نفل نمازیں کیا ہیں؟

نفل: اللہ کی محبت کا تحفہ

نفل دراصل وہ خاص عبادات ہیں جو ہم اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے اپنی خوشی اور شوق سے ادا کرتے ہیں، بغیر کسی پابندی یا جبر کے۔ یہ فرض عبادات کا نعم البدل نہیں، بلکہ اُن کے حسن و جمال میں اضافہ کرنے والی خالص محبت بھری عبادات ہیں۔ نفل کا مطلب ہی ہوتا ہے “تحفہ” — اور سوچیں، کیسا عظیم تحفہ ہوگا جو ایک بندہ اپنے رب کو دیتا ہے، صرف اس کی خوشنودی کے لیے؟ نفل عبادات جیسے تہجد کی تنہائی میں کی گئی سجدہ ریزی، یا دن کے ہنگاموں میں چاشت کی چند رکعات، دل کو ایک سکون، ایک قرب، اور ایک عجیب سی روشنی عطا کرتی ہیں۔ میں خود جب کبھی دل میں بےچینی محسوس کرتا ہوں، تو نفل نماز پڑھ کر جیسے دل کو قرار آ جاتا ہے — گویا رب کے حضور خاموشی سے اپنے دل کی بات کہہ دی ہو۔ نفل عبادات کا سب سے حسین پہلو یہی ہے: یہ صرف عبادت نہیں، بلکہ ایک تعلق ہے، ایک راز و نیاز کی کیفیت ہے جو رب اور بندے کے درمیان قائم ہوتی ہے، بغیر کسی واسطے کے، بغیر کسی شرط کے۔

نفل کی اقسام

٭نفل نمازیں  (نماز کے نفل یا نفل نمازے)

٭نفل روزے (روزے کے نفل)

٭نفلِ اذکار(ذکر و اذکاریاقرآنِ پاک کی تلاوت)

خصوصاً وہ وقت جب کوئی عبادت فرض نہ ہو، اس وقت قرآن پڑھنا  یاذکر و اذکارکرنا نفل عبادت بن جاتا ہے

نفل نمازیں کیا ہیں؟

نفل نمازیں وہ خاص اور محبت بھری عبادتیں ہیں جو ہم اپنے رب سے قرب حاصل کرنے کے لیے فرض نمازوں کے علاوہ ادا کرتے ہیں۔ یہ وہ لمحے ہوتے ہیں جب انسان اپنی مرضی سے، اپنی چاہت سے سجدے میں جاتا ہے، بغیر کسی فرض کی پابندی کے — صرف اس لیے کہ دل چاہتا ہے رب سے بات ہو، تنہائی میں، خاموشی کے ساتھ۔ میرے لیے نفل نمازیں ایک ایسی پناہ گاہ ہیں، جہاں میں دنیا کے ہنگاموں سے دور، اپنے رب کے سامنے دل کھول کر بیٹھتا ہوں۔ تہجد کی خاموشی، چاشت کی روشنی، اشراق کا نور — سب نفل نمازیں ایک خاص سکون اور قرب عطا کرتی ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے نفل نمازوں کو بہت اہمیت دی، اور فرمایا کہ بندہ نفل عبادات کے ذریعے اللہ کا محبوب بن جاتا ہے۔ نفل نمازوں میں کوئی خاص تعداد یا پابندی نہیں، لیکن ان کی تاثیر روح کو جلا بخشتی ہے۔ یہ سجدے صرف عبادت نہیں ہوتے، یہ راز ہوتے ہیں، دعائیں ہوتی ہیں، آنسو ہوتے ہیں، اور ایک ایسا تعلق جو کسی دنیاوی زبان میں بیان نہیں ہو سکتا۔ نفل نماز، میرے لیے، ایک روحانی سفر ہے — ایک ایسی راہ جس پر ہر قدم پر اللہ کی رحمتوں کی خوشبو محسوس ہوتی ہے۔

نفلِ نمازوں کے اقسام اورمسائل

٭ نماز تہجد

اسی صلوۃ اللیل کی ایک قسم تہجد ہے جو عشاء کے بعد رات میں سو کر اٹھیں اور نوافل پڑھیں سونے سے قبل جو کچھ پڑھیں وہ تہجد نہیں ہے۔

