ہماری مشکلات اور اُن کا صحیح حل

زندگی کبھی آسان نہیں، پریشانیاں، تنگی اور مسائل ہر قدم پر ہمارے راستے میں رکاوٹ بنتے ہیں، اور کبھی کبھی اتنے پیچیدہ راستے سامنے آتے ہیں کہ خود پر اعتماد ختم ہونے لگتا ہے۔ لیکن ایک عبادت ہے جو دل کو سکون دیتی ہے، دل کی گھٹن کو دور کرتی ہے، اور بندے کو اللہ پر پورے یقین اور توکل کے ساتھ ہر مشکل سے نمٹنے کی طاقت دیتی ہے—وہ عبادت ہے نماز۔ نماز اور توکل انسان کے لیے سب سے بڑی رہنمائی اور طاقت بن جاتے ہیں، ہر مصیبت اور پریشانی میں رب کی طرف رجوع کر کے دل کو سکون اور زندگی میں روشنی حاصل کی جا سکتی ہے۔ یہ بلاگ آپ کے لیے وہ لمحہ ہو سکتا ہے جب آپ سمجھیں کہ ہر مسئلہ کا حل اور ہر دل کی راحت صرف رب کے حضور عاجزی اور عبادت میں چھپی ہے۔ پڑھیں اور جانیں کہ نماز کیسے ہر مصیبت میں سکون اور ہر اندھیرا میں روشنی لا سکتی ہے۔

ہماری مشکلات اور اُن کا صحیح حل

عبادات

اسلامی عبادات میں چار بنیادی اعمال ہیں، نماز، روزہ، حج ، زکوۃ مگر شعور بندگی قائم رکھنے کے لئے ان تمام اعمال میں نماز ہی ایک ایسا عمل ہے جو امیر و غریب، مرد و عورت ، غلام و آزاد سب کے لئے یکساں طور پر ضروری قرار دیا گیا ہے۔ زکوٰۃ، حج ، روزہ کی طرح نماز دولتمندی یا مخصوص مہینے یا مخصوص حالات سے مشروط نہیں ہے۔ بلکہ نماز ایک ادائے عام یعنی آفاقی و ہمہ گیر عمل ہے جس سے ہر شخص خیر و برکت حاصل کرتا ہے۔

اسلامی صحیفہ اور احادیث میں نماز کی بے حد تعریف اور بار بار تاکید کی گئی ہے ؟کیونکہ یہی وہ عمل ہے ، جس سے تزکیۂ نفس و تطہیر قلب کے علاوہ بندہ اپنے خالق کے ساتھ تعلق قائم رکھ سکتا ہے۔ اسی لئے اسلامی عبادات میں فریضہ نماز کو اولیت حاصل ہے اور سب سے زیادہ زور اسی بات پر دیا گیا ہے۔ نماز ہی بندہ مومن میں اطاعت و بندگی کے جذبہ کو بیدار کرنے والی چیزوں میں سب سے اہم ہے، اس کی ایمانی قوت کا ثبوت ہے۔ اس کے اخلاق کی سلامتی و حفاظت کا ذریعہ ہے، جس میں مختلف گونا گوں حرکات و سکنات سے اسے اظہار عبودیت کا موقع مل کر سکون قلب اور اطمینان بھی حاصل ہوتا ہے۔

پاک وصاف ہو کر صحیح نیت اور پختہ ارادے کے ساتھ جب بندہ کامل بندگی سے اپنے رب کے حضور میں عاجزانہ اور مخلصانہ طور پر حاضر ہو کر اقرار بندگی کرتا ہے اور اپنے مصائب و آلام، جہالت و ظلمت میں ربانی روشنی کا منتظر اور صراط مستقیم کا طالب ہوتا ہے ، با ادب کھڑا ہو کر لجاجت سے جھک کر عجز و انکساری سے سجدہ ریز ہو کر توبہ و استغفار کے مختلف مدارج طے کرتا  ہے تو وہ محسوس کرتا ہے کہ واقعی اس کا خالق و رازق، مالک و مولی ٰاسے خود دیکھ رہا ہے اور وہ اسے ہر قسم کی نعمتوں سے ضرور نوازے گا۔ اس طرح رب کی بندگی سے عاجز انسان کو اپنےرب سے ہی مدد حاصل کرنے اور رب ہی کی عبادت کرنے کی مشق ہوتی ہے ۔ اور بالآخر وہ ہدایت و نجات سے شاد کام ہوتا ہے ۔

