مشکلات میں اللہ پر بھروسہ
ابتدائیہ :جب زمانہ مخالف ہو، حالات سینہ تان کر کھڑے ہوں، اور ہر طرف ناامیدی کے سائے گہرے ہو جائیں۔ تب سوال یہ نہیں ہوتا کہ مسئلہ کتنا بڑا ہے، بلکہ یہ ہوتا ہے کہ بھروسہ کس پر ہے؟ توکل علی اللہ محض ایک نعرہ نہیں، بلکہ وہ انقلابی قوت ہے جس نے آگ کو گلزار، سمندر کو راستہ اور کمزوری کو طاقت بنا دیا۔ یہ تحریر ہمیں جھنجھوڑنے آئی ہے کہ ہم اپنے سہارے بدلیں، اپنے یقین کو زندہ کریں، اور سیکھیں کہ مشکلات میں اللہ پر بھروسہ کیوں اور کیسے کیا جاتا ہے۔
- مشکلات میں اللہ پر بھروسہ
- توکل علی اللہ: مشکلات میں اللہ پر بھروسہ کیوں اور کیسے کریں؟
- توکل کی بنیاد: ایمان باللہ اور اس کی صفت "الوکیل" پر یقین
- قرآن و حدیث کی روشنی میں توکل کے فوائد اور مراتب۔
- توکلت عل اللہ انبیاء علیہم السلام کا شعار۔
- توکل کی حقیقت
- توحید کے چار درجات — توکل کی بنیادیں
- توحید کے مقامات: منافق، عوام، متکلم اور عارف کی توحید
- منافق کی توحید
- عوام، متکلم
- عارف کی توحید
- توکل ناممکن کو ممکن کردینے والا مظبوط عَصا
توکل علی اللہ: مشکلات میں اللہ پر بھروسہ کیوں اور کیسے کریں؟
اندھیروں میں روشنی: توکل کی حقیقت اور اہمیت
انسان کی زندگی امتحانوں سے بھری ہوئی ہے۔ کبھی رزق کی فکر، کبھی بیماری کا خوف، کبھی اپنوں کی بے رُخی اور کبھی حالات کی سختی۔ ایسے لمحات میں انسان سب سے پہلے دروازے کھٹکھٹاتا
کبھی اسباب کے، کبھی لوگوں کے، اور کبھی اپنی عقل و تدبیر کےہےمگر سوال یہ ہے: کیا ہر دروازہ کھلتا ہے؟
اور اگر کھلتا بھی ہے تو کیا دل کو سکون ملتا ہے؟
توکل کیا ہے؟ — لغوی اور اصطلاحی معنیٰ
لفظ ” توکل “کے لغوی معنی ہیں: اپنی ذات سے ہٹ کر کسی دوسرے پر انحصار کرنا اور اس انحصار پر مکمل اعتماد رکھنا۔ یہی وجہ ہے کہ جب انسان اپنے مسائل کا حل خود تلاش کرنے میں ناکام ہو جاتا ہے تو وہ فطری طور پر ایسی ذات کی طرف متوجہ ہوتا ہے جس کے پاس اس کی پریشانیوں کو ختم کرنے کا اختیار ہو، اور جس پر وہ پورے یقین اور اعتماد کے ساتھ بھروسہ کر سکے۔
اسلام ہمیں اسی فطری تلاش کا درست رخ دکھاتا ہے۔ وہ ہمیں ایک ایسا دروازہ دکھاتا ہے جو کبھی بند نہیں ہوتا، ایک ایسا سہارا سکھاتا ہے جو کبھی کمزور نہیں پڑتا، اور ایک ایسی نسبت عطا کرتا ہے جو ہر حال میں کام آتی ہے۔—اور وہ ہے توکل علی اللہ۔
توکل کی بنیاد: ایمان باللہ اور اس کی صفت “الوکیل” پر یقین
توکل محض ایک لفظ نہیں، نہ ہی صرف زبان سے کہہ دینے کا نام ہے، بلکہ یہ دل کا وہ مضبوط یقین ہے جو انسان کو اسباب کے ہجوم میں بھی اللہ تعالیٰ سے جوڑے رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں مسلمان پیدا فرمایا اور ہمیں یہ ایمان عطا کیا کہ وہ اپنی ہر صفت میں کامل ہے۔ انہی صفاتِ کمالیہ میں سے ایک عظیم صفت “الوکيل” ہے—یعنی وہ ذات جو کام بنانے والی ہے، بگڑے حالات کو سنوارنے والی ہے، اور ناممکن کو ممکن کرنے والی ہے۔
جب اللہ تعالیٰ کسی کا معاملہ اپنے ذمے لے لیتا ہے تو وہ ایسے راستوں سے کام بناتا ہے جن کا انسان تصور بھی نہیں کر سکتا۔ آگ کا ٹھنڈا ہو جانا، سمندر کا راستہ بن جانا، کمزوری کا طاقت میں بدل جانا—یہ سب توکل ہی کے روشن مظاہر ہیں، جو اس بات کا اعلان کرتے ہیں کہ اصل سہارا نہ اسباب ہیں اور نہ مخلوق، بلکہ خالقِ اسباب ہے۔