 (ردالمختار )

کم سے کم تہجد کی دور رکعتیں ہیں اور حضور اقدس سا سما السلام سے آٹھ تک ثابت ہیں رحمتہ اللعالمین شفیع المذنبین             (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا کہ نے فرمایا کہ جو شخص رات میں بیدار ہو اور اپنے اہل کوجگائے پھر دونوں دو دو رکعت پڑھیں تو کثرت سے یاد کرنے والوں میں لکھے جائیں گے اس حدیث شریف کو نسائی اور ابن ماجہ نے اپنی سنن میں اور ابن حبان نے اپنی صحیح میں اور حاکم نے مستدرک میں روایت کیا اور منذری نے کہا کہ یہ حدیث بر شرط شیخیں صحیح ہے۔

 (رد المحتار)

تہجد اور رات کی عبادت سے متعلق چند اہم مسائل اور فضائل یہ ہیں:

 جو شخص رات کو دو تہائی حصہ سونا اور ایک تہائی حصہ عبادت کرنا چاہے، تو افضل طریقہ یہ ہے کہ وہ رات کے ابتدائی اور آخری حصے میں سوئے اور درمیانی تہائی میں عبادت کرے، کیونکہ وہ وقت تنہائی، سکوت اور قلبی توجہ کا وقت ہوتا ہے۔ اگر کوئی آدھی رات سونا اور آدھی عبادت کرنا چاہے تو بہتر یہ ہے کہ وہ رات کے پچھلے حصے میں عبادت کرے، کیونکہ وہ وقت خاص تجلیاتِ الٰہی کا ہوتا ہے۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “ہمارا رب عز وجل ہر رات جب آخری تہائی باقی رہ جاتی ہے، آسمانِ دنیا پر نزول فرماتا ہے اور ارشاد فرماتا ہے: ہے کوئی دعا کرنے والا کہ اس کی دعا قبول کروں؟ ہے کوئی مانگنے والا کہ اسے عطا کروں؟ ہے کوئی بخشش مانگنے والا کہ اسے بخش دوں؟”۔ ان مبارک اوقات میں جو نماز سب سے افضل ہے وہ “نمازِ داؤد” ہے، جیسا کہ بخاری و مسلم کی روایت میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا: “سب نمازوں میں اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب نماز داؤد علیہ السلام کی ہے، جو آدھی رات سوتے، تہائی رات عبادت کرتے، اور چھٹا حصہ دوبارہ سوتے تھے”۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عبادت میں اعتدال اور روحانی ترتیب کس قدر اہم ہے۔ نیز، جو شخص تہجد کا عادی ہو، اس کے لیے بغیر عذر اسے چھوڑ دینا مکروہ ہے۔ صحیح بخاری و مسلم میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: “اے عبداللہ! تم فلاں شخص کی طرح نہ بن جانا جو رات کو عبادت کے لیے اٹھا کرتا تھا، پھر اُس نے چھوڑ دیا۔”

( مشکوۃ ص ۱۰۹)

٭ نماز اشراق

نماز اشراق سورج بلند ہو جائے تو دو رکعت پڑھے تو حج و عمرہ کا ثواب ملتا ہے ترمذی شریف میں سیدنا حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ سید العالمین نے فرمایا کہ وشخص فجرکی نماز پڑھ کر کر دا کرتا رہا یہاں تکہ آفتاب بلند ہو گیا پھر دور کعتیں پڑھیں تو اسے پورے حج اور عمرہ کا ثواب ملے گا۔

( بہار شریعت جلد چہارم ص ۲۱)

٭ نماز چاشت

نماز چاشت مستحب ہے کم از کم دو اور زیادہ سے زیادہ چاشت کی بارہ رکعتیں ہیں اور افضل بارہ ہیں۔

نماز چاشت کے فضائل

نماز چاشت کے بہت فضائل ہیں یہاں چند فضائل بیان کئے جاتے ہیں سیدنا حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وسلم)نے ارشاد فرمایا ہے کہ:

