہ نہ ہو۔

۔4-شرم گاہ سے کوئی گناہ نہ ہو۔

گناہ باطنی اعتبار سے نجاست کی طرح ہوتا ہے ۔ چنانچہ ہم جس عضو سے بھی گناہ کرتے ہیں ہمارا وہ عضو باطنی طور پر نا پاک ہو جاتا ہے۔

٭آنکھ نے غلط دیکھا تو آنکھ نا پاک ہوگئی۔

٭زبان سے جھوٹ بولا تو زبان نا پاک ہوگئی۔

٭کان سے غیبت سنی تو کان نا پاک ہو گئے

٭ہاتھوں سے چوری کی تو ہاتھ نا پاک ہو گئے۔

٭پاؤں سے غلط کام کے لئے چل کر گئے تو پاؤں نا پاک ہو گئے۔

٭شرم گاہ سے بدکاری کی تو شرم گاہ ناپاک ہو گئی۔

لیکن اگر کوئی سراپا گناہ میں مبتلا ہو کر بھی تو بہ تائب ہو جائے تو اللہ تعالیٰ اس کو بھی پاک فرمادیں گے۔

گناہوں کے سبب ہونے والے چند نقصانات

۔1-مصیبت گناہوں کی وجہ سے آتی ہے۔

۔2-گناہوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اور بندہ کے درمیان حجاب پیدا ہو جاتا ہے۔

۔3-گناہوں کی وجہ سے بندہ ہمیشہ شدید پریشانیوں میں مبتلا رہتا ہے۔

۔4-گناہوں کی وجہ سے دل پر خوف اور پریشانی طاری رہتی ہے۔

۔5-گناہوں کی وجہ سے زندگی تنگ ہو جاتی ہے۔

۔6-گناہوں سے دل میں سختی اور ظلمت پیدا ہو جاتی ہے۔

۔7-گناہوں سے چہرہ بے نور اور بے رونق ہو جاتا ہے۔

۔8-گناہ گار کے لیے لوگوں کے دلوں میں بغض ہو جاتا ہے۔

۔9-گناہوں کی وجہ سے رزق میں تنگی ہو جاتی ہے۔

۔10-گناہ رحمان کے غصہ، ایمان کی کمی اور غموں و مصیبتوں کا سبب ہیں۔

۔11-گناہوں کی وجہ سے خالق سے وحشت ہو جاتی ہے۔

گناہوں سے بچنے کے لیے دو دعا ئیں

وَ قُلْ رَّبِّ اَعُوْذُ بِكَ مِنْ هَمَزٰتِ الشَّیٰطِیْنِ(97)

وَ اَعُوْذُ بِكَ رَبِّ اَنْ یَّحْضُرُوْنِ(98)

ترجمہ: اے میرے پروردگار ! میں شیطان کے ڈالے ہوئے وسوسوں سے آپ کی پناہ مانگتاہوں  اے میرے پروردگار ! میں اس بات سے بھی آپ کی پناہ مانگتا ہوں کہ یہ شیاطین میرے پاس آئیں ۔

رَبَّنَا اَفْرِغْ عَلَیْنَا صَبْرًا وَّ تَوَفَّنَا مُسْلِمِیْن

ترجمہ:اے ہمارے پروردگار! ہم پر صبر نازل فرما دیجیے اور ہمیں فرماں بردار ہونے کی حالت میں موت دیجئے ۔

اللہ تعالیٰ کا خوف پیدا کرنے کے لیے دو دعا ئیں

ہمارے دل سے مخلوق کا خوف نکل جائے اور اللہ تعالیٰ کا  خوف پیداجائے  اس کے لئے ہم ان دعاؤں کو ہر نماز کے بعد مانگنے کا معمول بنائیں۔

اَلّٰھُمَّ اجْعَلْ حُبَّكَ اَحَبَّ الْأَشْيَاءِ اِلَیَّ، وَاجْعَلْ خَشْيَتَكَ اَخْوَفَ الْأَشْيَاءِ عِنْدِي

ترجمہ: اے اللہ ! مجھے اپنی محبت سب سے زیادہ پیاری کر دے ، اور اپنا خوف ہر چیز کے خوف سے زیادہ بڑھا دے ۔

اَلّٰھُمَّ اجْعَلْنِي اَخْشَاكَ كَاَنِّیْ اَرَاكَ اَبَدًا

اے اللہ ! مجھے ایسا بندہ بنالے کہ تجھ سے اس طرح ڈرا کروں جیسا کہ تجھ کو اپنی آنکھوں سے ہمیشہ دیکھ رہا ہوں۔

لہٰذا ہمیں چاہیے کہ پورے یقین کے ساتھ ان دعاؤں کو مانگتے رہیں ، انشاء اللہ ان دعاؤں کی برکت سے اللہ تعالیٰ ہمارے دل سے اپنے غیر کا خوف نکال دیں گے اور ہماری پریشانیوں کو بھی دور فرمائیں گے۔

طبیبِ ملتِ اسلامیہ حضرت سرکار پیرابونعمان رضوی سیفی زیدشرفہٗ نے یہ مضمون اپنی شہرہ آفاق کتاب” بہارِ سیفیہ حصہ سوم میں تحریر فرمایا ۔ مکمل کتاب پڑھنے یا حاصل کرنے کیلئے آپ ہمارے مکتبہ سے رابطہ کرسکتے ہیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top