عبادت کے لئے فراغت

اللہ تعالیٰ کی عبادت کیلئے فارغ ہونے سے یہ مراد نہیں ہے کہ بندہ دن رات حصول رزق کیلئے کوشش نہ کرے ، بلکہ اس کے معنیٰ یہ ہیں کہ:

جب اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے تو اسکا دل اور جسم دونوں حاضر ہوں ، عبادت میں خشوع و خضوع ہو، رب ذوالجلال کی عظمت و کبرائی اس کے دل میں ہو۔ اس کو اس بات کا احساس ہو کہ وہ کائنات کے مالک اللہ تعالیٰ سے ہم کلام ہیں اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ ارشاد مبارک بھی سامنے ہو جس میں اس طرح عبادت کرنے کے بارے میں بتایا گیاکہ: اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کروکہ گویا تم انہیں دیکھ رہے ہو ۔

اگر یہ کیفیت نہ ہو تو کم از کم یہ تو ہو : اگر تم انہیں نہیں دیکھ رہے تو وہ تمھیں دیکھ رہے ہیں ۔

حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس حدیث شریف میں اُمت کو خبر دی ہے کہ توجہ اور جمعی سے عباد ت کرنے والوں کو درج ذیل انعامات عطافرمانے کا خود اللہ رب العزت نے وعدہ فرمایا ہے :

۔1-خوشحالی سے اُس کے دل کو بھرنا ۔

۔2- رزق سے اُسکے دونوں ہاتھوں کو بھرنا

مزکورہ بالا حدیث شریف میں جناب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُمت کو یہ بھی بتلایا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے دوری اختیار کرنیوالے کیلئے ان کی طرف سے درج ذیل عذابوں کی وعید ہے :

۔1- اس کے دل کو محتاجی اور فقر سے بھر دینا۔

۔2- بےکارکاموں میں اس کو الجھا دینا۔

اور جس دل کو دلوں کے پیدا کرنے والے ، خزانوں کے مالک اللہ تعالیٰ تونگری سے لبریز

کردیں ، محتاجی کا احساس اور دستِ نگری کا تصور کیسے اس کے قریب پھٹک سکتاہے اور جسکے ہاتھوں کو کائنات کے مالک جل جلالہ محتاجی سے بھر دیں ، کائنات کی ساری قوتیں متحد و متفق ہوکر بھی اس کو تونگرو آسودہ حال نہیں بنا سکتی اور جس کو اللہ جبار و قھار بے کار اور لایعنی معاملات میں پھنسا دیں ، اس کو بھلا فراغت کون مہیا کر سکتا ہے ؟

لہٰذا ہمیں بھی چاہیے کہ اپنے آپ کو فارغ کرکے یعنی دل و جسم دونوں کو حاضر کرکے ، اس طرح کہ اللہ تعالیٰ مجھےدیکھ رہے ہیں اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں تاکہ دُنیا اورآخرت میں راحت حاصل کر سکیں ۔

ہر پریشانی کا علاج نماز

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا:

وَ اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوة

ترجمہ:حضرت علامہ جلال الدین سیوطی ؒ اس آیت کی تفسیر میں حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ کا قول نقل فرماتے ہیں :

یہ دونوں (نماز اور صبر) اللہ سے مدد لینے کا ذریعہ ہیں تم ان کےذریعے اللہ سے مدد طلب کرو ۔

حضرت قاضی ثناء اللہ پانی پتی فرماتے ہیں :

  اپنی دینی اور دنیاوی ضرورتوں کو پورا کرنے کیلئے (صبر اور نماز سے مدد لو)۔

نمازسے حاصل ہونیوالی چند راحتیں

نماز دُنیا و آخرت کی راحت کے حصول اور دونوں جہانوں کی مصیبتیں دور کرنے میں بڑی معاون اور مددگار ہے ۔