یہ بلاگ ہمیں اسی حقیقت کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ: توکل کیا ہے؟
اس کی بنیاد کن ایمانی حقائق پر ہے؟
اور بندہ کب، کیسے اور کس درجے پر پہنچ کر پورے شعور اور یقین کے ساتھ “حَسْبِيَ اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيل” کہنے کا حق دار بنتا ہے؟
آئیے! اس تحریر میں ہم توکل کی حقیقت، اس کے درجات، اور اس کے روحانی مقامات کو قرآنِ کریم، انبیاء علیہم السلام اور اکابرِ امت کے اقوال کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ ہمارا بھروسہ محض دعویٰ نہ رہے بلکہ ایک زندہ، عملی اور مؤثر حقیقت بن جائے۔
قرآن و حدیث کی روشنی میں توکل کے فوائد اور مراتب۔
توکل کرنے والے کے لیے اللہ کافی ہے — تفسیر آیات
ہمیں اللہ تعالیٰ نے مسلمان پیدا فرمایا ہے اور ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی ہر صفت میں کامل ہے ۔ اور اللہ تعالیٰ کی ان صفات کمالیہ میں سے ایک صفت” الوکیل”ہے یعنی کارساز ، بگڑے کام بنانے والا۔
اگر اللہ تعالیٰ کسی کا کام بنانے پر آجائے تو اس طرح کام بناتا ہے کہ آدمی کے وہم و گمان میں بھی وہاں سے کام بنا نہیں ہوتا ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں جلنے سے بچایا جہاں آدمی بچنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔
اسی طرح اللہ تعالیٰ ہمارے بھی کام بنا سکتا ہے اور پریشانیوں کو دور کر سکتا ہے، لیکن اسکےلیے ہمیں اللہ پر کامل بھروسہ کرنا پڑے گا۔
توکلت عل اللہ انبیاء علیہم السلام کا شعار۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کے توکل کی مثال
جیسا کہ سیدناحضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام نے کِیا کہ جب انہیں آگ میں پھینکنے کے لیے منجنیق میں رکھا گیا تو حضرت جبرائیلِ امین علیہ السلام نے آکر ان سے عرض کیا: “کیا آپ کو میری مدد کی ضرورت ہے۔”
توسیدنا حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی ذات پر مکمل بھروسہ کیا اور اس کا اظہار اپنی
زبان مبارک سے ان الفاظ سے کیا:
حَسْبِيَ اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيل
( سورۃ توبہ، آیت 129 )
ترجمہ: میرے لیے اللہ ہی کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے۔
اسی طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد علیہ السلام پر یہ وحی نازل فرمائی کہ :
“جو مجھ سے دعا کرتا ہے میں اس کی دعا کو قبول کرتا ہوں اور جو مجھ سے فریاد کرتا ہے میں اس کی فریاد رسی کرتا ہوں ۔ اور جو مجھ سے مدد مانگتا ہے تومیں اس کی مدد کرتا ہوں اور جو مجھ پر توکل کرتا ہے میں اس کے لیے کافی ہو جاتا ہوں۔
لہٰذا میں تو کل کرنے والے کے لیے کافی ہوں اور مدد مانگنے والوں کی مدد کرنے والا ہوں اور فریادیوں کی فریاد رسی کرنے والا ہوں اور دعا مانگنے والوں کی دعائیں قبول کرنے والاہوں ۔
اللہ تعالی قرآن میں تو کل کرنے والوں کے متعلق فرماتے ہیں :
وَ مَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللهِ فَهُوَ حَسْبُهُ إِنَّ اللهَ بَالِغُ أَمْرِهِ قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لِكُلِّ شَيْءٍ قَدْرًا
(سورۃ طلاق آیت نمبر 3)