جس نے چاشت کی بارہ رکعتیں ادا کی تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں سونے کا محل بنائے گا۔ 

رواه الترندی و ابن ماجہ ( مشکوۃ ص ۱۱۶) (

 سید نا حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول خدا اشرف انبیاء ملی (صلی اللہ علیہ وسلم)نے فرمایا کہ صبح کرتا ہے ایک تمہارا کہ واجب ہر جوڑ پر صدقہ ( اور کل تین سو ساٹھ جوڑ ہیں ) ہر تسبیح صدقہ ہے ہر حمد صدقہ ہے ہر تکبیر صدقہ ہے اور اچھی بات کا حکم کرنا صدقہ ہے بری بات سے منع کرنا صدقہ ہے اور ان سب کی طرف سے دو رکعت چاشت نہ کی کفایت کرتی ہیں ۔

( مسلم ( مشکوۃ ص۱۱۶)

٭ صلوة الاوابین

یہ نماز مغرب کی نماز کے بعد پڑھی جاتی ہے اور اس کی چھ رکعتیں ہیں اور حدیث شریف میں اس نماز کی بڑی فضیلت آئی ہے۔

ترمذی و ابن ماجہ میں سید نا حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی ہیں کہ محبوب خدا اشرف انبیاء  (صلی اللہ علیہ وسلم)نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص مغرب کے بعد چھ رکعتیں پڑھے اور ان کے درمیان میں کوئی بری بات نہ کیے تو بارہ برس کی عبادت کے برابر کی جائیں گی۔

(مشکوة ص ۱۰۴)

طبرانی کی روایت سیدنا حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہے کہ فرماتے ہیں جو شخص مغرب کے بعد چھ رکعتیں پڑھے اس کے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں۔ اگر چہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں ۔ ترمذی کی روایت ام المومنین سیدہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ہے کہ جو مغرب کے بعد میں رکعت پڑھے اللہ تعالی اس کے لیے جنت میں ایک مکان بنائے گا

مسئلہ

ان چھ اور ہیں رکعتوں میں دو رکعتیں را تبہ بھی داخل ہیں ان دو رکعتوں کو جو سنت موکدہ ہیں ایک سلام کے ساتھ پڑھے اور باقیوں میں اختیار ہے۔ (مرقات)

٭ تحية الوضو

تحية الوضو کہ وضو کے بعد اعضاء خشک ہونے سے پہلے دو رکعت نماز پڑھنا مستحب ہے سیدنا حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اقدس لیہ السلام نے فرمایا : جو مسلمان وضو کرے اور اچھا وضو کرے اور ظاہر و باطن کے ساتھ متوجہ ہو کر دو رکعت پڑھے تو اس کے لیے جنت واجب ہو جاتی ہے۔

( مشكوة ص ٣٩)

مسئلہ
غسل کے بعد بھی دو رکعت نماز مستحب ہے وضو کے بعد فرض وغیرہ پڑھے تو قائم مقام تحیۃ الوضو کے ہو جائیں گے ۔ ( رد المختار )

٭ تحية المسجد

          جو شخص مسجد میں آئے اسے دو رکعت نماز پڑھنا سنت ہے۔ بلکہ بہتر یہ ہے کہ چار رکعت پڑھے سیدنا حضرت ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ راوی ہیں کہ سرکار مدینہ صلی یا ایلیم فرماتے ہیں۔ جب تم میں سے کوئی ایک مسجد میں داخل ہو تو بیٹھنے سے پہلے دو رکعت پڑھ لے۔

( رواه البخاری، مسلم ، مشکوۃ ص ۶۸)