۔1-یہ گناہوں سے روکنی والی ہے ۔

۔2- قلب و قالب کی بیماریوں دور کرنے والی ہے۔

۔3- یہ دل اور چہرہ کو روشن اور منور کرنے والی ہے۔

۔4-روح اور جسم میں چُستی پیدا کرنےوالی ہے۔

۔5- یہ رزق کو کھینچ کر لانے والی ہے۔

۔6- ظلم سے روکنے والی اور مظلوم کی مدد کرنے والی ہے۔

۔7-بے حیائی اور بُرے کاموں سے روکنی والی ہے ۔

۔8-اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی حفاظت کرنیوالی ہے ۔

۔9-یہ نماز آخرت کی سزا سے بچانے والی ہے۔

۔10-اللہ تعالیٰ کی رحمت کو اُتروانے والی ہے ۔

۔11- غم کو ہٹانے والی ہے

نماز سببِ راحت و سعادت ہے۔ نماز اللہ تعالیٰ کے ذکر و عبادت کو جمع کرنے والی ہےاسی لئے یہ سینے کو کھولنے اور اس کی تنگی کو دور کرنے کا ذریعہ ہے ۔

جو شخص نماز کا حق ادا کرنے کے ارادہ سے سکون اور اطمینان کے ساتھ نماز پڑھتا ہے ۔ وہ اپنے نفس کو ہلکا محسوس کرتا ہے اور اُسے یوں لگتا ہے جیسے اس کے اندر چُستی ، راحت اور تندرستی بھر گئی ہو اور منوں بوجھ اس کے سر سے اُتر گیا ہو ، یہاں تک کہ اس کا دل نماز ختم کرنے کو نہیں چاہتا۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ نماز آنکھوں کی قوت ، روح کی تروتازگی ، دل کو راحت اور آرام پہچانے والی ہے۔جو شخص اپنے آپ کو تنگی اور گھٹن میں محسو س کرے تو اچھی طرح کرے تو اچھی طرح وضو کرکے نماز میں مشغول ہا جائے ، ان شاء اللہ تعالیٰ آرام پالے گا ۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ سےفرماتے : اے بلال ! کھڑے ہو اور ہمیں نماز کے ذریعے راحت اور سکون پہنچاؤ ۔

یعنی جماعت کیلئے اقامت کہوتاکہ نماز پڑھ کر ہم تھکا دینے والے کاموں ( اُمت کی ترتیب و دیکھ بھال) سے راحت حاصل کریں جیسا کہ ایک تھکا ماندہ مسافر اپنے منزل پاکر راحت حاصل کرتا ہے ۔ اس لئے ہر پریشانی کے وقت میں نماز کی طرف متوجہ ہوجانا گویا اللہ کی رحمت کی طرف متوجہ ہو جاناہے اور جب  رحمت  الہٰی مساعد و مددگار ہوتو پھر کیا مجال ہے کسی پریشانی کی کہ کوئی باقی رہے ۔ اسی طرح صحابہ کریم رضی اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین جو ہر قدم پر حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی اتباع فرمانے والے ہیں ان کے حالات میں بھی یہ چیز نقل کی گئی ہے۔

لہٰذا ہمیں اپنی تمام مشکلات و پریشانیوں میں نماز کی طرف متوجہ ہو جانا چاہیے ۔ اس کی برکت سے اللہ تعالیٰ اپنی رحمت فرما کر ہماری پریشانیوں اور مشکلات میں مدد فرما اور ان سے نجات عطا فرما۔

طبیبِ ملتِ اسلامیہ حضرت سرکار پیرابونعمان رضوی سیفی زیدشرفہٗ نے یہ مضمون اپنی شہرہ آفاق کتاب” بہارِ سیفیہ حصہ سوم میں تحریر فرمایا ۔ مکمل کتاب پڑھنے یا حاصل کرنے کیلئے آپ ہمارے مکتبہ سے رابطہ کرسکتے ہیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top