ترجمہ:اور جو کوئی اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھے وہ اس کو کافی ہے۔ یقینا اللہ تعالیٰ اپنا کام پورا کرنے والا ہے۔ بے شک اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کا اندازہ مقرر کیاہے۔
: اس آیت شریفہ کی تفسیر میں حضرت ربیع بن خثیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں
اللہ تعالیٰ اس کیلئے ہر چیز کے مقابلہ میں کافی ہو جاتے ہیں جو لوگوں کیلئے تنگی کا سبب بنتی ہے ۔
حضرت مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں :
” یعنی جو شخص اللہ تعالیٰ پر توکل اور بھروسہ کرے گا اللہ تعالیٰ اسکی مشکلات کیلئے کافی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے کام کو جس طرح چاہے پورا کرکے رہتا ہے اس نے ہر چیز کا ایک اندازہ مقرر کر دیا ہے اسی کے مطابق سب کام ہوتے ہیں “
جب کوئی مشکل آجائے تو:
امام ابن ابی الدنیا لکھتے ہیں: سُلطان الانبیاء تاجدارِ کائنات نُورِ کائنات فخرِ موجودات پیارے کریم آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب بندے کو کوئی غم، کوئی مصیبت آجائے تو پڑھے:
حَسْبِيَ الرَّبُّ مِنَ الْعِبَادِ، حَسْبِيَ الخَالِقُ مِنَ المَخْلُوقِينَ، حَسْبِيَ الرَّازِقُ مِنَ المَرْزُوْقِيْنَ، حَسْبِيَ الَّذِي هُوَ حَسْبِيْ، حَسْبِيَ اللهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ، حَسْبِيَ الله ُلَا اِلٰهَ اِلَّا هُوَ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ
ترجمہ: بندوں کی بجائے مجھے ربِّ کریم کافی ہے، مخلوقات کے مقابلے میں مجھے خَالِق کافی ہے، رِزق کے وسیلوں کی بجائے مجھے خود رَزِاق کافی ہے، مجھے وہ کافی ہے، مجھے اللہ سبحانہ وتعالیٰ کافی ہے وہ بہترین بگڑی بنانے والا ہے، مجھے اللہ سُبحانہ وتعالیٰ کافی ہے اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں، اسی پر میرا بھروسہ ہے، وہ عرش ِ عظیم کا رَبّ ہے۔
بحوالہ:موسوعہ ابن ابی دنیا، الفرج بعد الشدة ، جلد:2، صفحہ:114، حدیث:54۔
توکل کی حقیقت
قرآن کریم میں ایک جگہ اللہ تعالیٰ توکل سے متعلق فرماتے ہیں ؛
حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ
(سورۃ آلِ عمران آیت نمبر 173)
ترجمہ:” کافی ہے ہم کو اللہ اور کیا خوب کارساز ہے”
توحید کے چار درجات — توکل کی بنیادیں
توکل کی ایک حالت جو ایمان کا ثمرہ ہے اور ایمان کے بہت سے ابواب ہیں ۔لیکن ان سب میں سے دو پر ایمان لانا توکل کی بنیاد ہے:
۔1-توحید پر
۔2-کمالِ لطف و رحمت پر
توحید کی تفصیل طویل ہے اور اسکا علم علوم کی انتہاء ہے۔ لیکن ہم صرف اس قدر بیان کریں گے جس پر کہ توکل کی بنیاد ہے ۔ توحید کے چار درجات ہیں ، اور اسکا ایک مغز ہے اور پھر اسی مغز کا بھی ایک مغز ہے اور توحید کا ایک چھلکا ہےاور اس چھلکے کا بھی ایک چھلکا ہے توتوحید کے دو مغز اور دو چھلکے ہیں ۔ اس کی مثال کچے اخروٹ جیسی ہے کہ اسکے دو چھلکے اور ایک مغز ظاہر ہے اور جو اسکا روغن ہے وہ مغز کا بھی مغز ہے ۔
درجہ نمبر 1:(مغز) زبانی اقرار اور تقلیدی عقیدہ
انسان لاالہ اللہ کہے اور دل سے اعتقاد رکھے عوام الناس یا متکلم کی طرح یعنی ایک نوع کی دلیل سے اعتقاد رکھے ۔
درجہ نمبر 2:(مغزکامغز) دل سے اعتقاد اور دلیل پر یقین