مسئلہ

تحیۃ المسجد سے متعلق چند اہم مسائل یہ ہیں: اگر کوئی شخص ایسے وقت میں مسجد میں داخل ہو جس وقت نفل نماز پڑھنا مکروہ ہو، مثلاً طلوعِ فجر کے بعد یا نمازِ عصر کے بعد، تو وہ تحیۃ المسجد کی دو رکعتیں نہ پڑھے، بلکہ اس وقت تسبیح، تہلیل اور درود شریف میں مشغول ہو جائے، یہی کافی ہے اور مسجد کا حق ادا ہو جائے گا۔ اگر کسی شخص نے مسجد میں فرض، سنت یا کوئی اور نماز پڑھ لی — چاہے اس نے خاص طور پر تحیۃ المسجد کی نیت نہ بھی کی ہو — تب بھی تحیۃ المسجد ادا ہو جاتی ہے، بشرطیکہ وہ نماز مسجد میں داخل ہونے کے فوراً بعد ادا کی گئی ہو۔ اگر کوئی شخص مسجد درس یا ذکر کے لیے آیا ہو اور کوئی نماز ادا کر لے تو وہی نماز تحیۃ المسجد کے قائم مقام ہو گی، لیکن اگر بہت دیر بعد نماز پڑھے گا تو پھر باقاعدہ تحیۃ المسجد پڑھنا مستحب ہو گا۔ بہتر یہی ہے کہ مسجد میں داخل ہو کر بیٹھنے سے پہلے تحیۃ المسجد کی دو رکعتیں پڑھ لی جائیں، اور اگر کوئی شخص بغیر پڑھے بیٹھ جائے تو اس پر واجب تو نہیں رہا لیکن وہ ابھی بھی پڑھ سکتا ہے۔ ایک دن میں صرف ایک بار تحیۃ المسجد کافی ہے، ہر بار مسجد میں داخل ہونے پر ضروری نہیں۔ اگر کوئی شخص بغیر وضو کے مسجد میں آیا یا کسی اور وجہ سے تحیۃ المسجد نہیں پڑھ سکتا تو وہ چار مرتبہ یہ اذکار پڑھ لے:

“سبحان اللہ، والحمد للہ، ولا إله إلا اللہ، واللہ أکبر” یہ اس کے لیے کافی ہوں گے۔

(رد المختار )

نماز سفر

سفر میں جاتے وقت دور کعتیں اپنے گھر میں پڑھ کر جائے ۔ طبرانی کی حدیث شریف میں ہے کہ کسی نے اپنے اہل کے پاس ان دو رکعتوں سے بہتر نہ چھوڑا جو بوقت ارادہ سفران کے پاس پڑھیں۔

نماز واپسی سفر

سفر سے واپس ہو کر دور رکعتیں مسجد میں ادا کرے صحیح مسلم میں سید نا حضرت کعب بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول خدا اشرف انبیاء علی نے اپنی سفر سے دن میں چاشت کے وقت تشریف لاتے اور ابتدائی مسجد میں جاتے اور دو رکعتیں اس میں نماز پڑھتے پھرو ہیں مسجد میں تشریف رکھتے۔ (بہارشریعت جلد چہارم ص ۲۲)

نماز استخاره

حدیث صحیح جس کو مسلم کے سوا جماعت محدثین نے سید نا حضرت جابر بن عبدالله رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں کہ محبوب خدا سی سی ایم ہم کو تمام امور میں استخارہ کی تعلیم فرماتے جیسے کہ قرآن کی سورت تعلیم فرماتے تھے جب کوئی کسی امر کا قصد کرے تو دور کعت نفل پڑھے پھر کہے۔

 اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ، وَأَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ، وَأَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ الْعَظِيمِ، فَإِنَّكَ تَقْدِرُ وَلَا أَقْدِرُ، وَتَعْلَمُ وَلَا أَعْلَمُ، وَأَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ، اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هَذَا الْأَمْرَ خَيْرٌ لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي، أَوْ قَالَ: فِي عَاجِلِ أَمْرِي وَآجِلِهِ، فَاقْدِرْهُ لِي، وَيَسِّرْهُ لِي، ثُمَّ بَارِكْ لِي فِيهِ، وَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هَذَا الْأَمْرَ شَرٌّ لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي، أَوْ قَالَ: فِي عَاجِلِ أَمْرِي وَآجِلِهِ، فَاصْرِفْهُ عَنِّي، وَاصْرِفْنِي عَنْهُ، وَاقْدِرْ لِيَ الْخَيْرَ حَيْثُ كَانَ، ثُمَّ أَرْضِنِي بِهِ۔