اس کلمہ کے معنی کا دل سے اعتقاد رکھے عوام الناس یا متکلم کی طرح یعنی ایک نوع کی دلیل سے اعتقاد رکھے ۔
درجہ نمبر 3:(چھلکا) مشاہدے کی توحید ،،،، دل کی آنکھ کا کھلنا
مشاہدات سے دیکھے کہ سب کی اصل ایک ہے اور فاعل ایک سے زیادہ نہیں ۔ اور کوئی دوسرا فاعل نہیں اور یہ ایک نور ہوتا ہے جو دل میں پیدا ہوتا ہے اور اس نور سے یہ مشاہدہ حاصل ہوتا ہے اور یہ عوام الناس یا متکلم کے عقائد کی طرح نہیں کیونکہ ان کا اعتقاد ایک گرہ ہے جو تقلید یا دلیل کے صلہ سے دل پر لگ جاتی ہے اور مشاہدہ ہوتا ہےاس سے دل کھل جاتا ہے اور سب گرہوں کو اُٹھا دیتا ہے اور قیود کو توڑ ڈالتا ہے ۔
مثال:
عوام الناس کی تقلید کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص اسباب پر اعتقاد کرے کہ فلاں ، شخص گھر میں ہے اس سبب سے کہ فلاں ، شخص کہتا ہے اور عام آدمی کی تقلید ہے کہ جو اس نے اپنے ماں باپ سے سنا تھا اور متکلم کے اعتقاد کی مثال ایسی ہے کہ کوئی شخص دروازے پر گھوڑے اور نوکر کو دیکھ کر اعتقاد کرلے کہ فلاں شخص گھر میں ہےکیونکہ متکلم نے اس کا اس دلیل سے قیاس کیا اور جو شخص اس شخص کو گھر میں دیکھ لے یہ عارفوں کی توحید کی مثال ہے کیونکہ وہ مشاہدہ کرتے ہیں ۔
اگرچہ اس توحید کا بڑادرجہ ہے لیکن عارف اس مقام پر خالق کو بھی دیکھتا ہے اور مخلوق کو بھی ۔ اور جانتا ہےکہ خلق خالق سے ، ظہور میں آئی ہے تو اس درجہ کی توحید میں کثرت کو دخل ہے اور عارف جب تک دو کو ملاحظہ کرتا ہے تفرقہ میں رہتا ہے جمع نہیں ہوتا اور یہ کمال توحید نہیں۔
درجہ نمبر 4ف:(چھلکے کا بھی چھلکا)فنا فی التوحید ،،،، صرف ایک کی ذات کا مشاہدہ
سوائےایک کے نہ دیکھے اور سب کو ایک ہی ملاحظہ کرے اور ایک ہی سمجھے اور اس مشاہدہ میں تفرق کو کوئی دخل نہ ہو صوفیاء کرام اس درجہ کو فنافی التوحید کہتے ہیں کہ حضرت حسین حلاج بن منصور حمتہ اللہ علیہ نے، حضرت خواص رحمۃ اللہ علیہ کو بیابان میں روتے ہوئے دیکھا، کہا،، کیا کرتا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا اپنے قدم توکل میں درست کر رہاہوں ۔ حضرت حسین بن منصور حلاج رحمۃ اللہ علیہ نےکہا،کہ تم نے اپنی عمر تو باطن کی آبادی میں گزار دی بھلا نیستی سے مقام توحید پر کب پہنچو گے ۔
توحید کے مقامات: منافق، عوام، متکلم اور عارف کی توحید
توحید کے چار مقام ہیں اور وہ یہ ہیں :
منافق کی توحید
اوریہ چھلکا کا چھلکا ہے جیسا کہ اخروٹ کا اُوپر کا چھلکا کھانے میں بد ذائقہ معلوم ہوتا ہے اگرچہ بظاہر وہ سبز ہوتا ہے لیکن اگر اسکو اندر کی جانب سے ملاحظہ کریں تو بُرا ہوتا ہے اور اگر اسے جلایا جائے تو دھواں دیتا ہے اور آگ بجھا دیتا ہے اور اگر اپنے پاس رکھیں تو کوئی کام نہ آئے بلکہ صرف جگہ روک لیتا ہے وہ سوائے اسکے کسی کام کا نہیں ہوتا ،کہ چند روز تک اسے اخروٹ پر لگا رہنے دیں تاکہ اندر والے چھلکے کو تازہ رکھنے کا باعث ہو اور اسے آفات سے محفوظ رکھےتو اسی طرح منافق کی توحید بھی ہےیہ کسی کام کی نہیں مگر یہ منافق کےپوست کو تلوار سے بچائے گی ۔اور منافق کا پوست اس کا بدن ہے ۔ اس نے محض زبانی توحید کے سبب سے تلوار سے نجات پائی۔یعنی دنیا میں منافق کو قتل نہ کیا گیا ۔ لیکن جب اسکا بدن جاتا رہا اور صرف جان ہی جان باقی رہ گئی تو پھر ایسی توحید کچھ سود مند نہ ہوئی ۔ جس طرح کے اخروٹ کے اندر کا چھلکا جلانے کے کام نہیں آتا ۔