 ( مشکوۃ ص ۱۱۶)

اور اپنی حاجت کا ذکر کرے خواہ بجائے ھذا الامر کے حاجت کا نام لے یا اس کے بعد ۔

مسئلہ

استخارے سے متعلق چند اہم مسائل اور آداب یہ ہیں: حج، جہاد اور دیگر نیک اعمال کے اصل فعل کے لیے استخارہ نہیں کیا جاتا کیونکہ وہ بذات خود خیر ہیں، البتہ ان اعمال کے وقت کے تعین یا دیگر تفصیلات کے لیے استخارہ کیا جا سکتا ہے۔ استخارہ کی سنت دعا پڑھنے سے پہلے اور بعد میں الحمد للہ اور درود شریف پڑھنا مستحب ہے، اور دو رکعت نماز میں پہلی رکعت میں “قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ” اور دوسری رکعت میں “قُلْ هُوَ اللّٰهُ أَحَدْ” پڑھنا افضل ہے۔ بعض مشائخ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ پہلی رکعت میں آیت “وَرَبُّكَ يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ وَيَخْتَارُ” تک اور دوسری رکعت میں “وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ” آخر آیت تک تلاوت کرے۔ استخارہ کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ اسے سات مرتبہ دہرایا جائے، جیسا کہ ایک حدیث میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ “جب کسی کام کا ارادہ کرو تو اپنے رب سے سات مرتبہ استخارہ کرو، پھر دیکھو دل میں کیا بات غالب آتی ہے، بیشک اسی میں خیر ہے”۔ بعض مشائخ کے نزدیک استخارے کے بعد باوضو، قبلہ رخ سو جانا بہتر ہے، اور اگر خواب میں سفیدی یا سبزی نظر آئے تو وہ کام بہتر ہوتا ہے، جبکہ سیاہی یا سرخی اس کام کے ناپسندیدہ ہونے کی علامت مانی جاتی ہے۔

صلوة التسبيح

اس نماز میں بے انتہا ثواب ہے بعض محققین فرماتے ہیں کہ اس کی بزرگی سن کر ترک نہ کرے گا مگر دین میں سستی کرنے والا ۔

حضور سرا پانور شافع یوم النشور سال سی ایم نے سیدنا حضرت عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے فرمایا اے چچا ! کیا میں تم کو عطا نہ کروں کیا میں تم کو بخشش نہ کروں کیا میں تم کو نہ دوں کیا میں تمہارے ساتھ احسان نہ کروں دس خصلتیں ہیں کہ جب تم کو اللہ تعالی تمہارا گناہ بخش دے گا اگلا پچھلا ، پرانا ، نیا ، جو بھول کر کیا ، اور جو قصدا کیا چھوٹا اور بڑا، پوشیدہ اور ظاہر۔

اس کے بعد صلوۃ التسبیح کی ترکیب تعلیم فرمائی پھر فرمایا کہ اگر تم سے ہو سکے تو ہرروز ایک بار پڑھا کرو اور اگر روزنہ کرو تو ہر جمعہ میں ایک بار ، اور یہ بھی نہ کرو تو ہر مہینہ میں ایک بار، اور یہ بھی نہ کرو تو سال میں ایک بار، اور یہ بھی نہ کرو تو عمر میں ایک بار۔

اور اس کی ترکیب ہمارے طور پر وہ ہے جو سنن ترمذی میں بروایت سیدناحضرت عبداللہ بن مبارک رضی اللہ تعالی عنہات مذکور ہے فرماتے ہیں کہ اللہ اکبر کہہ کر سبحانك اللهم و بحمدک و تبارک اسمک و تعالی جنگ و لا اله غیرک پڑھے پھر یہ پڑھے سبحان الله وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهَ وَاللَّهُ اکبر پندره بار پھر اعوذ باللہ اور بسم اللہ اور احمد شریف اور سورت پڑھ کر دس بار یہی تسبیح پڑھے پھر رکوع کرے اور رکوع میں دس بار پڑھے پھر رکوع سے سر اٹھائے اور بعد تسبیح و تحمید دس بار پڑھے پھر سجدہ کو جائے اور اس میں دس بار پڑھے پھر جلسہ میں دس بار پھر دوسرے سجدہ میں دس بار پڑھے یوں ہی چار رکعت پڑھے ہر رکعت میں ۷۵ بار تسی اور چاروں رکعتوں میں تین سو ہوئیں اور رکوع وسجود میں سبحان رَبِّيَ الْعَظِيمِ سَبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى کہے کے بعد تسبیحات پڑھے۔  

(خالیه و غیر با )

مسئلہ

نمازِ استخارہ یا نفل نمازوں سے متعلق چند فقہی نکات یہ ہیں: حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے جب پوچھا گیا کہ نمازِ استخارہ میں کون سی سورتیں پڑھنا افضل ہیں؟ تو آپ نے فرمایا: سورۃ التّكاثر، والعصر، وقُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ، وقُلْ هُوَ اللّٰهُ أَحَد، اور بعض اکابرین کے نزدیک سورۃ الحديد، الحشر، الصف، والتغابن بھی پڑھنا مستحب ہے۔ (رد المحتار)۔ اگر نماز میں سجدہ سہو واجب ہو جائے اور سجدہ کر لیا جائے تو ان سجدوں میں عام تسبیحات نہ پڑھی جائیں۔ اور اگر کسی نماز میں تسبیح بھول کر دس بار سے کم پڑھی گئی ہو تو دوسری مناسب جگہ پر پوری مقدار پوری کر لینا مستحب ہے، مثلاً اگر رکوع میں تسبیح کم ہوئی تو بہتر ہے کہ سجدے میں پوری کر لے، کیونکہ قومہ کی مدت مختصر ہوتی ہے، اس میں پڑھنا مناسب نہیں۔ اسی طرح اگر پہلا سجدہ میں تسبیح رہ جائے تو دوسرا سجدہ اس کی تلافی کے لیے کافی ہوگا، جلسہ میں کہنا مناسب نہیں۔ (رد المختار)۔ مزید یہ کہ تسبیحات کو انگلیوں پر شمار نہ کیا جائے، بلکہ اگر ممکن ہو تو دل ہی میں گنتی رکھے، ورنہ انگلیاں دبا کر شمار کر لے۔ یہ نفل نماز ہر غیر مکروہ وقت میں ادا کی جا سکتی ہے، مگر افضل وقت ظہر سے پہلے کا ہے۔ (عالمگیری، رد المختار)۔

نماز حاجت

ابوداؤ دسید نا حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہتے ہیں کہ جب سید العالمین رحمتہ اللعالمین شفیع المذنبین سایت از پیم کو کوئی امر فہم پیش آتا تو نماز پڑھتے اس کے لیے دور کعت یا چار رکعت پڑھتے ۔ حدیث شریف میں ہے کہ پہلی رکعت میں سورۂ فاتحہ اور تین بار آیت الکرسی پڑھے او باقی تین رکعتوں میں سورۂ فاتحہ اور قل ھو اللہ احد اور قل اعوذ برب الفلق اور قل اعوذ برب الناس ایک ایک بار پڑھے تو یہ ایسے ہیں جیسے شب قدر میں چار رکعتیں پڑھیں حضرات مشائخ فرماتے ہیں کہ ہم نے یہ نماز پڑھی اور ہماری حاجتیں پوری ہوئیں ۔

ایک حدیث شریف میں ہے جس کو ترمذی وابن ماجہ نے سیدنا حضرت عبد الله بن ابی اوفی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا کہ حضور اقدس سلا می ایام فرماتے ہیں کہ جس کی کوئی حاجت اللہ تعالیٰ کی طرف ہو یا کسی آدم کی طرف تو اچھی طرح وضو کرے پھر دو رکعت نماز پڑھ کر اللہ جل شانہ کی ثناء کرے اور نبی اکرم روف رحیم ال اس اسلم پر درود شریف بھیجے پھر یہ پڑھے۔