صرف اس کام کا ہوتا ہے کہ اسے اخروٹ لگا رہنے دیں تاکہ مغز ہمیشہ اسکی حمایت میں رہے اور تباہ ہونے سے بچے اور یہ چھلکا بمقابلہ مغز کے نہایت حقیراور ناچیز ہوتا ہے ۔
عوام، متکلم
اسی طرح متکلم اور عوام النا س کی توحید ہے کہ ان کے مغز کو یعنی جان کو دوزخ کی آگ سے بچاتی ہے۔ اگرچہ یہ توحید اس کام تو آتی ہے لیکن مغز اور روغن کی لطافت سے خالی ہوتی ہے اور جس طرح اخروٹ کا مغز مقصود و عزیز ہوتا ہے لیکن جب اسکا مقابلہ روغن سے کیا جائے گا تو اس کے مقابلہ میں ایک نقل (بوجھ ) سے زیادہ حیثیت نہ رکھے گا اور فی نفسہ کمال صفائی کو نہیں پہنچا ہوا ہوتا ۔ توحید کا یہ درجہ بھی کثرت تفرقہ اور زیادتی سے خالی نہیں ۔
عارف کی توحید
لیکن کمال درجہ کی مصفا توحید درجہ چہارم ہے کیونکہ اس میں حق ہی حق رہتا ہے اور سوائے ایک کے دوسری کسی شے کو نہیں دیکھتا اور اپنے آپ کو بھی فراموش کر دیتا ہے اور جیسے دوسری چیزیں اس کی نظر میں نیست ہوجاتی ہیں وہ خود بھی اپنے دیکھنے میں نیست ہو جاتا ہے یعنی اسکو اپنی ہستی بھی نظر نہیں آتی ۔
توکل ناممکن کو ممکن کردینے والا مظبوط عَصا
لہٰذا مشکلات کے ان گھنے جنگلوں میں، جہاں ہر قدم پر مایوسی کے کانٹے بکھرے ہوں، جہاں اسباب کے دروازے بند ہوتے دکھائی دیں، وہاں توکل علی اللہ ہی وہ مضبوط عصا ہے جو نہ صرف راستہ دکھاتا ہے بلکہ منزل تک پہنچانے کا ذریعہ بھی بنتا ہے۔ یہ محض ایک نظریہ نہیں، بلکہ انبیاء و اولیاء کا عملی اسلوب زندگی رہا ہے، جس کی روشنی میں انہوں نے ناممکن کو ممکن بنایا۔
توکل کی حقیقت صرف یہ نہیں کہ ہم اللہ پر بھروسہ کریں، بلکہ یہ کہ ہمارا ہر عمل، ہر فکر، اور ہر امید اس یقین کے تابع ہو کہ “حَسْبِيَ اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيل”۔ جب بندہ اپنی عاجزی کو پہچان کر خالقِ کائنات کے سامنے دستِ سوال دراز کرتا ہے، تو پھر اللہ تعالیٰ اس کے لیے ایسے راستے کھول دیتا ہے جو اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتے۔
ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صفت “الوکیل” ہمارے ہر مسئلے کا حل ہے، ہر پریشانی کا مداوا ہے، اور ہر مشکل کے بعد آسانی کا وعدہ ہے۔ توکل کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اسباب کو بروئے کار لائیں، لیکن ان پر انحصار نہ کریں؛ کوشش کریں، لیکن نتیجہ اللہ پر چھوڑ دیں؛ دعا کریں، اور پھر سکونِ قلب کے ساتھ اس کے فیصلے کا انتظار کریں۔
یاد رکھیے، توکل ایمان کا خلاصہ ہے، اور جو اللہ پر توکل کرتا ہے، اللہ اس کے لیے کافی ہو جاتا ہے۔ ہمارے اسلاف نے اسی توکل کی بدولت وہ عظیم کام کیے جو تاریخ کا حصہ بن گئے۔ آج بھی اگر ہم اپنے دلوں میں توکل کی شمع روشن کریں، تو اندھیرے چھٹ جائیں گے، مشکلات آسان ہو جائیں گی، اور زندگی کے بحران بھی پُرسکون راستے میں بدل جائیں گے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں توکل کی حقیقت کو سمجھنے اور اسے اپنی زندگیوں میں مکمل طور پر اتارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین۔
(اختتامِ تحریر)
✍️ بقلم: سُلطان الوظائف طبیبِ ملت حضرت سرکار پیرابونعمان رضوی سیفی
(بحوالہ: بہارِ سیفیہ، حصہ سوم)

بیشک ماشاءاللہ
سبحان اللہ