 لَا إِلَٰهَ إِلَّا اللَّهُ الْحَلِيمُ الْكَرِيمُ، سُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ،

اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مُوجِبَاتِ رَحْمَتِكَ، وَعَزَائِمَ مَغْفِرَتِكَ، وَالْغَنِيمَةَ مِنْ كُلِّ بِرٍّ، وَالسَّلَامَةَ مِنْ كُلِّ إِثْمٍ،

لَا تَدَعْ لِي ذَنْبًا إِلَّا غَفَرْتَهُ، وَلَا هَمًّا إِلَّا فَرَّجْتَهُ، وَلَا حَاجَةً هِيَ لَكَ رِضًا إِلَّا قَضَيْتَهَا، يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔

( مشکوة ص ۱۱۷)

ترمذی اور ابن ماجہ وطبرانی وغیرہ میں سیدنا حضرت عثمان بن حنیف رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہیں کہ ایک صاحب نابینا حاضر خدمت اقدس ہوئے اور عرض کی کہ اللہ تبارک و تعالی سے دعا کریں کہ مجھے عافیت دے ارشاد فرمایا کہ اگر تو چاہے تو دعا کروں اور چاہے صبر کر اور یہ تیرے لیے بہتر ہے انہوں نے عرض کی حضور ملی تا پیہم دعا کریں تو آپ نے انہیں حکم فرما یا وضو کرو اور اچھا وضو کرو اور دو رکعت نماز پڑھ کر یہ دعا پڑھو۔

اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ وَأَتَوَجَّهُ إِلَيْكَ بِنَبِيِّكَ مُحَمَّدٍ نَبِيِّ الرَّحْمَةِ، يَا مُحَمَّدُ، إِنِّي تَوَجَّهْتُ بِكَ إِلَى رَبِّي فِي حَاجَتِي هٰذِهِ لِتُقْضَى لِي، اللَّهُمَّ فَشَفِّعْهُ فِيَّ۔

سید نا حضرت عثمان بن حنیف رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں خدا کی قسم ہم ابھی اٹھنے بھی نہ پائے تھے باتیں ہی کر رہے تھے کہ وہ ہمارے پاس آئے گو یا کبھی اندھے تھے ہی نہیں۔

(حصن حصین ص ۳۲۷) ( بہار شریعت ج ۴ ص ۳۰)

نیز قضائے حاجت کے لیے یہ مجرب نماز جو علمائے کرام ہمیشہ پڑھتے آئے یہ ہے کہ سید نا حضرت امام اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مزار پر جا کر دو رکعت نماز پڑھے اور امام کے وسیلہ سے اللہ عز وجل سے سوال کرے سید نا حضرت امام شافعی فرماتے ہیں کہ میں ایسا کرتا ہوں تو بہت جلد میری حاجت پوری ہو جاتی ہے۔ ( خیرات الحسان )

 نماز تو بہ

تر ندی اور ابن ماجہ سید نا حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتےہیں کہ سرکار مدینہ سانس اسلیم فرماتے ہیں کہ جب کوئی بندہ گناہ کرے پھر وضو کر کے نماز پڑھے پھر استغفار کرے تو اللہ تعالی اس کے گناہ بخش دے گا پھر یہ آیت پڑھے۔ اور جنہوں نے بے حیائی کا کوئی کام کیا یا اپنی جانوں پر ظلم کیا پھر اللہ تعالیٰ کو یاد کیا اور اپنے گناہوں کی بخشش مانگی اور کون گناہ بخشے اللہ تعالیٰ کے سوا اور اپنے کئے پر ہٹ نہ کی حالانکہ وہ جانتے ہیں۔

نماز استسقاء

استقاء دعا اور استغفار کا نام ہے۔ استسقاء کی نماز جماعت سے جائز ہے مگر جماعت اس کے لیے سنت نہیں چاہے جماعت سے پڑھیں یا تنہا تنہا دونوں طرح اختیار ہے ۔ (در مختار وغیرہ )

مسئلہ

نمازِ استسقاء کے آداب یہ ہیں کہ تذلّل، خشوع، خضوع اور تواضع کے ساتھ پرانے یا پیوند لگے کپڑے پہن کر، سر برہنہ اور بہتر یہ ہے کہ پابرہنہ، پیدل میدان کی طرف جائیں۔ جانے سے پہلے صدقہ و خیرات کریں اور کفار کو ساتھ نہ لے جائیں کیونکہ وہ رحمت کے لیے جاتے ہیں جبکہ کفار پر لعنت نازل ہوتی ہے۔ تین دن پہلے روزے رکھیں، دل سے توبہ و استغفار کریں اور جن لوگوں کے حقوق اس پر ہیں، وہ ادا کرے یا معاف کرائے۔ میدان میں جا کر ضعیفوں، بوڑھوں، بزرگوں، عورتوں اور بچوں کے وسیلے سے دعا کی جائے اور سب “آمین” کہیں، کیونکہ حدیثِ صحیح کے مطابق نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: “هَلْ تُنْصَرُونَ وَتُرْزَقُونَ إِلَّا بِضُعَفَائِكُمْ” (صحیح بخاری) یعنی تمہیں نصرت اور روزی تمہارے کمزوروں کے سبب سے ملتی ہے۔ اور ایک روایت میں ہے کہ اگر خشوع کرنے والے جوان، چرنے والے جانور، رکوع کرنے والے بوڑھے، اور دودھ پینے والے بچے نہ ہوتے تو تم پر عذاب کی بارش برستی۔ اس وقت بچے اپنی ماؤں سے جدا رکھے جائیں اور مویشی ساتھ لے جایا کریں تاکہ سب اسبابِ رحمت مہیا ہوں۔ تین دن مسلسل جنگل میں جا کر دعا کی جائے، امام دو رکعت جہر کے ساتھ نماز استسقاء پڑھائے، پہلی رکعت میں ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى﴾ اور دوسری رکعت میں ﴿هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ﴾ پڑھے، پھر زمین پر کھڑے ہو کر خطبہ دے، بہتر یہ ہے کہ دو خطبے ہوں اور درمیان میں وقفہ کرے، اگر ایک خطبہ ہو تب بھی جائز ہے۔ خطبہ میں دعا، تسبیح، استغفار کرے، اور اثنائے خطبہ میں چادر کو الٹ دے یعنی اوپر کا کنارہ نیچے اور نیچے کا اوپر کر دے کہ یہ حال کے بدلنے کی علامت ہو۔ خطبہ کے بعد امام قبلہ رخ ہو کر دعا کرے اور مقتدی پیچھے ہوں، ہاتھ بلند کرے اور دعا وہ پڑھے جو احادیث میں آئی ہو، ہاتھوں کی پشت آسمان کی طرف ہو۔ اگر دعا سے پہلے ہی بارش ہو جائے، تب بھی جائیں اور شکر ادا کریں، اور بارش کے وقت یہ دعا پڑھیں: اللَّهُمَّ صَيِّبًا نَافِعًا یا اللَّهُمَّ سَيِّبًا نَافِعًا (دونوں صحیح ہیں)، دو یا تین مرتبہ۔ اگر بادل گرجے یا بجلی کڑکے تو یہ دعا پڑھیں: اللَّهُمَّ لَا تَقْتُلْنَا بِغَضَبِكَ، وَلَا تُهْلِكْنَا بِعَذَابِكَ، وَعَافِنَا قَبْلَ ذَٰلِكَ، اور ساتھ ہی یہ بھی: سُبْحَانَ الَّذِي يُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِهِ، وَالْمَلَائِكَةُ مِنْ خِيفَتِهِ۔ اور اگر بارش کی زیادتی نقصان دہ ہو تو روکنے کی دعا کریں: اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا، اللَّهُمَّ عَلَى الْآكَامِ وَالظِّرَابِ، وَبُطُونِ الْأَوْدِيَةِ، وَمَنَابِتِ الشَّجَرِ۔ یہ دعا صحیح بخاری و مسلم میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ (فتاویٰ عالمگیری، درمختار، ردالمحتار، حصن حصین)

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top